چور نے کسے منہ چڑایا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں گھر کے قریب واقع بینک کے باہر رہزن ایک شہری سے پانچ لاکھ روپے دن دہاڑے لوٹ کر یہ جا وہ جا ہوئے۔ بینک کی حفاظت پر مامور پولیس کانسٹبل اور نجی سیکیوریٹی کمپنی کے گارڈز شہری کو لٹتا دیکھتے رہے۔ یہ واقعہ میڈیا میں بھی رپورٹ ہوا۔ ایسی کامیاب رہزنی اور حفاظتی عملے کی چشم پوشی کے بعد جرائم پیشہ افراد کے حوصلے بلند ہونا، کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ اس طرح کی لوٹ مار بعض دفعہ بینک کے عملے کی رہزن کو اطلاع فراہم کرنے سے بھی ہو جاتی ہے اور بعض دفعہ پولیس اہل کار بھی چوروں اور رہزنوں کے ساتھ ملے ہوتے ہیں۔

اے ٹی ایم مشین کو توڑنا پھوڑنا، ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ چوری اور چھین کر کے شہریوں کو لوٹنا فی زمانہ ایک عام بات ہو گئی ہے۔ چور، ڈاکو، رہزن ایک زمانہ تھا کہ لوٹ مار کرنے کے بعد ڈر ڈرا کے، دم دبا کے یا دیدہ دلیری سے ہوائی فائرنگ کر کے موقع واردات سے فرار ہو جایا کرتے تھے۔ لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے۔

ایک چور کی ویڈیو ٹی وی پر نشر ہوئی، جس میں متشرع چور صاحب اے ٹی ایم مشین کی سکرین کو بذریعہ طاقت زور سے ہلا جلا رہے ہیں۔ یہ عمل انجام دینے کے بعد موصوف باہر نکلنے سے قبل کیمرے کی طرف دیکھ کر زبان باہر نکال کر منہ چڑاتے ہیں اور پھر قسمت کا مارا ایک شہری اے ٹی ایم مشین میں اپنا کارڈ آ کر ڈالتا ہے۔ چور کے مشین کی سکرین ہلانے جلانے سے مشین میں نقص پیدا ہو جاتا ہے اور شہری کا کارڈ مشین میں پھنس جاتا ہے۔ شہری مایوس باہر نکل جاتا ہے۔

اب موصوف چور صاحب دھڑلے سے پھر اندر داخل ہوتے ہیں۔ مشین کی سکرین کو اس دفعہ اور زیادہ زور سے کھینچتے ہیں، جس سے مشین کی سکرین ان کے ہاتھ میں آ جاتی ہے اور وہ انتہائی اطمینان سے شہری کا مشین میں پھنسا کارڈ اپنے قبضے میں لے کر ایک دفعہ پھر کیمرے کی طرف دیکھ کر منہ چڑاتے ہیں اور باہر نکل جاتے ہیں۔ جس شہری کا کارڈ مشین سے نکالا گیا، اس نے بتایا کہ اس کے اکاؤنٹ سے کارڈ کے ذریعے 64 ہزار کی رقم خرد برد کی گئی ہے۔

ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے شہریوں کی رقم خرد برد کرنا، کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن مذکورہ چوری میں یہ امر لائق تشویش ہے کہ چور صاحب منہ چڑا کر نکل گئے۔ منہ چڑانے سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر منہ چڑایا کسے ہے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ چور صاحب نے منہ ہمارے ملکی نظام کو دیکھ کر چڑایا ہے۔ جہاں عدالتوں میں ہزاروں اس طرح کے کیسز پڑے ہیں اور ہر تاریخ پر ایک نئی تاریخ مل جاتی ہے۔ جہاں سالوں کسی قیدی کو قید رکھنے کے بعد عدالت اعلان کرتی ہے کہ ملزم بے گناہ ہے۔ جہاں ملزم کو پھانسی کی سزا دینے کے بعد منصف نہ جانے کس منہ سے اعلان کرتے ہیں کہ پھانسی پانے والا قاتل نہیں تھا۔

چور نے منہ اس نظام کو چڑایا ہے، جہاں ریاست دس دس بارہ بارہ سال سیاسی رہنماؤں کو بد عنوانی کے الزام میں قید رکھتی ہے، لیکن بد عنوانی ثابت کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ چور نے منہ اس نظام کو چڑایا ہے، جہاں طاقت ور، اور جن قوتوں نے وطن عزیز کو اس حال پر پہنچایا ہے، کا احتساب کرنا خواب و خیال کی باتیں ہیں۔ چور نے منہ اس نظام کو چڑایا ہے، جہاں زیر سماعت مقدمے میں منصف کو واٹس ایپ کے ذریعے مقدمے کی سماعت سے علیحدہ کر دیا جاتا ہے۔

چور نے منہ ان قوتوں کو چڑایا ہے، جو سیاسی مخالفت پر اپنے مخالفوں پر بے بنیاد مقدمات بنواتے ہیں اور پھر معافی تلافی یا این آر او کرتے پھرتے ہیں۔ چور نے منہ ان قوتوں کو چڑایا ہے، جو اپنے ساتھیوں کو عدالتی نظام سے بچا کر بیرون ملک رقص و سرور کی محفلیں سجانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ چور نے منہ اس نظام کو چڑایا ہے، جہاں معاشرے کے وہ افراد جو غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ماضی و حال میں ملوث ہوں اور جن کی آڈیوز اور ویڈیوز بھی موجود ہوں، ان کو ریاست منصف اور محتسب کی کرسی پیش کرتی ہے۔

چور نے منہ چڑا کر ریاست کے ارباب اختیار اور قانون نافذ کرنے والوں کو چیلینج دیا ہے، کہ یہ ویڈیو بھی دیکھو اور دم خم ہے تو مجھے پکڑ کر سزا دے کر دکھاؤ۔ ریاست نے ہمیشہ چونکہ طاقت ور کی پشت پناہی کی ہے اور مظلوم کی داد رسی سے نظریں چرائی ہیں۔ اس لیے چھوٹے موٹے چور بھی بڑے چوروں کی طرح ریاست کو منہ چڑا کر عوام کو لوٹنے میں سرگرم ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •