معاشرتی بگاڑ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوچتا ہوں پاکستان کو تخلیق ہوئے کئی سال ہو چکے ہیں مگر ابھی تلک معاشی بحران کا شکار یہ ملک خدا کی انجانی نصرت کا طلب گار ہاتھوں میں چوڑیاں پہنے اور لہجے میں کڑواہٹ لیے اپنے زندگی کے شب وروز ایسے کاٹ رہا ہے جیسے خدا نے ہمیں بدتر پیدا کر کے انصاف نہ کیا ہو اور اس کے بدلے میں ذاتِ باری ضرور اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی رحمت کے صدقے ایسے دن دکھائے گا کہ ہمارا ملک موجودہ سپر پاور کے مقابلے میں سینہ تان کے کھڑا ہوگا، لیکن کسی مردِ مجاہد میں اتنی ہمت نہیں کہ تنزلی اور بدحالی کی اس روش پر قابو پانا تو دور اس کے بارے میں سوچنا بھی گراں گزرتا ہے،

انگریزوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ لوگ آنے والے سو سالوں کی تیاری حال میں کیے ہوتے ہیں ان آنے والے سالوں کی ترقی وخوشحالی کی بنیاد سچائی، ملک کے ساتھ وفاداری، حقوق العباد، محنت کشی، مثبت کردار، قوانین کی پاسداری، میرٹ سسٹم غرض یہ کہ ہر فرد ملک کی عزت، بقا اور آبرو کے لیے کوشاں رہتا ہے مگر ہمارے ہاں حکمرانوں اور ریاست کے علمبرداروں کو گالیاں بکنے والے کبھی اپنے گریباں میں جھانک لیں کہ اپنی ذاتی زندگی میں کس حد تک وہ ملک کے ساتھ وفادار رہے ہیں تو انشا اللہ ایک فرد بھی ایسا نہ ہوگا جس نے مکمل طور پر قوانین کی پاسداری کی ہو، کرپشن نہ کی ہو، سفارشات سے کام نہ لیا ہو، اپنے عہدے سے فائدہ نہ اٹھایا ہو وغیرہ وغیرہ

قوم کی دن بدن تنزلی کی بنیادی وجہ والدین کی تعلیم وتربیت کے فقدان کے باعث غیر اخلاقی اور غیر مہذب رویے ہیں اس قوم کا یکساں مسئلہ یہ بھی ہے کہ والددین نصیحت کرتے وقت ناجانے کیوں بھول جاتے ہیں کہ رویے اثر انداز ہوتے ہیں نا کہ نصیحتیں

گھر کا ماحول بچے کی ابتدائی زندگی پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتا ہے بچوں کی ایک بڑی تعداد اپنے بچپن کا زیادہ تر وقت اپنی ماں کے ساتھ گزارتی ہے اس لیے بچپن بنیاد ہے جو باقی تمام زندگی پر اثر انداذ ہوتا ہے، اسی لیے نپولین نے کہا تھا کہ ”تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو اور میں تم کو بہترین قوم دوں گا“۔

جب تک ہم عورت کو عزت، تعلیم اور اعتماد نہیں دیں گے تب تک ہماری مائیں انسان نہیں بلکہ ڈمی (dummy) پیدا کرتی رہیں گی اور اِس طرح دنیا پر حکومت کرنے کا خواب تو دور ہماری اپنی پہچان و بقا خطرے میں پڑ جائے گی۔ ہماری بقا اِسی میں ہے کہ ہماری اگلی نسل کو اپنی ذمے داریاں اُٹھانے کے لیے تیار کیا جائے اور ایسا گود سے شروع کرنا ہو گا کیونکہ پہلی درسگاہ اور تربیتی ادارہ ماں کی قربت ہے، بچوں کی تربیت بہترین انداز سے اُسی وقت ہو سکے گی جب ماں اور باپ دونوں اچھی تربیت کرنے کے قابل ہوں گے اور جب تک مرد خواتین کو تعلیم، عزت، احترام اور ذمے داری کے ساتھ اعتماد نہیں دیں گے ایسا ممکن نہیں ہو سکے گا یہاں کسی حکومتی پالیسی کی اِتنی ضرورت نہیں جتنی خاندانی سطح پر گھر کے سربراہ یعنی کہ مرد حضرات کو اپنی ذہنیت تبدیل کرنے کی ضرورت ہے،

اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہلِ دل

ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا

کہتے ہیں انسان امیدوں کے سہارے اپنی زندگی کے سخت اور کٹھن مراحل طے کر پاتا ہے مگر یہ بات محض ہمارے معاشرے کو تھپکی دینے کے لیے کافی موثر ثابت ہوتی ہے ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ مشکل حالات بے ساختہ نہیں ہوتے بلکہ زندگی کے مختلف تجربات میں اخذ کیے جاتے ہیں

اگر وقت سے پہلے رسوائی اور غم کی بارش سے بچنے کے لیے چھت نہ ڈالی گئی تو ماسوائے افسوس کے ہمارا کوئی پرسان حال نہ ہوگا۔

ہمیں فرداً فرداً ماحول کی اس فضا میں تبدیلی رونما کرنے کی ضرورت ہے اس بحران سے نکلنے کے لیے رویوں میں اخلاقی قوت اور سوچ میں اضطراب پیدا کرنا ہوگا، جیسا کہ اقبال نے کہا تھا

خدا تجھے کسی طُوفاں سے آشنا کر دے

کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد فیضان چوہدری کی دیگر تحریریں
محمد فیضان چوہدری کی دیگر تحریریں