جارج آرویل نے ہمارا کوئی ذکر نہیں کیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لارڈ ایکٹن کا شہرہ آفاق مقولہ ہے Power tends to corrupt, absolute power corrupts absolutely جیسے ہی یہ مقولہ یاد آتا ہے تو George Orwell کا ایک ناول Animal Farm فرشِ ذہن پر ورق ورق ہو جاتا ہے۔ یقیناً آپ نے پڑھ رکھا ہو گا۔ آپ کی یادداشت کے پنوں سے وقت کی گرد ہٹانے کے لیے انتہائی اختصار سے اس کی کہانی دہرائے دیتا ہوں اور بوجہ اختصار اگر کوئی جہت بیان نہ کر پاؤں تو پیشگی معزرت خواہ ہوں۔

Mr. Jones نامی کسان کا ایک فارم تھا جس میں مختلف جانور اور پرندے یعنی گائیں، بھینسیں، بکریاں، گھوڑے، گدھے، سور، کتے، بلیاں، مرغیاں اور بطخیں وغیرہ وغیرہ تھے۔ ایک عمررسیدہ Old Major نامی سور جو قریب المرگ تھا اس نے سارے جانور اور پرندوں کو ایک جلسہ گاہ نما حال میں بلایا، وہ خواب سنانے کے لیے جو اس نے گزشتہ شب دیکھا۔ جب سارے جانور اکٹھے ہوگئے تو Old Major نے کہا۔

”انسان صدیوں سے ہمارا استحصال کر رہا ہے۔ گائیں، بھینسیں اور بکریاں دودھ دیتی ہیں، مرغیاں اور بطخیں انڈے دیتی ہیں اور انسان انہیں فروخت کرتا ہے۔ جب یہ پیداوار کے قابل نہیں رہتیں تو ان کا گوشت بیچا جاتا ہے۔ یاد رکھو! دو ٹانگوں والے ہمارے دشمن ہیں۔ چار ٹانگوں والے یا جن کے پر ہیں ہمارے دوست ہیں۔ ہمیں انسان کی عادات نہیں اپنانی چاہیں۔ اپنے کمزورساتھیوں کی حق تلفی نہیں کرنی چاہیے اور ان کا قتل نہیں کرنا چاہیے۔ بغیر کسی تفریق کے تمام جانوروں کے ساتھ ایک جیسا برتاؤ کرنا چاہیے۔ رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ہم نے انسان سے آزادی حاصل کر لی ہے اور ہمارے وسائل اور پیداوار پر صرف ہمارا قبضہ ہے۔“

پھر سب نے مل کر آزادی کا وہ گیت گایا جو اس نے خواب میں سنا تھا ( وہ گیت بعد میں ان کا قومی ترانہ بھی بنا) اور گفتگو اختتام پذیر ہوئی۔ سب اپنے گھروں کو لوٹ گئے، مگر Old Major کی باتوں کی بازگشت ان کے کانوں میں گونجتی رہی۔ اگلے روز Old Major اپنی خوب گاہ میں مردہ پایا گیا۔ اس کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سب نے جدو جہد شروع کی۔ سنوبال اور نیپولین نامی سووروں نے تحریک کی قیادت سنبھالی اور بالآخر وہ Mr. Jones کی غلامی سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ آزادی حاصل کرنے کے بعد عہدوپیماں کیے گئے، ترقیاتی منصوبہ یعنی windmill لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ Old Major کے افکار کی روشنی میں سات رہنما اصول وضع کیے گئے اور انھیں دیوار پر جلی حروف میں کچھ یوں لکھا گیا

تمام جانور برابر ہیں
کوئی جانور بیڈ پر نہیں سوئے گا
کوئی جانور شراب نہیں پیئے گا
کوئی جانور کپڑے نہیں پہنے گا
کوئی جانور دوسرے جانوروں کا قتل نہیں کرے گا
دو ٹانگوں پر چلنے والے ہمارے دشمن ہیں
چار ٹانگوں والے یا جن کے پَر ہیں ہمارے دوست ہیں

کچھ عرصہ تو اصولوں کی پاسداری کی گئی۔ لیکن بعد میں سنوبال اور نیپولین نے اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے وضع کردہ اصولوں کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کرنا شروع کر دیا۔ نپولین اور سنوبال نے وی آئی پی کلچر کی بنیاد رکھی جب انھوں نے اور ان کے حواری دیگر سور اور کتوں نے خود کام کرنے کی بجائے دوسرے جانوروں کی نگرانی کرنی اور احکام جاری کرنے شروع کر دیے جبکہ دوسرے جانوروں نے آزادی کی خوشی اور تبدیلی کی لگن میں زیادہ دلچسپی اور محنت سے کام کرنا شروع کردیا۔

یہاں تک کہ نازک طبع مرغیوں اور بطخوں نے بھی اپنی استطاعت سے زیادہ کام کیا۔ حکمران، اشرافیہ اور محنت کش طبقے تشکیل پانے شروع ہو گئے۔ نیپولین اور دیگر نے Mr. Jones کے کپڑے پہننے شروع کر دیے۔ یہاں تک کہ دودھ کو سوروں کے پینے کے لیے چپکے سے غائب کر دیا جاتا اورطاقت کے بل بوتے پر دوسرے جانوروں سے ان کے حصے کے انڈے چھین لیے جاتے۔ تو یہ اصول کہ ”تمام جانور برابر ہیں“ میں کچھ اس طرح ترمیم کی گئی۔ ”تمام جانور برابر ہیں لیکن کچھ اہم ہیں۔“

نیپولین اور سنوبال کے درمیان طاقت کے حصول کے لیے لڑائی شروع ہوگئی اور اختلافات بڑھتے چلے گئے۔ نپولین یہ سمجھتا تھا کہ سنوبال کا ونڈ مل کا آئیڈیا بڑا نایاب ہے جس وجہ سے اس کی مقبولیت میں اضافہ ہو گا۔ اس لیے نپولین نے سنوبال پر اپنے پالتو کتوں کے ایک گروہ، جسے وہ خفیہ طریقے سے پال رہا تھا، کے ذریعے حملہ کروا دیا اور اس گروہ کی مدد سے اپنے اقتدار کو تقویت بخشی۔ طاقت کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف سب کو اپنا محکوم بنا لیا بلکہ ان سے جراتِ اظہار بھی چھین لی اور Mr. Jones کے ہتھکنڈے اختیار کرنے شروع کیے۔

پھر ایک دن نپولین کے حکم پر مرغیوں نے اپنے انڈے بیچنے سے انکار کر دیا تو نیپولین نے اپنے پالتو کتوں کے ہاتھوں ان مرغیوں کو قتل کروا دیا۔ اور افواہ پھیلا دی کہ مرغیاں آنتوں میں کیڑے پڑنے کی وجہ سے جاں بحق ہوئیں۔ یہ بھی تنبیہہ کی اگر کسی نے ان کی اموات پر سوال اٹھایا تو اسے سزائے موت دی جائے گی۔ اور پھر قتل و غارتگری کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو گیا جس کی مثال Mr. Jones کے دور میں بھی نہیں ملتی تھی۔ یہ اصول کہ ”کوئی جانور دوسرے جانوروں کا قتل نہیں کرے گا“ میں کچھ یوں اضافہ ہوا ”کوئی جانور بغیر کسی وجہ کے دوسرے جانوروں کا قتل نہیں کرے گا۔“

جب نیپولین نے شراب نوشی شروع کی تو ”کوئی جانور شراب نہیں پیئے گا“ کے اصول میں شراب سے پہلے ’زیادہ‘ کا اضافہ کر دیا گیا کہ ”کوئی جانور زیادہ شراب نہیں پیئے گا۔“

جانوروں کو سب سے زیادہ حیرت تب ہوئی جب نیپولین اور اس کے ساتھیوں نے دو ٹانگوں پر چلنا شروع کر دیا اور کہا ”چار ٹانگوں والے اچھے ہیں لیکن دو ٹانگوں والے افضل ہیں“ تب تک Old Major کا بیانیہ کے ”دو ٹانگوں والے ہمارے دشمن ہیں“ جانوروں کی یادداشوں سے معدوم ہو چکا تھا۔

اور جب نیپولین نے بیڈ پر سونا شروع کیا تو یہ اصول کہ ”کوئی جانور بیڈ پر نہیں سوئے گا“ میں کچھ یوں اضافہ ہوا ”کوئی جانور بیڈ پر شیٹ کے ساتھ نہیں سوئے گا۔“

نیپولین اور اس کے ساتھیوں نے اپنی طاقت اور اپنے اقتدار کو دوام بخشنے اور اپنے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی خاطر تمام اصولوں کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر دیا اور ظلم وبربریت کی اک نئی داستان رقم کی۔ اور بالآخر انسان انہیں دوبارہ اپنا محکوم بنانے میں کامیاب ہو گیا۔

کہا جاتا ہے کہ کرداروں اور مقامات کے نام کے علاوہ ساری تاریخ جھوٹ ہے۔ اور سارے ناول سچ ہیں ماسوائے کرداروں اور مقامات کے نام کے۔ مگر یہ کہانی سنانے سے میرا مطلوب کچھ بھی نہیں۔ ”کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •