صلاح الدین جیسے سیاہ بخت تو محض تاریخ کا “چھان بورا” ہوتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لیجیے صاحب! اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ناپاک عزائم رکھنے والے ایک اور ملزم کو کیفر کردار تک پہنچا دیا گیا۔ ایک بندوق بردار ریاستی ادارے نے اپنے زیر حراست ایک مجہول نہتے ملزم کو فوری اور سستی ”سزا“ دے کر جہاں ماں جیسی ریاست کو سرخرو کیا۔ وہاں ہم جیسے افتادگان خاک کو فیض احمد فیض جیسے ”غدار“ کی یاد دلا دی جس نے کہا تھا ”میرے وطن تیرے دامان تار تار کی خیر“۔

یقین ہے کہ صلاح الدین جیسے بدنام زمانہ چور اور ریاستی نظام کا منہ چڑانے والے اس غدار کی موت کی خوشی پر شہر خوباں کی مرصع و مسجع شاہراہ دستور پر سبز آئین کا آرٹیکل 10 سولہ سنگھار کیے جھانجھریں چھنکاتا رہا ہو گا جو پاکستان کے تمام شہریوں کو منصفانہ سماعت کا حق دیتا ہے۔

نقیب اللہ قتل کیس کا واقعہ تو ایک ایٹمی مملکت کے سر کا تاج ہے ہی جو راؤ انوار جیسے ”قومی ہیرو“ کو سربلند کر گیا۔ پتہ نہیں اس کیس کا کیا بنا لیکن ہمارے بھولے عوام ابھی تک کراچی کے ”اپنا ٹائم آئے گا“ فیم نوجوان ریحان کو نہیں بھولے ہوں گے۔ اسے بھی چوری کے الزام میں فرزندان توحید نے موقع پر ہی تشدد کر کے ”جہنم واصل“ کر دیا تھا۔

26 اگست کو لاہور میں گجر پورہ پولیس کے نجی ٹارچر سیل کا انکشاف ہوا تھا جو کرول گاؤں سے ملحقہ جنگل میں محکمہ جنگلات کے دفتر میں قائم کیا گیا تھا۔ کارروائی کے دوران اس ٹارچر سیل سے نو افراد کو بازیاب کرایا گیا تھا جن میں سے ایک شخص امجد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے گزشتہ روز چل بسا۔ اس کے علاوہ بھی اور کئی سنہرے واقعات ہیں جنہوں نے ہماری تیرگی کو چار چاند لگائے۔

چونکہ اسلام کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والے اس عظیم اسلامی ملک میں انصاف کے حصول کے لئے انسان کے پاس حضرت نوح علیہ السلام کی عمر، حضرت ایوب علیہ السلام کا صبر اور قارون کی دولت لازمی ہونی چاہیے اور کسی ”کافر“ نے بھی کہا تھا کہ ”انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے“۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ ہمارے اسلام کی اس تجربہ گاہ کی زیریں عدالتوں میں تقریباً 19 لاکھ، ہائی کورٹس میں تین لاکھ جبکہ سپریم کورٹ میں 38 ہزار مقدمات التوا کا شکار ہیں۔

یہاں وکیلوں کی فیسوں کے ساتھ ساتھ عدل کے ایوانوں کی ہر سیڑھی پر کوئی نہ کوئی خرچہ ہے جس کے بغیر آگے نہیں جایا جا سکتا۔ سو فوری اور سستا انصاف مہیا کرنے کا اس سے بہتر اور کوئی طریقہ نہیں کہ ان نامراد گناہگاروں کو بپھرے ہجوم کے حوالے کر دیا جائے یا پھر کسی مقابلے میں اور نجی عقوبت خانوں میں لے جا کر پھڑکا دیا جائے۔

نقیب اللہ، ریحان، امجد اور صلاح الدین کو سستی موت دینے کے واقعات سے قطع نظر، اس ملک میں عام آدمی ایک ایسا ایندھن ہے جسے طاقت ور اور اس سے زیادہ پڑھے لکھے عزیز ہم وطن اپنے وقتی فائدے اور عیاشیوں کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ یہاں غریب آدمی کو کبھی بہ حیلہ مذہب کبھی بنام وطن لوٹا جاتا ہے اور وہ بھی مذہب اور وطن کی محبت میں خوشی خوشی لٹتا جاتا ہے۔ یہاں یہ صورت حال ہے کہ جب بڑے لوگ لوٹ مار کر کے بیرون ملک جائیدادیں اور بنک اکاؤنٹس بنا رہے ہوتے ہیں، اونچی شہ نشینوں والی ”مقدس“ بارگاہوں سے ہم جیسے عامیوں کو بھی وطن کی محبت کا جھانسہ دے کر کبھی تو ”قرض اتارو، ملک سنوارو“ اور کبھی ”ڈیم فنڈ“ کے لئے چندہ دینے کا حکم صادر کیا جاتا ہے۔

یہ حقیقت بھی ہمیشہ ہر ”ملیچھ“ پاکستانی کے دل و دماغ پر مرقوم رہے کہ راؤ انوار جیسی ”اجلی“ شخصیات ہی پاکستان کا ”حقیقی“ اور ”روشن“ چہرہ ہیں، جن کو ”ماں“ جیسی ریاست اور باپ جیسی حکومت کے ”دامادوں“ کا درجہ حاصل ہے۔ ورنہ صلاح الدین کی طرح تاریک راہوں میں مارے جانے والے حرماں نصیب سیاہ مقدر تو محض تاریخ کا ”چھان بورا“ ہوتے ہیں۔ محض اپنے معاشروں کا چلتا پھرتا صدقہ۔ ذلتوں کے مارے لوگ۔ نادرا کے جاری کردہ شناختی چیتھڑے سے زیادہ جن کی کوئی اوقات نہیں۔ کوئی حیثیت نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •