باپ اور جوان بیٹے کی میت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمر رسیدہ شخص اپنی عمر سے کئی سال بوڑھا لگ رہا ہے، وہ خاموش اور ساکت کھڑا ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ اس کے اندر کوئی طوفان مچا ہے، وہ غم سے بے حال ہے مگر دم سادھے انتظار میں کھڑا ہے۔ کچھ ہی لمحوں میں اسے اس کے بیٹے سے ملایا جاتا ہے، وہ بے تابی سے آگے بڑھتا ہے اور اپنے بیٹے سے لپٹ جاتا ہے، اس کے سرد وجود کو چومتا ہے اور بھرپور چومتا ہے۔ اور بے دم سا جیسے اس کے اوپر ہی ڈھے جاتا ہے۔ وہ نڈھال کیسے نہ ہو، جوان بیٹے کی میت اور پھر ایسی میت جسے کاٹا گیا ہو، جلایا گیا ہو، اتنی بے دردی سے مارا گیا ہو کہ پورے جسم پہ ایک بھی حصہ ایسا نہ ہو جس پہ چوٹوں اور زخموں کے نشان نہ ہوں۔

نہ جانے صلاح الدین کے بھائی نے کیسے وہ تصویریں لی ہوں گی۔ لمحہ لمحہ اس کا دل کانپا ہو گا، اس کے ہاتھ لرزتے ہوں گے اور آنسوؤں نے بارہا آنکھوں کو دھندلایا ہو گا مگر پھر بھی اس نے وہ تصویریں کھینچیں۔ شاید اس خیال سے کہ انصاف کے حصول کے لیے یہ شواہد کافی ہوں گے اور بہیمانہ تشدد کے نتیجے میں جان سے جانے والے صلاح الدین کو انصاف مل جائے گا۔ اور اس میں ملوث پولیس اہل کاروں کو ایسی عبرت ناک سزا ملے گی کہ آئندہ کبھی کوئی پولیس والا کسی ملزم پہ تشدد کرنے کا سوچے گا بھی نہیں۔

مگر وہ نہیں جانتا کہ اس کی سوچ کس قدر غلط ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ غم کی شدت سے وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھا ہے، اسے اندازہ ہی نہیں کہ عدل ہونا تو دور کی بات، چند ہی دنوں میں کسی کو یہ بھی یاد نہ ہو گا کہ صلاح الدین نامی ایک دیوانے نے کیمرے کو دیکھ کر منہ چڑایا تھا اور اس جرم کی پاداش میں اسے تھانے میں ہی انتہائی غیر انسانی تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے سزائے موت دے دی گئی تھی۔

کہتے ہیں اس کا ذہنی توازن ٹھیک نہ تھا، صحیح کہتے ہیں اگر ٹھیک ہوتا تو بھلا ایسا خطرناک سوال پوچھتا ہی کیوں؟ اس نے پوچھا تھا تم نے مارنا کہاں سے سیکھا ہے؟ کیسے ممکن تھا کہ اسے اس سوال کا جواب نہ دیا جاتا آخر ڈیپارٹمنٹ کی عزت کا سوال تھا، اور تشدد کرنے میں تو ان کا کوئی ثانی ہی نہیں سو انہوں نے بتا دیا کہ ہم مارتے نہیں، ہم جان سے مار دیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •