افتخار الحق تراب: چند یادیں چند باتیں
دانشور شخصیت اور گجرات میں ڈان اخبار کے سابق نمائندہ خصوصی افتخار الحق تراب صاحب گزشتہ جمعہ ( 30 ا گست۔ 2019 ) کو کنسر کے باعث ہیلزبورو، نیو جرسی (امریکہ) میں انتقال کر گئے۔ ان کی نماز جنازہ جمعہ کی نماز کے بعد اسلامک سوسائٹی آف سنٹرل جرسی (ISCK) کی مسجد، منموتھ جنکشن، نیو جرسی میں ادا کی گئی۔ بعدازاں انہیں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
گجرات سے تعلق رکھنے والے مرحوم کامریڈ افتخار الحق تراب اپنی فیملی کے ہمراہ 1985 ء سے امریکہ میں مقیم تھے۔ ان کا شمار گجرات پریس کلب کے بانیوں میں سے ہوتا تھا۔
وہ 80 ء کی دہائی کے اوائل میں گجرات میں ڈان اخبار کے لیے کام کرتے رہے۔ اسی دوران 1982 ء سے 1985 ء تک انہوں نے معروف صحافی لیڈر نثار عثمانی کی قیادت میں پاکستان میں صحافیوں کے حقوق کے لیے قائم ہونے والی ابتدائی تنظیم پی ایف یو جے میں نثار عثمانی کے ساتھ مل کر فعال کردار ادا کیا۔
بعدازاں صحافت کے بعد سیاست میں ان کا جھکاؤ اور رجحان زیادہ تر بائیں بازو کی جانب رہا۔ وہ زیادہ تر عرصہ نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے ساتھ وابستہ رہے۔ کچھ عرصہ انہوں نے پی پی کے ساتھ بھی کام کیا۔
تاہم ان کی سیاست کا زیادہ تر محور مزدور کسان پارٹی رہی۔ امریکہ منتقل ہونے سے قبل وہ کچھ عرصہ یورپ میں بھی قیام پزیر رہے تھے۔
گزشتہ سال جولائی میں بلجیئم سے آئے عزیز دوست ملک اخلاق احمد کے اعزاز میں نیویارک میں منعقدہ تقریب میں ان کے دوستوں کے ساتھ افتخار الحق تراب صاحب بھی شریک ہوئے تھے۔
اتفاق سے میری اور ان کی نشست ساتھ ساتھ تھی۔ صحافت اور سیاست کے حوالے سے پاکستان میں اپنے گزرے وقت کے واقعات اور یادوں کو شئر کرتے رہے۔ وہ صحافت اور سیاست کی موجودہ روش، امڈتے ہوئے ہیجان اور زوال پر سخت دل گرفتہ تھے۔ گزرے اہم واقعات کے ساتھ ساتھ ان سے متعلق جذبات کو بیان کرتے ہوئے میں نے ان کا حافظہ بہت کمال کا پایا۔
اپنے دوستوں ملک اخلاق احمد، چوہدری صدیق ٹانڈہ اور اسلام الرحمن سے جناب افتخار الحق تراب صاحب کا بہت ذکر سن رکھا تھا۔ اور گزشتہ سال ملک اخلاق احمد آپ کی نیویارک میں موجودگی کے باعث ان سے یاد گار ملاقات رہی۔ ملک صاحب کے اعزاز میں منعقدہ اس دعوت کا اہتمام سید زاہد شہباز نے کیا تھا، جبکہ مجھ سمیت اِمی شاہ، ورجنیا سے خصوصی طور پر صدیق ٹانڈہ، اور روڈ آئسلینڈ سے اسلام الرحمن شریک ہوئے۔
نیویارک کے ایک مقامی ریسٹورنٹ میں ہونے والی اس ملاقات میں، میں نے مرحوم تراب صاحب کو جمہوری اقدار پر یقین رکھنے والی اور جدید سوچ و فکر سے ہم آہنگ ایک نفیس اور وضعداری کی حامل شخصیت پایا۔
وہ زندگی کی رعنائیوں سے بھرپور ایک زندہ دل، اور ملنسار انسان تھے۔
کچھ ماہ پہلے ہی تشخیص ہونے والا موذی مرض کینسر، انہیں بہت جلد اپنے پیاروں سے دور، بہت دور موت کی وادیوں میں لے گیا۔ جہاں آخر کار سب ہی کو جلد یابدیر ایک نہ ایک دن جانا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی چیز بھی ان کے پیاروں کے لیے اس محرومی کا بدل نہیں ہو سکتی۔
امجد اسلام امجد نے اسی کیفیت کے بارے میں کہا تھا۔
جو کھو چکے ہیں اُنہیں ڈھونڈنا تو ممکن ہے
جو جا چکے ہیں اُنہیں کوئی کس طرح لائے


