جس دن دلربا نے خوش کردیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہرنام سنگھ اور پربنت کور کی شادی کے کئی سال بعد بیٹا پیدا ہوا۔ بہت دوائیں کیں۔ پیروں فقیروں، گردواروں کے گرد ماتھے ٹیکے تب کہیں خدا خدا کرکے ڈھلتی عمر میں اوپر والے نے اسے پرنام سنگھ کی صورت میں اولاد نرینہ اور وارث عطا کیا۔ اب دونوں میاں بیوی کے جینے کا سہارا اور آسوں امید کا مرکز پرنام سنگھ کے لیے ہرنام سنگھ اور پربنت کور نے کئی کئی خواب دیکھے کئی کئی خیال سوچے۔ انہی سوچوں میں گم ہرنام سنگھ چاہتا تھا پرنام سنگھ پہلوان بنے اکھاڑے میں کثرت کرے۔

پربنت کور کی چاہت تھی پرنام سنگھ رقص سیکھے ماہر رقاص بنے۔ پرنام سنگھ ماں باپ کے حکم کی تعمیل کرنے لگا۔ صبح رقص کی کلاس ہوتی اور شام کو اکھاڑے کا دور چلتا۔ سب کچھ ٹھیک تھا مگر اک تکنیکی مسئلہ تھا پرنام سنگھ اکثر بھول جاتا رقص کہاں کرنا ہے اور زور کہاں دکھانا ہے بلکہ جہاں رقص کی ضرورت ہوتی وہاں زور پہ اتر آتا اور جہاں زور کا کام نکلتا وہاں محو رقص ہوجاتا۔

بلآخر وہ دن بھی آگیا جس دن کا ہرنام سنگھ کو انتظار تھا۔ ہرنام سنگھ کے بیٹے پرنام سنگھ کا پہلا دنگل تھا۔ ہرنام سنگھ نے پوری برادری کو دعوت دی سب کو کہا پہلے کسی نے ایسا پہلوان اور ایسا دنگل نہیں دیکھا ہوگا۔ آس پاس کے گاؤں میں منادی کروائی۔ دنگل کا دن آن پہنچا لوگوں کا جم غفیر خلقت ہی خلقت ڈھول تاشے شہنائیوں کی گونج میں دونوں پہلوان اکھاڑے میں اترے۔ پیشتر اس کے کہ دنگل شروع ہوتا شہنائی کی آواز پہ پرنام سنگھ کے پاؤں تھرکنے لگے۔ اوپر سے کمبخت ڈھولچی چوٹ پہ چوٹ کررہا تھا۔ بس پھر پرنام سنگھ نے اکھاڑے میں سماں باندھ دیا۔ لوگ اور برادری والے اٹھ کر ہرنام سنگھ کو مبارک باد دینے کی بجائے ویلیں دینے لگے۔ ہرنام سنگھ شرمندگی سے منہ چھپائے تو پربنت کور کہے اتنے پیسے دنگل جیت کے نہیں ملنے تھے۔ آدھا تیتر آدھا بٹیر۔

کم و بیش بہتر برس گزرنے کو آئے ہیں پاکستان بنے ہوئے مگر آج تک ہم لوگ اور ہمارے ارباب اختیار بحیثیت مجموعی رقص اور اکھاڑے کے بیچوں بیچ کھڑے ہیں۔ سو جوتے اور سو پیاز بیک وقت نقد جاں کیے ہوئے ہیں۔

خارجہ پالیسی کسی بھی ملک کا دماغ سمجھا جاتا ہے اس میں ہماری مہارت کا یہ عالم ہے آج خدانخواستہ جنگ ہوجائے تو سوائے ایک دو ممالک کے کوئی ہماری اخلاقی حمایت بھی نہ کرے۔ ایران و عرب کی مخاصمت روز روشن کی طرح عیاں ہے مگر قربان ہے ہماری پالیسی پہ آج عرب ممالک مودی کو تمغوں سے نواز رہے ہیں اور ایران ہندوستان کے ساتھ شیر و شکر ہے اور چاہ بہار پہ دونوں یک جان دو قالب ہیں۔ عرب و عجم کی کشمکش میں ہم نے ہمسائیوں کا ساتھ نہ دے کر عربوں سے دوستی گانٹھی اپنا محاذ گرم کرلیا حالانکہ اس وقت غیر جانبداری بہتر ہوتی۔

