امت کی ٹھیکیداری اور کشمیر پر چپ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشمیر پر مسلم ممالک کی خاموشی پر بعض لوگ ”حیران ہیں، لب بستہ ہیں، دلگیر ہیں“ اور سوچ رہے ہیں کہ ”یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے“۔ کیا وجہ ہے کہ پاکستانی تو ہمیشہ برما سے لے کر فلسطین اور بوسنیا سے لے کر عراق تک امت کے ہر چھوٹے بڑے معاملے پر اپنے اپنے شہر کے ٹریفک سگنل توڑتے آئے ہیں مگر دیگر مسلم ممالک نے کبھی کشمیر پر پاکستان کا ایسا ساتھ نہیں دیا۔ لے دے کر ایک ترکی ہی بولتا ہے دوجا کون ہے؟ فلسطینی تک پاکستان کے مقابلے میں بھارت کا ساتھ دیتے رہے ہیں۔ مانا کہ جنرل ضیا الحق نے چند ہزار فلسطینی مار ڈالے تھے مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ کشمیر پر ہماری ویسے حمایت نہ کریں جیسے ہم اسرائیل کے خلاف ان کی کرتے ہیں۔

بات یہ ہے کہ امت کا ٹھیکہ تن تنہا ہم نے ہی اٹھا رکھا ہے۔ ہماری جب بھی انڈیا سے جنگ ہوئی تو لادین چین کے علاوہ صرف دو سیکولر مسلم ممالک نے کھل کر ہمارا ساتھ دیا۔ ایران کا رضا شاہ اور انڈونیشیا کا سوئیکارنو ہمارے ساتھ کھڑے رہے اور یہ دونوں سیکولر حکمران امت کے ٹھیکیدار نہیں تھے۔ یہ پاکستان کے دوست تھے۔

رہا یہ سوال کہ مسلم ممالک کشمیر پر ہمارے ساتھ کیوں نہیں ہیں؟ مودی کو ایوارڈ وغیرہ دینا تو ایک طرف، اس مرتبہ تو ہمیں گویا نکال کر انڈیا کو او آئی سی اجلاس میں شریک کیا گیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ہمیں منت خوشامد کروا کر تیل ادھار پر دیا جاتا ہے اور انڈیا میں عربوں نے اربوں ڈالروں کی سرمایہ کاری شروع کر رکھی ہے۔ کیا عربوں کو امت کا ٹھیکہ لینے کا شوق نہیں ہے؟ کیا انہیں پیسہ زیادہ پسند ہے؟

بات یہ ہے کہ دنیا پیسے کی ہے۔ امت وغیرہ جیسے جذباتی نعرے صرف حسب ضرورت عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے لگائے جاتے ہیں۔ اور وہ بھی ان مسلم ممالک میں جہاں عوام کے جذبات کی کوئی اہمیت ہے۔ ورنہ مشرق وسطی اور دیگر بادشاہتوں والے ممالک میں تو دس افراد اکٹھے ہو کر کشمیر یا فلسطین کے لئے بینر تک نہیں اٹھا سکتے ہیں۔ ادھر عربی محاورے کے مطابق کلام الملوک کو ملوک الکلام سمجھا جاتا ہے، یعنی صرف بادشاہ کو بولنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ عوام چپ رہتے ہیں۔

چلیں ان باقی مسلم ممالک کو چھوڑیں، اسلام کے خود ساختہ قلعے اور امت کے ٹھیکیدار پاکستان کو دیکھ لیں۔ یمن میں ہزاروں لوگ بمباری سے مرے ہیں۔ لاکھوں لوگ بھوک اور بیماری سے مر رہے ہیں۔ ہسپتالوں اور سکولوں پر بہیمانہ بمباری ہو رہی ہے۔ کیا پاکستان نے امت پر اس ظلم کے خلاف کبھی آواز اٹھائی ہے؟ سعودی عرب کا ادھار تیل ہماری زبان جما چکا ہے۔

آئیں چین چلتے ہیں۔ ادھر سابقہ مشرقی ترکستان اور حالیہ سنکیانگ میں مسلمان روزہ تک نہیں رکھ سکتے۔ خبریں آتی ہیں کہ کوئی نماز روزے کے قریب جائے تو اسے اٹھا کر تربیتی کیمپ لے جاتے ہیں اور جب تک وہ توبہ نہیں کرتا، ادھر رہتا ہے۔ پچھلے دنوں کئی پاکستانی فریاد کر رہے تھے کہ ان کی ایغور بیویاں اور بچے ادھر زبردستی تربیت دینے کے لئے لے جائے گئے ہیں اور ان کی واپسی کی وہ راہ تک رہے ہیں۔ کیا پاکستان نے امت پر اس ظلم کی کبھی بات کی ہے؟ کیا کسی دوسرے مسلک ملک نے پوچھا ہے کہ بھائی چین، یہ کیا ہے؟ چین کو جمہوریت اور انسانی حقوق کا بخار بھی نہیں ہے اور وہ مسلم بادشاہتوں اور ڈکٹیٹروں کو تنگ نہیں کرتا بلکہ ان معاملات کو کچلنے میں ان کی مدد کرتا ہے۔

امت کا بڑے سے بڑا ٹھیکیدار بھی یمن اور سنکیانگ پر خاموش ہے۔ وجہ وہی ہے جو کوئی مفکر بیان کر گیا ہے کہ جب روپے پیسے کا معاملہ آ جائے تو سب کا ایک ہی دین دھرم ہوتا ہے۔ اب کشمیر پر بھی کوئی مسلم ملک نہیں بول رہا، بلکہ مسلم ممالک مودی کی خوب پذیرائی کر کے اسے سرمایہ فراہم کر رہے ہیں۔ معاملہ وہی ہے کہ جب روپے پیسے کا معاملہ ہو تو امت کسی کو یاد نہیں رہتی ہے۔ کشمیر پر صرف کشمیری اور پاکستانی بات کریں گے۔ باقی امت کو بھول جائیں۔ او آئی سی تو کشمیر پر بھارت کے خلاف ایک رسمی سی مذمتی قرارداد تک منظور نہیں کرے گی۔

ہاں غیر مسلم جمہوری ممالک سے کشمیر پر مدد مل سکتی ہے۔ کشمیر کو امت اور مسلمانوں پر ظلم کا معاملہ بنانے کی بجائے بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ بنا کر پیش کریں۔ ڈان لیکس کے وقت یہ تو پتہ چل چکا ہے کہ ہمارے سفیر جب بھی کشمیر پر بات کرنے کسی حکمران سے ملتے ہیں تو وہ بے اعتنائی سے سنتے ہیں اور بات مولانا مسعود اظہر سے شروع کر کے دہشت گردی کی حمایت پر دھونا شروع کر دیتا ہے۔ اس لئے ان ممالک کے میڈیا کے ذریعے ادھر کی سول سوسائٹی اور لبرل طبقات کی حمایت حاصل کی جائے۔ ان کی حکومت پر اپنے عوام کا دباؤ ہو گا تو وہ کشمیر پر بولے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1177 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar