پڑھی لکھی خواتین کو طلاق زیادہ کیوں ہوتی ہے؟
میں اس وقت تھرڈ ائیر میں تھی۔ ہمارا معمول تھا کہ عصر اور مغرب کی نماز کے درمیان کا وقت میں اور ابو ساتھ گزارتے تھے۔ اس دوران چائے پی جاتی، کیرم بورڈ یا لڈو کھیلا کرتے اور ساتھ ساتھ باتیں بھی ہوتیں۔ کبھی سیاسی گفتگو، کبھی معاشرتی مسائل، کبھی شاعری، گیت اور چٹکلے تو کبھی سنجیدہ گفتگو۔ یہ میری زندگی کی بڑی خوبصورت یاد ہے۔ ایسی یاد جسے دل میں بہت سنبھال کے رکھا جاتا ہے، ایسی یاد کہ جس کے یاد آنے پر ہونٹوں پر مسکراہٹ بھی آجاتی ہے اور آنکھوں میں نمی بھی اور یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ مسکراہٹ زیادہ گہری ہے یا آنکھیں زیادہ نم ہیں۔
یہ وہ وقت ہے جس نے مجھے ابو کے بہت قریب کیا اور ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ ان کے پاس بیٹھنا اور ان کے ساتھ وقت گزارنا مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔ ایک دن ہمیشہ کی طرح ہم بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ اچانک ابو نے ایک سوال کیا کہ یہ پڑھی لکھی خواتین کو طلاق زیادہ کیوں ہوتی ہے؟ ان دنوں ہماری ایک جاننے والے خاتون نے، جو کہ کسی بینک میں ملازمت کرتی تھیں، شادی کے قریب 20 برس بعد خلع لے لی تھی۔ انہی دنوں ٹی وی پر ایک ڈرامہ بھی چل رہا تھا جس کا مرکزی کردار ایک پڑھی لکھی خود مختار خاتون اپنے شوہر سے عاجز آ کر طلاق لے لیتی ہے۔
Read more


