باپ اور جوان بیٹے کی میت

عمر رسیدہ شخص اپنی عمر سے کئی سال بوڑھا لگ رہا ہے، وہ خاموش اور ساکت کھڑا ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ اس کے اندر کوئی طوفان مچا ہے، وہ غم سے بے حال ہے مگر دم سادھے انتظار میں کھڑا ہے۔ کچھ ہی لمحوں میں اسے اس کے بیٹے سے ملایا جاتا ہے،…

Read more

آڈیو کالم: وہ بچہ کہتا تھا کہ ٹیچر میں لوزر نہیں ہوں

اس کی عمر نو دس برس ہو گی۔ وہ بہت کم بولتا تھا اور اس کی کسی سے کچھ خاص دوستی بھی نہیں تھی۔ کبھی کبھی اسے دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے اسے کسی کی ضرورت ہی نہیں، دوستوں کی بھی نہیں۔ اس عمر کے بچے جیسے خوش باش اور انرجی سے بھرپور ہوتے ہیں اس کے برعکس وہ کافی خاموش اور سنجیدہ تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بیمار یا کمزور تھا، ذہنی اور جسمانی طور پر وہ بالکل فٹ تھا۔ پابندی سے اسکول آتا اور نہایت دلجمعی سے پڑھتا تھا۔

Read more

چھوٹے بچوں والی مائیں اور دفتر

ہم لوگ بھی عجیب ہیں بیٹیوں کو پڑھاتے ہیں، ان کو تعلیم دلوانے کی پرزور حمایت کرتے ہیں اور ان کے کیریئر بلڈنگ پر زور دیتے ہیں تاکہ کہ وہ باشعور، خود مختار اور پر اعتماد ہوں۔ لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی شادی ہوگی، بچے ہوں گے تب ایک ماں ہونے کے ناطے ان کے لیے سب سے اہم ان کے بچے ہی ہوں گے۔ تو کام پر جاتے وقت وہ بچوں کو کس کے سپرد کریں گی؟ نینی پر نہ تو مکمل بھروسا کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ہر کوئی انہیں افورڈ کر سکتا ہے۔

Read more

وہ بچہ کہتا تھا کہ ٹیچر میں لوزر نہیں ہوں

اس کی عمر نو دس برس ہو گی۔ وہ بہت کم بولتا تھا اور اس کی کسی سے کچھ خاص دوستی بھی نہیں تھی۔ کبھی کبھی اسے دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے اسے کسی کی ضرورت ہی نہیں، دوستوں کی بھی نہیں۔ اس عمر کے بچے جیسے خوش باش اور انرجی سے بھرپور ہوتے ہیں اس کے برعکس وہ کافی خاموش اور سنجیدہ تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بیمار یا کمزور تھا، ذہنی اور جسمانی طور پر وہ بالکل فٹ تھا۔ پابندی سے اسکول آتا اور نہایت دلجمعی سے پڑھتا تھا۔ 

Read more

بچوں کو جنسی زیادتی سے کیسے بچائیں؟

تو چلیے پھر ایسا کرتے ہیں کہ زیورات، نقدی، کاغذات یا کوئی بھی قیمتی سامان گھر کے باہر رکھ دیتے ہیں اور اسے وہیں پڑا رہنے دیتے ہیں۔ آئیے کچھ گھنٹوں کے لیے بے فکر ہو جائیں۔ کچھ وقت کے بعد ہم آرام سے جائیں گے اور اپنا سامان اٹھا کر واپس لے آئیں گے۔ اس میں فکر کی کوئی بات ہی نہیں بھلا کوئی نقصان تو نہیں پہنچا دے گا ناں۔ مگر ہم ایسا نہیں کرتے، کوئی بھی ایسا کیوں نہیں کرتا؟ کیا یہ تجویز نہایت غیر معقول ہے؟

Read more

پڑھی لکھی خواتین کو طلاق زیادہ کیوں ہوتی ہے؟

میں اس وقت تھرڈ ائیر میں تھی۔ ہمارا معمول تھا کہ عصر اور مغرب کی نماز کے درمیان کا وقت میں اور ابو ساتھ گزارتے تھے۔ اس دوران چائے پی جاتی، کیرم بورڈ یا لڈو کھیلا کرتے اور ساتھ ساتھ باتیں بھی ہوتیں۔ کبھی سیاسی گفتگو، کبھی معاشرتی مسائل، کبھی شاعری، گیت اور چٹکلے تو کبھی سنجیدہ گفتگو۔ یہ میری زندگی کی بڑی خوبصورت یاد ہے۔ ایسی یاد جسے دل میں بہت سنبھال کے رکھا جاتا ہے، ایسی یاد کہ جس کے یاد آنے پر ہونٹوں پر مسکراہٹ بھی آجاتی ہے اور آنکھوں میں نمی بھی اور یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ مسکراہٹ زیادہ گہری ہے یا آنکھیں زیادہ نم ہیں۔

یہ وہ وقت ہے جس نے مجھے ابو کے بہت قریب کیا اور ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ ان کے پاس بیٹھنا اور ان کے ساتھ وقت گزارنا مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔ ایک دن ہمیشہ کی طرح ہم بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ اچانک ابو نے ایک سوال کیا کہ یہ پڑھی لکھی خواتین کو طلاق زیادہ کیوں ہوتی ہے؟ ان دنوں ہماری ایک جاننے والے خاتون نے، جو کہ کسی بینک میں ملازمت کرتی تھیں، شادی کے قریب 20 برس بعد خلع لے لی تھی۔ انہی دنوں ٹی وی پر ایک ڈرامہ بھی چل رہا تھا جس کا مرکزی کردار ایک پڑھی لکھی خود مختار خاتون اپنے شوہر سے عاجز آ کر طلاق لے لیتی ہے۔

Read more

میرے اسلام آباد کا سحر

گلزار صاحب دینہ کے لیے لکھیں یا نور جہاں جی قصور کے لیے گائیں، عام ہو یا خاص اپنا شہر کوئی بھلا نہیں سکتا۔ وہ شہر جہاں پلے بڑھے، وہ گلیاں جہاں بچپن کھیلا، اور وہ راستے جن پہ چل کے نئی منزلیں حاصل کی ہوں کوئی چاہے ان سے کتنا ہی دور ہو جائے ان کو اپنے دل سے دور نہیں کرسکتا۔ دل کے کسی کونے میں کہیں نہ کہیں ایک خوبصورت یاد کی صورت ان سب کو چھپائے رکھتا ہے۔ وہ لوگ جو اپنی تمام عمر اپنے ہی شہر میں بسر کر دیتے ہیں ان کے احساسات شاید کچھ مختلف ہوں، مگر اپنے آبائی شہر کو چھوڑ کے کہیں اور بس جانے والے ہمیشہ اسے یاد کرتے ہیں۔

جیسے کہ میں نہیں بھولی اپنا خوبصورت شہر اسلام آباد۔ دنیا کے خوبصورت ترین دارالحکومتوں میں سے ایک۔ اسلام آباد کا اپنا ہی ایک رنگ روپ ہے، ایک اپنا ہی انداز ہے۔ بہت خوبصورت بہت مکمل۔ سہولتوں سے آراستہ، تفریح سے بھرپور، اور قدرتی حسن سے مالامال۔ وہاں بہار بھی کھل کے آتی ہے اور بارش بھی کچھ زیادہ برستی ہے۔ فروری مارچ کے مہینوں میں پورا شہر پھولوں کی خوشبو سے مہک اٹھتا ہے، گھروں کے لان ہوں یا پبلک پارک ہر جگہ پھول ہی پھول دکھائی دیتے ہیں۔

Read more

میرا نام ہاجرہ ہے، میں پاگل نہیں ہوں

میرا نام ہاجرہ ہے۔ میں پاگل نہیں ہوں مگر پھر بھی کبھی کبھی لگتا ہے کہ شاید۔ کسی بھی ذہنی تکلیف میں مبتلا انسان کو ہمارے ہاں پاگل ہی کہا جاتا ہے ناں؟ وہ ایک بیماری ہوتی ہے ناں شیزوفرینیا جس میں انسان کو کچھ نہ ہونے کے باوجود بھی چیزیں دکھائی اور سنائی دیتی ہیں؟ نہیں نہیں میں شیزوفرینیا کی مریضہ نہیں ہوں میری بیماری بڑی انوکھی اور عجیب و غریب ہے۔ یوں تو میں ذہنی اور جسمانی لحاظ سے بالکل تندرست اور توانا ہوں مگر پھر بھی کبھی کبھار لگتا ہے کہ کہیں پہ کچھ تو غلط ہے۔

Read more

یہ لوگ بیٹی جیسی نعمت کے مستحق نہیں

"اللہ آپ کو چاند سا بیٹا دے"، وہ ہر کسی کو یہی دعا دیتی تھی۔ شاھین گائنی وارڈ میں کام کرتی تھی۔ اس کی عمر کوئی چوبیس سال ہو گی۔ اس کا قد چھوٹا اور جسم دبلا تھا مگر چہرہ بالکل گول مٹول، شاید اسی لیے وہ دیکھنے میں بہت معصوم لگتی تھی۔ اس میں…

Read more

بچوں سے کیسے بات کی جائے؟

اچھا بتاؤ ناں وہ بار بار پوچھ رہی تھی، سامنے ایک چھوٹی سی بچی اپنی ماں کا ہاتھ تھامے کھڑی معصوم سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کے سوالوں کا جواب دے رہی تھی مگر پھر بھی اس کی تسلی نہ ہو رہی تھی۔ مجھے تو کچھ بتاتی ہی نہیں اچھا یہ بتاؤ اسکول میں خوش…

Read more