مسیحی شہریوں کے لئے شادی اور طلاق کا قانون اور مذہبی احکامات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہنری ہشتم سولہویں صدی میں برطانیہ کا بادشاہ تھا، وہ نرینہ اولاد کا خواہش مند تھا مگر ملکہ اسے ولی عہد نہ دے سکی۔ بادشاہ نے دوسری شادی کا فیصلہ کیا لیکن کیتھولک فرقے میں دوسری شادی کی اجازت نہیں تھی۔ ہنری ہشتم نے دوسری شادی کی اجازت کے لیے پوپ سے رابطہ کیا مگر پوپ نے اس خواہش کو ”حرام“ قرار دے دیا۔ بادشاہ نے دوسری، تیسری اور چوتھی بار درخواست کی، پوپ نہ مانا، بادشاہ بھی بادشاہ تھا وہ غصے میں آگیا اور اس نے ویٹی کن کے مقابلے میں اپنا چرچ بنانے کا اعلان کر دیا۔

یہ اعلان ”چرچ آف انگلینڈ“ کی بنیاد بنا۔ بادشاہ نے اپنا پوپ بنایا اور آرچ بشپ نے بادشاہ کو دوسری، تیسری، چوتھی اور پانچویں شادی کی اجازت دے دی اور یوں بادشاہ کو ولی عہد مل گیا اور دنیا کو نیا فرقہ۔ آج دنیا کے 160 ممالک میں چرچ آف انگلینڈ کی شاخیں ہیں اور وہ مسیحی مرد جو کیتھولک رہ کر دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں وہ چرچ آف انگلینڈ سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔

چرچ کے نمائندے گلیلیو جیسے سائنسدانوں کو اس جرم میں جلا دینے کا حکم دے دیتے تھے ”تم نے زمین کو چپٹا کیوں قرار دیا“ جب گلیلو رحم کی اپیل کرتا تھا تو پادری جواب دیتے تھے ”تمہاری ریسرچ کو بائبل سپورٹ نہیں کرتی لہٰذا تم سزائے موت کے حق دار ہو۔“ گلیلو کو معافی مانگ کر جان بخشی کروانا پڑتی ہے۔

موجودہ وقت میں جب لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس منصور علی شاہ نے امین مسیح کی درخواست پر کرسچن میرج اینڈ ڈائیوورس ایکٹ 1869 کے سیکشن 7 کو بحال کیا تھا تب بھی مسیحی علما اور سول سوسائٹی سمیت مسیحیوں میں متضاد رائے پائی جاتی تھی اور اس وقت کی مقتدر لیڈران نے اپنے موقف کچھ یوں بیان کیے تھے:

جنگ نیوز کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق کامران مائیکل نے موقف اختیار کیا کہ ”بنیادی حقوق کے نام پر الہامی قانون میں تبدیلی مذہبی اصولوں کے منافی ہے۔ “

صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور خلیل طاہر سندھو نے دیگر کیتھولک، پروٹسٹنٹ اور پریسبٹیرین چرچ کے بشپس سمیت عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ”بائبل کی تعلیمات کے تحت مسیحی میاں بیوی کا رشتہ کسی صورت نہیں توڑا جا سکتا۔ “

ممبر صوبائی اسمبلی میری گل نے موقف اختیار کیا کہ ”طلاق کے حوالے سے موجودہ قانون پر نظر ثانی ہونی چاہیے کیونکہ اس قانون کے باعث ہزاروں لڑکیوں پر بد چلنی کا الزام لگ چکا ہے۔“

ان دنوں میں جب سے خبرآئی ہے کہ وفاقی کابینہ مسیحیوں کے شادی اور طلاق کے قانون میں تبدیلی لا رہی تب سے مذہبی علما ء اور مذہبی رجحان رکھنے والے رجعت پسندوں نے اس قانون کو الہامی قانون اور مذہبی مسئلہ بنا کر پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ حالانکہ قانون کے نئے مسودے میں مسیحی علما شامل رہے ہیں اور ان کی رائے شامل ہے۔

سول سوسائٹی کی نمائندہ عکسہ کنول کے مطابق ”اگر موجودہ صورتحال کو دیکھیں تو اس وقت مسیحی طلاق کے قانون میں پیچیدگی کے باعث ہزاروں لڑکیاں پر بد چلنی کے الزامات لگے، طلاق نہ ہونے کے باعث علیحدگی کے لیے مذہب چھوڑا، طلاق کے مطالبہ پر تشدد سہا گیا۔ جس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ “

حالانکہ یہ ریاست کا قانون ہے جو کہ تمام شہریوں کے لیے ہوتا ہے۔ ایسے میں آج بھی ہماری مذہبی اور معاشرتی قیادت اس بات پر بضد ہے کہ پاکستان میں طلاق کے قانون میں تبدیلی الہامی قوانین کے منافی ہے۔

تاریخ یہ بتاتی ہے جب مذہب اپنی لچک کھو دیتے ہیں جب یہ وقت کے تقاضوں کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں تو لوگ نیا فرقہ ایجاد کر لیتے ہیں۔ یہ پروٹیسٹنٹ اور چرچ آف انگلینڈ کے نام سے نئی مسیحت، نئی شیریعت تخلیق کر لیتے ہیں۔ آج ہمارے قائدین کو بھی وقت کے تقاضوں کے سمجھتے ہوئے ہٹ دھرمی کی بجائے مناسب قانون سازی کرنی چاہیے کیونکہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مذہب انسانوں کے لیے ہے، انسان مذہب کے لیے نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •