پڑھی لکھی خواتین کو طلاق زیادہ کیوں ہوتی ہے؟

میں اس وقت تھرڈ ائیر میں تھی۔ ہمارا معمول تھا کہ عصر اور مغرب کی نماز کے درمیان کا وقت میں اور ابو ساتھ گزارتے تھے۔ اس دوران چائے پی جاتی، کیرم بورڈ یا لڈو کھیلا کرتے اور ساتھ ساتھ باتیں بھی ہوتیں۔ کبھی سیاسی گفتگو، کبھی معاشرتی مسائل، کبھی شاعری، گیت اور چٹکلے تو کبھی سنجیدہ گفتگو۔ یہ میری زندگی کی بڑی خوبصورت یاد ہے۔ ایسی یاد جسے دل میں بہت سنبھال کے رکھا جاتا ہے، ایسی یاد کہ جس کے یاد آنے پر ہونٹوں پر مسکراہٹ بھی آجاتی ہے اور آنکھوں میں نمی بھی اور یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ مسکراہٹ زیادہ گہری ہے یا آنکھیں زیادہ نم ہیں۔

یہ وہ وقت ہے جس نے مجھے ابو کے بہت قریب کیا اور ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ ان کے پاس بیٹھنا اور ان کے ساتھ وقت گزارنا مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔ ایک دن ہمیشہ کی طرح ہم بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ اچانک ابو نے ایک سوال کیا کہ یہ پڑھی لکھی خواتین کو طلاق زیادہ کیوں ہوتی ہے؟ ان دنوں ہماری ایک جاننے والے خاتون نے، جو کہ کسی بینک میں ملازمت کرتی تھیں، شادی کے قریب 20 برس بعد خلع لے لی تھی۔ انہی دنوں ٹی وی پر ایک ڈرامہ بھی چل رہا تھا جس کا مرکزی کردار ایک پڑھی لکھی خود مختار خاتون اپنے شوہر سے عاجز آ کر طلاق لے لیتی ہے۔

Read more

لاک ڈاؤن میں بچوں کو کیسے مصروف اور صحت مند رکھا جائے؟

کرونا وائرس لاک ڈاؤن میں اسکول بند ہوجانے اور گھر سے نکلنے پر پابندی ہونے کی وجہ سے بچوں کی روٹین میں واضح تبدیلی آئی ہے۔ بچے جو نارمل حالات میں گلیوں اور پارک میں کھیلتے پائے جاتے تھے آج کل گھر میں قید ہو کر رہ گئے ہیں۔ کسی صحت مند مشغلے کے بجائے زیادہ تر وقت سکرین تک محدود رہ کر گزارتے ہیں۔ سونے جاگنے کے اوقات میں تبدیلی آئی ہے تو مزاج و عادات میں بھی تبدیلی

Read more

ڈیٹ نائٹ

”ہاتھ چھوڑ دو ناں کوئی دیکھے گا“ وہ منمنائی، جواباً ایک ہلکے سے قہقہے کے ساتھ اس نے اپنی گرفت اور بھی مضبوط کر دی۔ اس حرکت پہ سٹپٹا کے اسے دیکھا تو وہ بولا ”کوئی پہلی بار آئی ہو میرے ساتھ کیا؟ شرمانا کیسا؟ یہ شام انجوائے کرو یوں بھی بڑے دنوں بعد آتی ہے ہماری یہ ملاقات“ اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ ”ہاں اور اس ایک ملاقات کے لیے پورا مہینہ انتظار کرنا پڑتا ہے، کبھی کبھی تو وقت جیسے ٹھہر ہی جاتا ہے بچوں کی دیکھ بھال، ساس کی خدمت اور گھر کے کام۔

Read more

کرونا، تعلیم، طلبا، اساتذہ اور والدین

کرونا وائرس لاک ڈاؤن کے باعث تعلیمی ادارے بند ہو جانا کسی دھچکے سے کم نہیں۔ طلبا، اساتذہ اور والدین اس ناگہانی افتاد سے بری طرح متاثر ہوئے۔ یہ تینوں عناصر یعنی کہ استاد، شاگرد اور سرپرست ایک تکون کی سی صورت میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ ان کے مابین بہتر ہم آہنگی ہی بہترین تدریسی عمل کی ضمانت ہے۔ ان میں سے کوئی ایک بھی فعال نہ ہو تو تدریسی عمل اچھے نتائج پیدا نہیں کر سکتا۔ مثال کے طور پہ استاد کو لے لیجیے، اگر استاد اپنا کام تندہی سے نہ کرے تو شاگرد کے سیکھنے کا عمل سست پڑ جائے گا۔

اسی طرح سے شاگرد محنت کرنا چھوڑ دے تو کامیاب نہیں ہو گا۔ اور اگر اس کی سرپرستی نہ کی جائے تو وہ تعلیمی سرگرمیاں بہتر طور سے سرانجام نہیں دے سکتا۔ ان عناصر کے ربط باہمی کے بغیر بھی تدریس ممکن ہے مگر اس کی افادیت کھو جائے گی۔ جب یہ تینوں ہی عناصر اتنے اہم ہیں تو یقیناً کوئی مشکل صورتحال ان تینوں پر ہی اثر انداز ہو گی۔ اور یہ متاثر ہوئے بھی جب آن لائن کلاسز کی پالیسی اپنائی گئی۔ آن لائن کلاس انجان اور غیر روایتی تھی جس کو ذہنی طور پر قبول کرنا، سمجھنا اور اس پر عمل کرنا بہرحال ایک مشکل کام تھا۔

Read more

بچوں کو مقامی نصاب پڑھایا جائے یا کیمبرج؟

بچوں کے پڑھنے، سیکھنے اور مستقبل میں اچھی جاب حاصل کرنے کے لئے کون سا تعلیمی نظام بہتر ہے؟ کم فیس والے اسکول میں داخل کرنا چاہیے جہاں لوکل نصاب پڑھایا جاتا ہے یا پھر بھاری فیسوں والے نجی سکولوں میں جو کیمبرج کورس پڑھاتے ہیں؟ میری نظر میں دونوں کا تقابلی جائزہ یہ ہے :

Read more

خواب نہ ٹوٹے کوئی

اسلام آباد، جنوری انیس سو اٹھانوے کی یخ بستہ صبح، وہ برہنہ پا گلی گلی پھر رہا تھا۔ صرف شلوار میں ملبوس، قمیص یا بنیان جیسی کوئی چیز اس کے بدن پر نہیں تھی۔۔ بڑھی ہوئی داڑھی، بکھرے ہوئے بال اور جسم اس قدر میلا کہ لگتا ہے برسوں سے نہایا نہیں۔ وہ سارا وقت گلیوں میں یوںھی مارا مارا پھرتا رہتا۔ مارگلہ کی پہاڑیوں یہ برف پڑ جانے کے بعد خنکی اور بھی بڑھ گئی تھی۔ درجہ حرارت نقطہ

Read more

داستان کی شہزادی، ظالم دیو اور میری بہادر بیٹی

پرانے وقتوں میں ایک ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ بہت رحم دل تھا اور اپنی رعایا کا بہت خیال رکھتا تھا۔ سب اسے بہت پسند کرتے تھے۔ ایک بار بادشاہ ایسا بیمار ہوا کہ کسی بھی علاج سے ٹھیک نہ ہو سکا۔ تب ایک سیانے نے کہا کہ فلاں پہاڑ کے دامن میں ایک جڑی بوٹی ہے جسے پیس کر پلانے سے بادشاہ ٹھیک ہو سکتا ہے۔ چوں کہ بادشاہ ہر دل عزیز تھا، سب چاہتے تھے

Read more

عزت کا سوال

"اماں جانے دو ناں علی بھی تو جاتا ہے اس کو تو نہیں روکتی” انعم نے منہ بسورا۔ "اس کی بات اور ہے” نجمہ نے بے رخی سے کہا "وہ لڑکا ہے”۔ "ہاں بس اسی کی اماں ہو میری تو ایک نہیں مانتی” انعم نے منہ پھلا لیا۔ علی جو اس سے سال بھر ہی بڑا تھا تھا اسے اداس نہیں دیکھ سکا بہت چاہتا تھا اسے اور کیوں نہ چاہتا ایک ہی تو بہن تھی اس کی پیاری سی

Read more

باپ اور جوان بیٹے کی میت

عمر رسیدہ شخص اپنی عمر سے کئی سال بوڑھا لگ رہا ہے، وہ خاموش اور ساکت کھڑا ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ اس کے اندر کوئی طوفان مچا ہے، وہ غم سے بے حال ہے مگر دم سادھے انتظار میں کھڑا ہے۔ کچھ ہی لمحوں میں اسے اس کے بیٹے سے ملایا جاتا ہے، وہ بے تابی سے آگے بڑھتا ہے اور اپنے بیٹے سے لپٹ جاتا ہے، اس کے سرد وجود کو چومتا ہے اور بھرپور چومتا ہے۔

