معتزلہ ۔ تاریخ اسلام کا ایک گمشدہ باب (2)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"daud-zafar-nadeem\"

(معتزلہ – تاریخ اسلام کا ایک گمشدہ باب – 1)

یہ ایک علمی جنگ تھی جسے مخالفین ے مذہبی رنگ دے دیا۔ اس وقت تک اسلام روداری، برداشت اور وسیع المشربی والا دین تھا۔ فقہ کا سنہری دور جس میں اسلام کے چاروں بڑے فقہا موجود تھے وہ ابھی کچھ دیر پہلے تمام ہوا تھا۔ مگر ترقی کے اس عروج پر ایسے لوگ ابھر کو سامنے آئے جنہوں نے خوف کی تبیلغ شروع کی۔ ان لوگوں نے یہ سوچ پھیلانی شروع کی کہ اسلام میں اجتہاد کی نہیں تقلید کی ضرورت ہے۔ ہمیں فقہی ارتقا کو ختم کرکے احادیث کے ایسے مجموعے تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو صحیح اسناد کے ساتھ روایت ہوں اور فقہی معاملات میں صرف انہیں سے استفادہ کیا جائے۔ اور اس علمی اور سائنسی ترقی کو ختم کرکے جمود کی کوشش کرنا چاہیے۔ دین کے ایک ارتقا پذیر فہم کی بجائے ایک جامد عقیدہ پرستی کی ضرورت ہے۔

مامون جیسا آفتاب غروب ہوا تو پتہ چلا کہ عباسیوں کے پاس اس علمی ارتقا کو آگے بڑھانے والا کوئی نہیں۔ معتصم باللہ اور واثق محض اپنے عظیم بزرگ مامون کے احترام میں ان علمی کاوشوں کی معاونت کرتے رہے وگرنہ وہ دلی طور پر عقیدہ پرستوں سے مغلوب ہو چکے تھے۔ دربار میں ان ترک جنگجوئوں کا قبضہ ہو چکا تھا جن کو اس علمی ترقی سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس لئے متوکل کے لئے یہ ایک آسان فیصلہ تھا کہ ملک میں ایک عقیدہ پرستی کا دین رائج کیا جائے۔ بیت الحکمت کو دریائے دجلہ کے کنارے عقیدہ پرستوں نے آگ لگا دی۔ بعض مسیحی اور یہودی فتنہ گروں نے کچھ علمی کتب کو اپنے لبادوں میں چھپا لیا۔ خدا کی قدرت دیکھیے انھیں پوشیدہ کتب نے مستقبل کی نسلوں کو مسلمانوں کی علمی اور سائنسی ترقی کے بارے بتلانا تھا۔ معتزلہ کی تمام کتب کو آگ لگا دی گئی۔ ان کے عقائد کو باطل قرار دیا گیا۔ جامد عقیدہ پرستی کو فتح حاصل ہوئی۔ اجتہاد ختم ہوگیا، تقلید محض رہ گئی۔ فقہ کے اماموں کی بجائے احادیث کے اماموں کا دور آیا اور سائنس اور علم کی بجائے شدت پسندی اور انتہا پرستی کی شروعات ہوئی۔

عالم اسلام میں اجتہاد کی بجائے تقلید جامد، عقل کی بجائے نقل اور علم کی بجائے روایت کا دور کب شروع ہوا تو اس کے لئے ہم کو اس دور میں جانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جب معتزلہ کے زوال کا آغاز ہوا۔ یہ بات نہیں کہ معتزلہ کے تمام عقائد درست تھے یا تمام فقہی آئمہ اور تمام مسلم سائنسدان اور فلسفی معتزلی تھے۔ مگر یہ بات محض اتفاق نہیں کہ یہ تمام لوگ معتزلہ کے دور عروج سے تعلق رکھتے ہیں۔ معتزلہ نے عقل سلیم کو ہدایت کا ایک اہم ذریعہ تسلیم کیا تھا۔ معتزلہ نے یہ تصور پیش کیا تھا کہ انسانی عقل ہدایت تک پہنچنے کا اتنا ہی اہم ذریعہ ہے جتنا کہ وحی خدا وندی۔ چنانچہ ان کے اس تصور نے دوسرے فرقوں اور دوسری شخصیتوں کو بھی متاثر بھی کیا۔ معتزلہ کے زوال کے ساتھ ہی دوسرے فرقوں میں بھی اجتہاد کی جگہ تقلید جامد نے لے لی۔۔ مسلم سائنس کا سہری دور ختم ہوگیا اور فقہ کے آئمہ کی جگہ احادیث کے آئمہ نے لے لی علم کی تحقیق کی جگہ راویوں کی پرکھ کے معیار طے کرنے اور ان کی تحقیق کے کام نے لے لی۔ اب کسی نئی بات کی کھوج کی بجائے یہ کھوج لگانے کی ضرورت محسوس کی جانے لگی کہ اس روایت کی اسناد درست ہیں اور ان کا کوئی راوی مجہول تو نہیں۔

اس سارے واقعات کو بیان کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ معتزلہ حق کا واحد معیار تھے یا ان کے عقائد درست تھے۔ نہ ہی روایت کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش ہے۔ مگر یہ بتلانے کی کوشش ہے کہ معتزلہ نہ صرف عالم اسلام کی تاریخ کا ایک اہم باب تھے بلکہ انسانیت کی تاریخ میں بھی ایک اہم واقعہ کی حیثیث رکھتے ہیں۔ اگر معتزلہ اس طرح زوال کا شکار نہ ہوتے تو شاید اس سائنسی اور عقلی دور کی ابتدا یورپ کی بجائے عرب سے ہوتی۔ اور مسلمان واقعی ایک علمی اور سائنسی دور کی ابتدا کا سبب بنتے۔

اگر آپ معتزلہ اور ان کے مخالفین کے مباحث کو پڑھنے کی کوشش کریں۔ حالانکہ یہ تمام مباحث معتزلہ کے مخالفین کے توسط سے ہم تک پہنچے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے فرقوں کی بڑی بڑی شخصیتیں مباحث میں معتزلہ کے علما کے سامنے دلیل نہیں دے پاتی تھیں۔ وہ ان کی مخالفت اس دلیل پر کرتی تھیں کہ انسانی عقل گمراہی کا باعث بنتی ہے اور صرف وحی خداوندی ہی ہدایت کا واحد اور حقیقی ذریعہ ہے۔ حتی کہ اشاعرہ نے اس میں کچھ ترمیم کی اور کہا کہ عقل انسانی کو وحی کا پابند ہونا چاہیے۔

بہت سے مورخین معتزلہ کا کردار علم کلام تک محدود رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ معتزلہ کا حوالہ صرف علم کلام تک محدود ہے وہ مسلمانوں میں علم کلام کی ابتدا کرنے والے تھے۔ جب اشاعرہ کا مکتبہ فکر وجود میں آیا تو ان کی ضرورت ختم ہوگئی۔ حالانکہ معتزلہ کا اصل کردار ان کی علم اور سائنس میں دلچسپی کی وجہ سے تھا انھوں نے فلسفہ یونانی کو نہ صرف پڑھا اور سمجھا بلکہ اس میں بہت سا اضافہ بھی کیا اور نئی سائنسی ایجادوں میں بھی دلچسپی لی۔ تمام بڑے سائنسدان اگر معتزلی نہیں بھی تھے تو بھی معتزلی خیالات کا ان پر بہت اثر تھا۔

معتزلہ کا ایک دوسرا اصل انسان کو اپنے اعمال کا ذمہ دار ٹہرانا تھا۔ وہ انسان کو اس کے افعال کا خالق قرار دیتے تھے اور اس کو اپنے عمل میں ایک خود مختار مخلوق تسلیم کرتے تھے۔ معتزلہ نے حریت فکر کی بھی بات کی۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کو فکری آزادی فراہم کی ہے اس لئے کسی جبر اور کسی ظلم سے ان کی آزادی کو چھینا نہیں جا سکتا۔ اس دور میں دوسرے مذاہب کے بڑے علما اور فضلا سے مباحثے کے لئے معتزلی علما کو بھیجا جاتا تھا اور یہ بات معتزلہ کے مخالفوں کی کتب کے توسط سے ہی معلوم ہوئی ہے کہ معتزلہ اپنے تمام بڑے مناظروں اور مباحثوں میں کامیاب رہے تھے۔

معتزلہ رزق کے معاملے میں بھی یہ کہتے تھے کہ یہ انسانی کوشش سے مشروط ہے انسان جتنی کوشش کرے گا اسے اتنا ہی عطا ہوگا
معتزلہ اللہ تعالی کو عادل کہتے تھے ان کا عقیدہ تھا کہ اللہ تعالی عدل کرتا ہے وہ کسی ایسے امکان کو تسلیم نہیں کرتے تھے جس سے اللہ تعالی کے عدل کرنے میں کوئی فرق آئے۔ ان کے نزدیک عقیدہ توحید کے بعد سب سے اہم عقیدہ عدل الہی کا عقیدہ ہے۔
معتزلہ کے بعد مسلمانوں میں علمی ترقی اور سائنسی اور فلسفیانہ ترقی کو گہری ضرب پہنچی۔ اب مسلمانوں کی قیادت ایک سہمے ہوئے گروہ کے ہاتھ آگئی جس نے عقیدے کے نام پر ان کی علمی ترقی کی تمام راہیں مسدود کردیں اور ان کو ایک تقلید جامد کا پابند بنادیا۔ انسان کی فکری آزادی کی نفی کی اور اس کو اعمال کا ذمہ دار قرار دینے کی بجائے تقدیر کا پابند قرار دیا۔

مسلمانوں میں علمی اور سائنسی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ مسلمانوں میں ایسا علمی اور فکری گروہ موجود ہو جو مسلمانوں کو علم اور سائنس کی طرف راغب کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

3 thoughts on “معتزلہ ۔ تاریخ اسلام کا ایک گمشدہ باب (2)

  • 02/10/2016 at 12:16 pm
    Permalink

    ظفر شاباش۔۔اس موضوع کو اور وسعت ملے تو ایک قابل قدر اور مفید بحث کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی ۔

  • 17/10/2016 at 12:41 pm
    Permalink

    Nice, we need this approach to excel in the world

Comments are closed.