عطا الرحمن کے سفر نامے سے ماخوذ: ایک مثبت دماغ کی خوبصورت سوچ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ترجمہ:نورالھدٰیٰ یفتالی

سیاحت اور بزنس ایڈمنسڑیشن کا ادنی طالب علم ہو نے کے ناتے چترال کی معاشی ترقی کوایک عام شہری کی حیثیت سے بیان کر رہا ہوں۔ سیاحت سفر کو ہی کہتے ہیں ہم بہت سے مقاصد کے لیے سفر کرتے ہیں۔ سفر یا سیاحت میں تفریحی سفر، سرمائی سیاحت، عوامی سیاحت، طبی سیاحت، ثقافتی سیاحت، مذہبی سیاحت جغرافیائی سیاحت، سمندری سیاحت، جنگلی حیات سیاحت، اس کے علاوہ جس مقصد کے لیے سیاحت کی جاتی ہے وہی نام دیا جاتا ہے۔ سیاحت کا علم سے گہرا تعلق ہے، اس کے علاوہ یہ مختلف تہذیبوں کو قریب لانے کا باعث بنتی ہے۔ اس لیے عالمی سطح پر روز بروز سیاحت کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دنیامیں سیاحت ایک مقبول عالمی تفریحی سرگرمی بن چکی ہے۔

ویسے توضلع چترال اپنی منفرد ثقافت اپنے حسین و دل چھو لینے والی علاقوں، تاریخی دروں، جھیل، گلیشر، تاریخی قلعوں، اورامن وامان کی وجہ سے مشہور ہے۔ قدرت نے چترال کووہ قدرتی حسن عطا کی ہے۔ جس کی وجہ سے سالانہ لاکھوں کی تعداد میں سیاح اپنے چھٹیان منانے چترال کا رخ کرتے ہیں۔

یہ ایک کائناتی حقیقت ہے۔ جب کوئی سیاح کسی بھی علاقے کا دورہ کرتے ہیں وہ اس بات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں کہ اس سیاح کو وہاں کیا کیا مل سکتا ہے بلکہ وہ اس صداقت کو اہمیت دیتا ہے کہ دوران سفر وہ اپنے اہل خاندان کے ساتھ محفوظ اور پر سکون ماحول سے لطف اندوز ہو سکے۔

جب ہم ہنزہ کی طرف سفر کرتے ہیں۔ ہنزہ کی قدرتی نظارے، تاریخی شاہی قلعے اور ہنزہ کی پر امن ماحول کے علاوہ قراقرم ہاوے اور ہنزہ کی معیاری ہوٹل ہی وہ ذریعہ ہیں جس کی سبب ہنزہ میں ہمیشہ سیاحوں کا رش لگا رہتا ہے۔

گزشتہ تین سالوں کے دوران ضلع چترال میں بھی سیاحوں کی تعدادمیں کافی اضافہ ہوا ہے۔ تاہم سیاحوں کی اس گروُ پ میں ایسے سیاح بھی ہیں جو چترال کا دوررہ نہیں کر پاتے ہیں جواپر کلاس کے سیاح ہوتے ہیں۔ ان سیاحوں کی چترال نہ آنے کی سب سے بڑی وجہ چترال میں سیاحت کے سہولیات کی غیر معیاری سروس ہیں۔ جس میں اول نمبر پر معیاری ہوٹل کی سہولت موجود نہیں ہے۔ دوسری بڑی وجہ چترال کے لیے فلائٹ ریگولر نہ ہونے کی وجہ سے ہفتے میں صرف دو دفعہ فلائٹ مقرر کیے گئے ہیں۔

تیسری اورسب سے اہم مسئلہ چترال کی سڑکوں کی حالت انتہائی خستہ ہے۔ جس کی وجہ سے سیاح لمبے اور کچے راستے کی سفر سے کتراتے ہیں۔ اگر وہ انہی راستوں پر سفر کر کے چترال پہنچ بھی جائے تو غیر معیاری ہوٹل اور نامناسب انتظامات کی سبب ان ہوٹلو ں میں ٹھیرنا مناسب تصور نہیں کر تے ہیں۔ جبکہ چترال شہر میں صرف چار ایسے ہوٹل ہیں جو پہلے ہی ہمیشہ ایڈوانس میں بکٗ کیے جاتے ہیں اور وہاں مزیدگیسٹ ٹھہرانے کی گنجائش نہیں ہوتی ہے۔

چترال میں سیاحت کی فروغ اورمعاشی ترقی کے لیے اعلیٰ معیار کی ہوٹل کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے :

ملکی و غیر ملکی سیاح جب بھی چترال کا دورہ کرتے ہیں۔ تو پہلی ملاقات ہی میں ان کا پہلا سوال ہوتا ہے۔

کیا چترال میں پی سی، سرینہ یا مریٹ ہوٹل ہیں؟

جب اس سوال پرآپ ایک مہمان سیاح کو ایک مثبت جواب دیتے ہیں کہ یہ موجودہ سہولت آپ کے علاقے میں دستیا ب ہے تو اس عمل سے وہ یہ تصور کرتے ہیں کہ یہ علاقہ معاشی اور سیاحتی لحاظ سے آشنا ہے اور ایک مثبت سوچ جنم لیتی ہے اور علاقے کی بہتریں مارکیٹنگ ہو جاتی ہے۔ اور پوری دنیا میں علاقے کو سیاحتی طور پر پذرائی ملتی ہے۔

مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے بہتریں مواقع:

جب آپ ملتان، کویٹہ، سوات، اورگلگت کا دورہ کرتے ہیں تو انہی فائیو اسٹارہوٹلوں میں آپ کومقامی افراد ملازمت کرتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ سیاحت کی عالمی تنظیم کے پایسی اور اصولوں کے مطابق ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں دس کمروں کے لیے بیس ملازم درکار ہو تے ہیں۔ اس پالیسی اور طریقہ کار سے یہ اخذ کرتے ہیں کی پچاس کمروں پر مشتمل ہوٹل تعمیر کی جائے تو اس کے لیے سو ملازم رکھنے کی اصول طے ہے۔ تو اس سے علاقے میں مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع میسر آتے ہیں۔

چھوٹے کاروباری افرادکوفائدہ:

جب ایک اعلیٰ معیار کا فائیو اسٹار ہوٹل تعمیر ہوتا ہے تو وہ اپنے معیار کو برقرار رکھنے اور مہمانوں کو بہتریں سروس دینے کے واسطے اسے ہمیشہ معیاری اور تازہ خوردنوش اشیا کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس میں مقامی تازہ سبزی، تازہ گوشت، تازہ شہد، دودھ اور مچھلی اور اس کے ساتھ ٹرانسپورٹ کی سہولت، مہمانوں کو لانے اور لے جانے کے لیے مقامی ٹرانسپورٹ، کھانا پکانے کے مقامی افراد کی ضرورت، سیاحوں کو مختلف علاقوں اور تاریخی مقامات کی دورہ کرانے کے لیے مقامی گائیڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔

مقامی لوگوں کے لیے قابل تبادلہ اور قابل تجارت مہارت کی ترقی:

پوری دنیا میں ہوٹل مینجمنٹ وہ واحد شعبہ ہے جس میں کوئی افراد بے روزگارنہیں ہو تا ہے، اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ جب ایک فرد ہوٹل کی انتظامی امور میں باقاعدہ تربیت پا تا ہے، پبلک ریلیشن، مارکیٹنگ، کھانا پکانا، مشروبات، ہاؤس کیپنگ، یہ وہ ہوٹل کی انتظامی امور ہیں جس میں اگر ایک فرد ایک دفعہ تربیت پا لی تو اس کے لیے روزگار کے مواقع ہمیشہ دستیاب ہوتے ہیں۔

معاشرتی زندگی کے روزمرہ واقعات اور تفریحی عوامل کو فروغ ملتا ہے :

ایک معیاری فائیو اسٹارہوٹل ہی اپنے کلاینٹ، اداروں، کاروباری افراد، قومی اور بین ا قوامی کمپنز کو ورکشاب، میٹنگ، کانفرنسز، ایکزبیشن وغیرہ کے معیاری اور پرسکون ماحول مہیا کر سکتا ہے جس کی ضرورت اس اداروں کو ہے۔ ورلڈ ٹوریزم آرگنائزشن کے طے کردہ اصولوں کے مطابق فائیف اسٹار ہوٹل اس کی یقن دہانی کراتے ہیں کہ وہ معاشرے میں صفائی، معیاری خوراک، علاقے کی کی ماحول اور مقامی لوگوں کی ثفافت کاخیال کرے گی۔ اور اپنے ہوٹل کی صفائی اور ارد گرد کی ماحول کی خوبصورتی اس کی اولین ترجیح ہوگی۔ اس طرز کی معیاری ہوٹلوں کی زندہ مثال، پرل کانٹیننٹل ہوٹل، میریٹ ہوٹل، آواری ہوٹل، اورسیرینہ ہوٹل ہیں۔

قوموں کی قسمت بدلنے میں تعلیم کا اہم کردار ہے، محض ڈگری نہیں بلکہ حقیقی شعور دینے والی تعلیم ہی وہ شعور ہے۔ جو اقوام کی زندگی میں انقلاب برپا کرے اور انہیں ترقی کی راہوں پر ڈال دے۔ معاشی ترقی ہم سب کا بنیادی حق ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ٰنور الہدی یفتالی کی دیگر تحریریں
ٰنور الہدی یفتالی کی دیگر تحریریں