Read more

آڈیو کالم: وہ بچہ کہتا تھا کہ ٹیچر میں لوزر نہیں ہوں

اس کی عمر نو دس برس ہو گی۔ وہ بہت کم بولتا تھا اور اس کی کسی سے کچھ خاص دوستی بھی نہیں تھی۔ کبھی کبھی اسے دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے اسے کسی کی ضرورت ہی نہیں، دوستوں کی بھی نہیں۔ اس عمر کے بچے جیسے خوش باش اور انرجی سے بھرپور ہوتے ہیں اس کے برعکس وہ کافی خاموش اور سنجیدہ تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بیمار یا کمزور تھا، ذہنی اور جسمانی طور پر وہ بالکل فٹ تھا۔ پابندی سے اسکول آتا اور نہایت دلجمعی سے پڑھتا تھا۔

Read more

چھوٹے بچوں والی مائیں اور دفتر

ہم لوگ بھی عجیب ہیں بیٹیوں کو پڑھاتے ہیں، ان کو تعلیم دلوانے کی پرزور حمایت کرتے ہیں اور ان کے کیریئر بلڈنگ پر زور دیتے ہیں تاکہ کہ وہ باشعور، خود مختار اور پر اعتماد ہوں۔ لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی شادی ہوگی، بچے ہوں گے تب ایک ماں ہونے کے ناطے ان کے لیے سب سے اہم ان کے بچے ہی ہوں گے۔ تو کام پر جاتے وقت وہ بچوں کو کس کے سپرد کریں گی؟ نینی پر نہ تو مکمل بھروسا کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ہر کوئی انہیں افورڈ کر سکتا ہے۔

Read more

وہ بچہ کہتا تھا کہ ٹیچر میں لوزر نہیں ہوں

اس کی عمر نو دس برس ہو گی۔ وہ بہت کم بولتا تھا اور اس کی کسی سے کچھ خاص دوستی بھی نہیں تھی۔ کبھی کبھی اسے دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے اسے کسی کی ضرورت ہی نہیں، دوستوں کی بھی نہیں۔ اس عمر کے بچے جیسے خوش باش اور انرجی سے بھرپور ہوتے ہیں اس کے برعکس وہ کافی خاموش اور سنجیدہ تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بیمار یا کمزور تھا، ذہنی اور جسمانی طور پر وہ بالکل فٹ تھا۔ پابندی سے اسکول آتا اور نہایت دلجمعی سے پڑھتا تھا۔ 

Read more

بچوں کو جنسی زیادتی سے کیسے بچائیں؟

تو چلیے پھر ایسا کرتے ہیں کہ زیورات، نقدی، کاغذات یا کوئی بھی قیمتی سامان گھر کے باہر رکھ دیتے ہیں اور اسے وہیں پڑا رہنے دیتے ہیں۔ آئیے کچھ گھنٹوں کے لیے بے فکر ہو جائیں۔ کچھ وقت کے بعد ہم آرام سے جائیں گے اور اپنا سامان اٹھا کر واپس لے آئیں گے۔ اس میں فکر کی کوئی بات ہی نہیں بھلا کوئی نقصان تو نہیں پہنچا دے گا ناں۔ مگر ہم ایسا نہیں کرتے، کوئی بھی ایسا کیوں نہیں کرتا؟ کیا یہ تجویز نہایت غیر معقول ہے؟

Read more

میرے اسلام آباد کا سحر

گلزار صاحب دینہ کے لیے لکھیں یا نور جہاں جی قصور کے لیے گائیں، عام ہو یا خاص اپنا شہر کوئی بھلا نہیں سکتا۔ وہ شہر جہاں پلے بڑھے، وہ گلیاں جہاں بچپن کھیلا، اور وہ راستے جن پہ چل کے نئی منزلیں حاصل کی ہوں کوئی چاہے ان سے کتنا ہی دور ہو جائے ان کو اپنے دل سے دور نہیں کرسکتا۔ دل کے کسی کونے میں کہیں نہ کہیں ایک خوبصورت یاد کی صورت ان سب کو چھپائے رکھتا ہے۔ وہ لوگ جو اپنی تمام عمر اپنے ہی شہر میں بسر کر دیتے ہیں ان کے احساسات شاید کچھ مختلف ہوں، مگر اپنے آبائی شہر کو چھوڑ کے کہیں اور بس جانے والے ہمیشہ اسے یاد کرتے ہیں۔