مگر ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی تھی۔ سو ہم نے ساری عمر امت کے سپاہی اور ٹھیکیدار بن کر عربوں کا مفت تیل پھونکا حلوے مانڈے کھائے۔ جب عربوں نے یمن کے دنگل میں ہمیں آواز دی ہم نے پارلیمنٹ کا اجلاس بلا کے ٹکے ٹکے کی باتیں سنائیں جتنا بے عزت کرسکتے تھے کم و بیش اس سے زیادہ کا حق ادا کیا انتہائی بھونڈے طریقے سے انکار کا رقص شروع کردیا۔ غیر جانبداری کی پیٹھ دکھادی۔ بعد میں ایران کا چکر لگا کر ثالثی کا چورن بیچنے کی کوشش کی۔ راجاؤں کی لڑائی میں گنگوتیلی ثالث۔ انکار کرنے کے اور سو طریقے ہوسکتے تھے مگر۔ ۔ ۔!

کشمیر سلگ رہا ہے اور ساری سیاسی جماعتیں سیاست کا منہ کالا کررہی ہیں۔ بلاول زرداری آزاد کشمیر جاتا ہے ہندوستان اور مودی کی خلاف دنگل سجانے کی بجائے محو رقص ہوکے عمران خان کو کوسنے دینے لگتا ہے۔ عظیم المتربت قبلہ فضل الرحمٰن صاحب سابقہ چیئرمین کشمیر کمیٹی، کشمیر پہ لب بستہ مگر کرسی کے درد کو خاطر میں لاتے ہوئے نیم اٹھک نیم بیٹھک رقص کررہے ہیں۔ بیٹھتا ہوں تو درد اٹھتا ہے درد اٹھتا ہے بیٹھ جاتا ہوں۔

نون لیگ بھی ٹک ٹک دیدم نہ کشیدم کشمیر پہ کچھ کرنے کی بجائے عمران خان کو طعنہ دے رہی ہے۔ موجودہ حکومت نے کشمیر کمیٹی کا دنگل ایک عمر رسیدہ شخص فخر امام صاحب کے سپرد کرکے ان کی بوڑھی ہڈیوں سے انتقام لینا شروع کیا ہے۔ نہ تیرے آنے کی خوشی نہ تیرے جانے کا غم۔ طبل جنگ کی بازگشت سنائی دیتی ہے مگر وزیر دفاع ہنوز تلاش گمشدہ۔ وزیر خارجہ کو کشمیر کا غم کھا جارہا ہے اس غم میں وہ چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہیں۔ اس لیے دنیا کو متحرک کرنے لیے طوفانی دوروں کا دنگل سجانے کی بجائے ٹیلی فون پہ ٹیلی فون رقص آرا کیے ہوئے ہیں۔ شاید اسی کو ڈپلومیٹک آفینسو کہتے ہیں۔

ہر چند حکومت کے پاس مستقبل کی پیش بندی کے نام پہ کوئی لائحہ عمل نہیں محترم وزیر اعظم ایک قدم آگے رکھتے ہیں اور ایک دو قدم پیچھے۔ فیصلہ کرنے کے بعد گول چکر شروع کرتے ہیں۔ مانا وزیر اعظم بھی نے کشمیر کو لے کر کئی ممالک کی یاترا کرنے کا تردد نہیں کیا۔ مگر انہوں نے مثال تو ٹیپو سلطان کی دی ہے۔ وزیر اعظم صاحب نے ان دنوں میں وہ دندان شکن ٹویٹس کیں جن کو پڑھ کر دشمن خوف کے مارے تھر تھر کانپ رہا ہے ان کی توپوں میں کیڑے پڑگئے ہیں۔ دل سے بے اختیار نکلتا ہے آج تو دلربا نے خوش کردیا واہ ٹیوٹو سلطان واہ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •