پڑھی لکھی خواتین کو طلاق زیادہ کیوں ہوتی ہے؟

میں اس وقت تھرڈ ائیر میں تھی۔ ہمارا معمول تھا کہ عصر اور مغرب کی نماز کے درمیان کا وقت میں اور ابو ساتھ گزارتے تھے۔ اس دوران چائے پی جاتی، کیرم بورڈ یا لڈو کھیلا کرتے اور ساتھ ساتھ باتیں بھی ہوتیں۔ کبھی سیاسی گفتگو، کبھی معاشرتی مسائل، کبھی شاعری، گیت اور چٹکلے تو کبھی سنجیدہ گفتگو۔ یہ میری زندگی کی بڑی خوبصورت یاد ہے۔ ایسی یاد جسے دل میں بہت سنبھال کے رکھا جاتا ہے، ایسی یاد کہ جس کے یاد آنے پر ہونٹوں پر مسکراہٹ بھی آجاتی ہے اور آنکھوں میں نمی بھی اور یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ مسکراہٹ زیادہ گہری ہے یا آنکھیں زیادہ نم ہیں۔

یہ وہ وقت ہے جس نے مجھے ابو کے بہت قریب کیا اور ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ ان کے پاس بیٹھنا اور ان کے ساتھ وقت گزارنا مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔ ایک دن ہمیشہ کی طرح ہم بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ اچانک ابو نے ایک سوال کیا کہ یہ پڑھی لکھی خواتین کو طلاق زیادہ کیوں ہوتی ہے؟ ان دنوں ہماری ایک جاننے والے خاتون نے، جو کہ کسی بینک میں ملازمت کرتی تھیں، شادی کے قریب 20 برس بعد خلع لے لی تھی۔ انہی دنوں ٹی وی پر ایک ڈرامہ بھی چل رہا تھا جس کا مرکزی کردار ایک پڑھی لکھی خود مختار خاتون اپنے شوہر سے عاجز آ کر طلاق لے لیتی ہے۔

Read more

میرے اسلام آباد کا سحر

گلزار صاحب دینہ کے لیے لکھیں یا نور جہاں جی قصور کے لیے گائیں، عام ہو یا خاص اپنا شہر کوئی بھلا نہیں سکتا۔ وہ شہر جہاں پلے بڑھے، وہ گلیاں جہاں بچپن کھیلا، اور وہ راستے جن پہ چل کے نئی منزلیں حاصل کی ہوں کوئی چاہے ان سے کتنا ہی دور ہو جائے ان کو اپنے دل سے دور نہیں کرسکتا۔ دل کے کسی کونے میں کہیں نہ کہیں ایک خوبصورت یاد کی صورت ان سب کو چھپائے رکھتا ہے۔ وہ لوگ جو اپنی تمام عمر اپنے ہی شہر میں بسر کر دیتے ہیں ان کے احساسات شاید کچھ مختلف ہوں، مگر اپنے آبائی شہر کو چھوڑ کے کہیں اور بس جانے والے ہمیشہ اسے یاد کرتے ہیں۔

جیسے کہ میں نہیں بھولی اپنا خوبصورت شہر اسلام آباد۔ دنیا کے خوبصورت ترین دارالحکومتوں میں سے ایک۔ اسلام آباد کا اپنا ہی ایک رنگ روپ ہے، ایک اپنا ہی انداز ہے۔ بہت خوبصورت بہت مکمل۔ سہولتوں سے آراستہ، تفریح سے بھرپور، اور قدرتی حسن سے مالامال۔ وہاں بہار بھی کھل کے آتی ہے اور بارش بھی کچھ زیادہ برستی ہے۔ فروری مارچ کے مہینوں میں پورا شہر پھولوں کی خوشبو سے مہک اٹھتا ہے، گھروں کے لان ہوں یا پبلک پارک ہر جگہ پھول ہی پھول دکھائی دیتے ہیں۔

Read more

میرا نام ہاجرہ ہے، میں پاگل نہیں ہوں

میرا نام ہاجرہ ہے۔ میں پاگل نہیں ہوں مگر پھر بھی کبھی کبھی لگتا ہے کہ شاید۔ کسی بھی ذہنی تکلیف میں مبتلا انسان کو ہمارے ہاں پاگل ہی کہا جاتا ہے ناں؟ وہ ایک بیماری ہوتی ہے ناں شیزوفرینیا جس میں انسان کو کچھ نہ ہونے کے باوجود بھی چیزیں دکھائی اور سنائی دیتی ہیں؟ نہیں نہیں میں شیزوفرینیا کی مریضہ نہیں ہوں میری بیماری بڑی انوکھی اور عجیب و غریب ہے۔ یوں تو میں ذہنی اور جسمانی لحاظ سے بالکل تندرست اور توانا ہوں مگر پھر بھی کبھی کبھار لگتا ہے کہ کہیں پہ کچھ تو غلط ہے۔

Read more

یہ لوگ بیٹی جیسی نعمت کے مستحق نہیں

"اللہ آپ کو چاند سا بیٹا دے"، وہ ہر کسی کو یہی دعا دیتی تھی۔ شاھین گائنی وارڈ میں کام کرتی تھی۔ اس کی عمر کوئی چوبیس سال ہو گی۔ اس کا قد چھوٹا اور جسم دبلا تھا مگر چہرہ بالکل گول مٹول، شاید اسی لیے وہ دیکھنے میں بہت معصوم لگتی تھی۔ اس میں…

Read more

بچوں سے کیسے بات کی جائے؟

اچھا بتاؤ ناں وہ بار بار پوچھ رہی تھی، سامنے ایک چھوٹی سی بچی اپنی ماں کا ہاتھ تھامے کھڑی معصوم سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کے سوالوں کا جواب دے رہی تھی مگر پھر بھی اس کی تسلی نہ ہو رہی تھی۔ مجھے تو کچھ بتاتی ہی نہیں اچھا یہ بتاؤ اسکول میں خوش…

Read more

اپنے اپنے موبائل فون پہ مصروف دیکھ کر مجھے اچھا نہیں لگتا

آج کل شامیں خوبصورت لگتی ہیں۔ دھوپ کی شدت پہلے جیسی نہیں، سہ پہر کے وقت دھوپ کی ہلکی سی حرارت بدن کو بھلی لگتی ہے، اور پھر اس کے ساتھ نرم ہوا کے جھونکے اور بھی پیارے لگتے ہیں۔ ایسے میں کسی پارک کا رخ کرنے سے بہتر کیا ہو گا۔ یہ پارک زیادہ…

Read more

ہمیں تم سے پیار ہے

جواد احمد کا شمار ملک کے معروف گلوکاروں میں ہوتا ہے، منفرد آواز اور خوبصورت موسیقی کا بہترین امتزاج سننے والوں کو بہت بھلا لگتا ہے۔ جواد احمد کا ایک نغمہ تم جیتو یا ہارو سنو ہمیں تم سے پیار ہے بہت دلفریب ہے، ویسے تو یہ نغمہ کھلاڑیوں کے لئے، ان کی حوصلہ افزائی…

Read more

گھر والی نہیں۔ ۔ ۔ گھر بنانے والی

گھر والی کا لفظ سنتے ہی ذہن میں ایک ایسی عورت کا خیال آتا ہے جو کچھ نہیں کرتی۔ جس کے ساتھ نرمی اور احترام سے پیش آئیں تو وہ سر پہ سوار ہو جائے گی اس لیے جہاں تک ممکن ہو اسے دبا کے رکھا جائے تاکہ مردانگی اور انا کی تسکین بھی ہوتی…

Read more

عمران خان اور غریب کی چھوری

کہتے ہیں ایک عورت ہے جو گھر سنبھالتی ہے گھر کا خیال رکھتی ہے اور اگر وہ نہ ہو تو اس کے بغیر ایک دن بھی گزارنا مشکل ہے اور وہ عورت ہے کام والی ماسی۔ مذاق کی بات ایک طرف رکھیں تو بھی شاید آج کی حقیقت یہی ہے، کہیں بھی نظر دوڑا لیں…

Read more

سفید پوشوں کی عیدِ قرباں

آج صبح بچوں کے سکول اور میاں کے دفتر جانے کے بعد کچن سمیٹ کر حسب معمول اپنا چائے کا کپ تھامے میں لاؤنج میں آ بیٹھی۔ چونکہ یہ وقت ذرا فراغت کا ہوتا ہے تو میں چائے پینے کے ساتھ ساتھ اپنا موبائل دیکھتی ہوں۔ عموماً میں ناشتے کے ساتھ چائے نہیں پیتی، ناشتے…

Read more