جیسے کہ میں نہیں بھولی اپنا خوبصورت شہر اسلام آباد۔ دنیا کے خوبصورت ترین دارالحکومتوں میں سے ایک۔ اسلام آباد کا اپنا ہی ایک رنگ روپ ہے، ایک اپنا ہی انداز ہے۔ بہت خوبصورت بہت مکمل۔ سہولتوں سے آراستہ، تفریح سے بھرپور، اور قدرتی حسن سے مالامال۔ وہاں بہار بھی کھل کے آتی ہے اور بارش بھی کچھ زیادہ برستی ہے۔ فروری مارچ کے مہینوں میں پورا شہر پھولوں کی خوشبو سے مہک اٹھتا ہے، گھروں کے لان ہوں یا پبلک پارک ہر جگہ پھول ہی پھول دکھائی دیتے ہیں۔

Read more

میرا نام ہاجرہ ہے، میں پاگل نہیں ہوں

میرا نام ہاجرہ ہے۔ میں پاگل نہیں ہوں مگر پھر بھی کبھی کبھی لگتا ہے کہ شاید۔ کسی بھی ذہنی تکلیف میں مبتلا انسان کو ہمارے ہاں پاگل ہی کہا جاتا ہے ناں؟ وہ ایک بیماری ہوتی ہے ناں شیزوفرینیا جس میں انسان کو کچھ نہ ہونے کے باوجود بھی چیزیں دکھائی اور سنائی دیتی ہیں؟ نہیں نہیں میں شیزوفرینیا کی مریضہ نہیں ہوں میری بیماری بڑی انوکھی اور عجیب و غریب ہے۔ یوں تو میں ذہنی اور جسمانی لحاظ سے بالکل تندرست اور توانا ہوں مگر پھر بھی کبھی کبھار لگتا ہے کہ کہیں پہ کچھ تو غلط ہے۔

Read more

یہ لوگ بیٹی جیسی نعمت کے مستحق نہیں

"اللہ آپ کو چاند سا بیٹا دے”، وہ ہر کسی کو یہی دعا دیتی تھی۔ شاھین گائنی وارڈ میں کام کرتی تھی۔ اس کی عمر کوئی چوبیس سال ہو گی۔ اس کا قد چھوٹا اور جسم دبلا تھا مگر چہرہ بالکل گول مٹول، شاید اسی لیے وہ دیکھنے میں بہت معصوم لگتی تھی۔ اس میں روایتی آیا جیسا کوئی بھی نخرہ نہیں تھا وہ اپنے فرائض بڑی خوشدلی سے انجام دیتی تھی، ہر کسی کا کام پوری توجہ اور محنت

Read more

بچوں سے کیسے بات کی جائے؟

اچھا بتاؤ ناں وہ بار بار پوچھ رہی تھی، سامنے ایک چھوٹی سی بچی اپنی ماں کا ہاتھ تھامے کھڑی معصوم سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کے سوالوں کا جواب دے رہی تھی مگر پھر بھی اس کی تسلی نہ ہو رہی تھی۔ مجھے تو کچھ بتاتی ہی نہیں اچھا یہ بتاؤ اسکول میں خوش رہتی ہے؟ اس کی دوستی کس سے ہے؟ کسی سے لڑائی تو نہیں ہوتی؟ مجھ سے کبھی کوئی بات کرتی ہی نہیں، کچھ بتاتی ہی

Read more

اپنے اپنے موبائل فون پہ مصروف دیکھ کر مجھے اچھا نہیں لگتا

آج کل شامیں خوبصورت لگتی ہیں۔ دھوپ کی شدت پہلے جیسی نہیں، سہ پہر کے وقت دھوپ کی ہلکی سی حرارت بدن کو بھلی لگتی ہے، اور پھر اس کے ساتھ نرم ہوا کے جھونکے اور بھی پیارے لگتے ہیں۔ ایسے میں کسی پارک کا رخ کرنے سے بہتر کیا ہو گا۔ یہ پارک زیادہ وسیع و عریض تو نہیں مگر پارک ہونے کے سب تقاضے پورے کرتا ہے۔ ایک سی بچھی ہری گھاس، کیاریوں میں لگے پھول پودے، مختلف

Read more

ہمیں تم سے پیار ہے

جواد احمد کا شمار ملک کے معروف گلوکاروں میں ہوتا ہے، منفرد آواز اور خوبصورت موسیقی کا بہترین امتزاج سننے والوں کو بہت بھلا لگتا ہے۔ جواد احمد کا ایک نغمہ تم جیتو یا ہارو سنو ہمیں تم سے پیار ہے بہت دلفریب ہے، ویسے تو یہ نغمہ کھلاڑیوں کے لئے، ان کی حوصلہ افزائی کے لئے گایا گیا ہے لیکن اگر اس کو والدین اور اولاد کے تعلق کے زاویے سے دیکھا جائے تو اس میں تمام والدین کے

Read more

گھر والی نہیں۔ ۔ ۔ گھر بنانے والی

گھر والی کا لفظ سنتے ہی ذہن میں ایک ایسی عورت کا خیال آتا ہے جو کچھ نہیں کرتی۔ جس کے ساتھ نرمی اور احترام سے پیش آئیں تو وہ سر پہ سوار ہو جائے گی اس لیے جہاں تک ممکن ہو اسے دبا کے رکھا جائے تاکہ مردانگی اور انا کی تسکین بھی ہوتی رہے اور گھر والی بھی کنٹرول میں رہے۔ یوں تو ہمارے معاشرے میں ہر سطح پر خواتین کو بے جا پابندی اور سختی کا سامنا

Read more

عمران خان اور غریب کی چھوری

کہتے ہیں ایک عورت ہے جو گھر سنبھالتی ہے گھر کا خیال رکھتی ہے اور اگر وہ نہ ہو تو اس کے بغیر ایک دن بھی گزارنا مشکل ہے اور وہ عورت ہے کام والی ماسی۔ مذاق کی بات ایک طرف رکھیں تو بھی شاید آج کی حقیقت یہی ہے، کہیں بھی نظر دوڑا لیں خاتون خانہ نوکری پیشہ ہوں یا گھریلو، سسرال میں رہتی ہوں یا علیحدہ سب کی زبان پر یہی الفاظ ہیں کہ کام والی کے بغیر

Read more

سفید پوشوں کی عیدِ قرباں

آج صبح بچوں کے سکول اور میاں کے دفتر جانے کے بعد کچن سمیٹ کر حسب معمول اپنا چائے کا کپ تھامے میں لاؤنج میں آ بیٹھی۔ چونکہ یہ وقت ذرا فراغت کا ہوتا ہے تو میں چائے پینے کے ساتھ ساتھ اپنا موبائل دیکھتی ہوں۔ عموماً میں ناشتے کے ساتھ چائے نہیں پیتی، ناشتے کا کام ختم کرنے کے بعد سکون سے بیٹھ کر چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے موبائل استعمال کرنا مجھے اچھا لگتا ہے۔ ابھی کچھ دیر

Read more

محتاط رہیں، کہیں سلیپ اوور زندگی تباہ نہ کر دے

رابعہ میری سہیلی ہے، میری پرانی اور عزیز ترین دوست۔ اس وقت وہ میرے سامنے صوفے پر بالکل خاموش بیٹھی تھی، معلوم ہوتا تھا وہ کسی شدید پریشانی میں مبتلا ہے۔ ورنہ رابعہ اور یوں خاموش بیٹھے ممکن ہی نہیں۔ باتونی ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی ہی کہے جانا اور ہر حال میں اپنی بات ہی منوانا اس کی شخصیت کا خاصہ تھا۔ کئی لوگوں کو اس کی یہ عادت پسند نہ تھی مگر مجھے اس پر کوئی اعتراض نہ

Read more

آخر ایسا کیا ہی کیا ہے

“آخر آپ نے ایسا کیا ہی کیا ہے ماما اولاد کی پرورش سبھی کرتے ہیں یہ تو پیرنٹس پرینٹس کا فرض ہے آپ نے بھی اپنا فرض پورا کیا ہے اور اب میں بڑا ہو چکا ہوں اپنی مرضی سے جینا چاہتا ہوں آپ پلیز میری لائف میں انٹرفئیر کرنا بند کریں“ وہ نخوت سے بولا اور تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔ بیس برس کا یہ خوبصورت نوجوان اس کا بیٹا تھا، اس کا پہلا بچہ وہ بچہ

Read more

مکمل یکسوئی اور توجہ کے ساتھ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں

سائنس اور ٹیکنالوجی میں تیزی سے ترقی کرتے ہوئے جدید دور میں انسان کے لیے بہت سی سہولتیں فراہم ہوئی ہیں جس سے اس کی زندگی آسان ہوئی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنوں سے بہت دور ہو گیا ہے۔ دوست احباب ہوں یا رشتہ دار آج کے دور کا انسان ان قیمتی رشتوں سے جڑے رہنے سے زیادہ اپنے موبائل فون پہ مصروف رہنا پسند کرتا ہے۔ اکٹھے بیٹھے ہوئے بھی آپس میں بات کرنے کے بجائے

Read more