عابی کو پھر مار پڑی تھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نہ جانے کیا بات تھی، عابی کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ اس وقت کچن میں برتن دھو رہا تھا۔ شام کو گھر میں پارٹی تھی۔ مہمان کافی زیادہ تھے۔ لہٰذا گندے برتنوں کی تعداد بھی کافی زیادہ تھی۔ باورچی نے کئی قسم کے کھانے بنائے تھے۔ اب وہ شاید اپنے کوارٹر میں پڑا خراٹے لے رہا ہوگا۔ یوں بھی برتن دھونا اس کی ڈیوٹی میں شامل نہیں تھا۔ ڈرائیور سے خیر یہ توقع کی ہی نہیں جا سکتی تھی۔ رہ گیا عابی تو اس کی حیثیت کا تعین کرنا مشکل تھا۔ گھر کی صفائی کرنا۔ لان میں گھاس کاٹنا، پودوں کو پانی دینا، کپڑے دھونا، جوتے پالش کرنا اور گھر کے تمام چھوٹے چھوٹے کام کرنا اس کے فرائض میں شامل تھا۔

گھر کے باقی ملازمین اور اس میں ایک فرق نمایاں تھا۔ ڈرائیور اور باورچی کو مہینے کے ابتدائی دنوں میں تنخواہ ملتی تھی جبکہ عابی کی کوئی تنخواہ نہیں تھی۔ وہ تو قرض اتار رہا تھا۔ ایک ایسا قرض جو اس نے نہیں لیا تھا۔ لیا تو اس کے ماں باپ نے بھی نہیں تھا۔ وہ دونوں شوکت نظامی کے ہاں ایک مدت سے ملازمت کرتے تھے اور اسی بنگلے کے ایک کوارٹر میں رہائش پذیر تھے۔ اگرچہ دونوں صحت مند تھے مگر موت کے آگے کس کا زور چلتا ہے۔ ایک دن وہ اپنے پاؤں پر چل کر باہر گئے تھے مگر ان کی واپسی ایمبولینس میں ہوئی۔

عینی شاہدین کے مطابق سڑک پار کرتے ہوئے ایک تیز رفتار کار نے انہیں ٹکر ماری تھی۔ گاڑی حادثے کے بعد فوراً ہوا ہو گئی تھی۔ شاید کسی نے اس کا نمبر نوٹ کیا تھا مگر پولیس اس گاڑی کو چلانے والے شخص کو گرفتار نہیں کر سکی تھی۔ بس اتنا معلوم ہو سکا تھا کہ وہ گاڑی نئے ماڈل کی بی ایم ڈبلیو تھی۔ چناں چہ یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں تھا کہ وہ کسی با اثر شخص کی گاڑی رہی ہو گی۔

شوکت نظامی نے اپنے ملازمین کے کفن دفن کے فوراً بعد عابی کو بلا کر حکم صادر کیا تھا کہ آج کے بعد وہ اپنے والدین کی جگہ پر کام کرے گا لیکن چوں کہ اس کے والدین کی تجہیز تکفین پر کافی خرچ اٹھا ہے اس لیے اسے تنخواہ نہیں ملے گی البتہ وہ اس پر رحم کھاتے ہوئے اسے کھانا، کپڑے اور رہائش فراہم کریں گے۔ بعد ازاں انہوں نے کسی نامعلوم قرض کر ذکر کر کے ہمیشہ کے لیے تنخواہ کا باب بند کر دیا تھا۔ عابی برتن دھوتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ اس کی غلامی دائمی ہے یا کسی روز وہ اس عذاب سے نجات پا جائے گا۔

اس کی عمر محض دس بارہ برس تھی۔ اس کے والدین نے اسے ایک سرکاری سکول میں داخل کروایا تھا وہ چوتھی جماعت تک پڑھا تھا۔ والدین کے مرتے ہی تعلیم کا سلسلہ بھی منقطع ہو چکا تھا کیوں کہ شوکت نظامی کے بقول سکول جانے سے وقت ضائع ہوتا تھا اور ان کے گھر کے کام کا حرج ہوتا تھا۔ عابی کے آنسو اس کے گالوں سے لڑھکتے ہوئے فرش کو بھگو رہے تھے۔ اس نے نہ آنسو پونچھنے کی کوشش کی تھی نہ اپنے آنسوؤں کو چھپانے کی کوشش کی تھی اس کا خیال تھا کہ یہاں کون ہے جو اسے یوں بے بسی سے آنسو بہاتے ہوئے دیکھے گا مگر وہ غلطی پر تھا۔ وہ کسی کی نگاہوں میں تھا۔

وہ اسے دیکھ رہی تھی۔ اس نے پہلے بھی اسے دیکھا تھا جب اس کے قہقہے اس گھر میں گونجتے تھے۔ تب اس کے والدین حیات تھے۔ اب تو اس کے لبوں پر کبھی مسکراہٹ بھی نہیں آتی تھی۔ وہ اسے روز دیکھتی تھی۔ اس نے کئی بار شوکت نظامی کو اس پر چلاتے دیکھا تھا۔ بعض اوقات شوکت نظامی کو کسی بات پر غصہ آتا تو وہ عابی کو مار پیٹ کر اپنا غصہ نکالتا تھا۔ ایسے میں وہ بہت بے چین ہو جایا کرتی تھی۔ شوکت نظامی مار پیٹ کرنے میں بڑا بے رحم واقع ہوا تھا۔ ایسے میں وہ سوچا کرتی تھی کہ یہ کیسا انسان ہے جو اپنے جیسے انسان کو ایسے مارتا ہے جیسے وہ کوئی جانور ہو۔

حالانکہ جانور کو بھی ایسی بے دردی سے مارنا کربناک ہے۔ پتا نہیں شوکت کا مسئلہ کیا تھا۔ شاید وہ کسی پیچیدہ نفسیاتی بیماری کا شکار تھا۔ ایک بچے پر تشدد کر کے وہ نہ جانے کس جذبے کی تسکین کرتا تھا۔ اسے بار بار موقع بھی مل جاتا تھا۔ کبھی عابی کے ہاتھ سے گر کر گلاس ٹوٹ جاتا یا فرش پر گرد نظر آتی تو شوکت کے ہاتھوں میں خارش ہونے لگتی جو عابی کو مار پیٹ کر ہی دور ہوتی تھی۔ عابی بڑی دیر تک برتن دھوتا رہا۔ اسے معلوم تھا کہ اگر اس نے یہ کام ادھورا چھوڑ دیا تو کل اس کی شامت آ جائے گی۔ پچھلی بار جب ایسا ہوا تھا تو اس کے جسم پر کئی جگہ نیل پڑ گئے تھے اور پھر کئی دن تک اس کے جسم کی بوٹی بوٹی درد کرتی رہی تھی۔ وہ ایسا کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتا تھا۔

کام ختم کر کے مڑا تو وہ یک دم ایک ستون کے پیچھے چھپ گئی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ عابی کی اس پر نظر پڑے۔ عابی ستون کے پاس سے گزر کر اپنے کوارٹر میں آ گیا۔ اس کی کمر میں شدید درد تھا۔ ہاتھ پاؤں اور ٹانگیں پھوڑے کی طرح دکھ رہی تھیں۔ وہ اپنے بستر پر گر پڑا۔ تھکن کی وجہ سے اسے نیند بھی نہیں آ رہی تھی۔ ایسے میں اسے اپنی ماں کی یاد آ گئی۔ وہ سوچنے لگا کہ جب کبھی وہ ذرا سا تھک جاتا تھا تو اس کی ماں اسے دبایا کرتی تھی۔ وہ منع کرتا مگر اسے کی ماں پھر بھی اسے دباتی تھی۔ چند منٹ میں ہی اس کا بدن پھول کی طرح ہلکا پھلکا ہو جاتا تھا۔

ایک بار پھر اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ ”ماں، میری ماں، تم کیوں چلی گئیں۔ ماں تمہارے بغیر میرا دل نہیں لگتا۔ تم نے اگر جانا ہی تھا تو مجھے بھی ساتھ لے جاتیں۔ مجھے تمہاری بہت یاد آتی ہے۔ میں یہاں نہیں رہنا چاہتا۔ مجھے اپنے پاس بلا لو ماں۔ مجھے اپنے پاس بلا لو۔ “ وہ روتے روتے اپنی ماں کو پکار رہا تھا۔ پھر اسے اپنا باپ یاد آ گیا۔ ”ابو۔ ابو۔ مجھے سکول جانا ہے، مجھے میرے دوست یاد آتے ہیں۔ “ وہ اپنے ماں باپ کو یاد کرتے کرتے سو گیا۔

وہ اس کے پیچھے پیچھے اس کے کوارٹر میں آ گئی تھی۔ جب وہ سو گیا تو وہ اس کے قریب آ گئی۔ وہ غور سے اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی جس پر معصومیت کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔ وہ نہ جانے کتنی دیر اس کے سرہانے کے پاس موجود رہی اور اسے دیکھتی رہی۔ بڑی شدت سے اسے خیال آ رہا تھا کہ وہ اس کے لیے کچھ کر سکے۔ مگر وہ کیا کرے۔ پھر وہ چلی گئی۔

عابی اتنا تھکا ہوا تھا کہ صبح جلد بیدار نہ ہو سکا۔ ناشتے پر بیگم شوکت نے عابی کی غیر موجودگی کو محسوس کیا تو باورچی سے پوچھا۔
”جی وہ شاید اپنے کوارٹر میں مزے سے سو رہا ہوگا، آج اس نے ناشتہ بنانے میں میری کوئی مدد نہیں کی، میں اکیلا ہی کھپتا رہا ہوں۔ “ باورچی نے منہ بنا کر بتایا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •