لاہور کے درختوں کی خیر


\"husnainگزشتہ برس شہر کراچی میں جب شدت کی گرمی پڑی اور کئی انسان موسم کی اس لہر کی نذر ہوئے تو انتظار حسین صاحب نے ایک کالم لکھا۔ اس کالم میں مجید شیخ صاحب کی کتاب ’لاہور‘ ٹیلز آف اے فیبلڈ سٹی، سے انگریزوں کے زمانے کا ایک واقعہ نقل کیا۔ \”تجویز یہ پیش ہوئی کہ مال روڈ خم ہوتی ہوئی چلتی ہے۔ اسے خط مستقیم میں استوار کیا جائے۔ اس منصوبے کی خاطر بہت سے درخت کاٹنے پڑتے۔ اس زمانے میں یہاں ایک انگریز فوجی کرنل نیپیر تعینات تھا۔ اس نے کہا کہ کلہاڑی کی زد میں آئے ہوئے درخت کی بددعا میں نہیں لینا چاہتا۔ سو وہ منصوبہ لپیٹ دیا گیا اور مال روڈ کے درخت بچ گئے۔ مگر جب انگریزوں کا دور گزر گیا اور دیسی لوگوں کا راج آیا تو درختوں کی بددعا کو انھوں نے ایک کان سنا دوسرے کان اڑا دیا۔ اور مال کو دو رویہ بنانے کے چکر میں کتنے درخت کاٹ ڈالے۔ اور پھر پھولوں کی کتنی کیاریوں کو اجاڑ ڈالا۔\”

 

انتظار حسین کو پڑھ کر جنہوں نے لکھنا سیکھا ہو، انہیں بولتا سن کر جنہیں زبان ملی ہو، وہ جانتے ہیں کہ درختوں، پودوں، پھولوں، جنگلوں، اور ان سب پر رہنے والے پرندوں سے انتظار صاحب باقاعدہ عشق کرتے تھے۔ لاہور کے درختوں کو کسی قسم کا خطرہ لاحق ہوتا تو وہ فوراً انتظار صاحب کی طرف دیکھتے اور یہ پوری محبت کے ساتھ اگلے دن کے کالم میں ان کا احتجاج ریکارڈ کروا دیتے۔ جہاں جسمانی احتجاج کی ضرورت ہوتی وہاں درویش استاد اعجاز انور پیش پیش ہوتے۔ خدا زندگی دے، اب بھی ہوتے ہیں۔ اعجاز صاحب کو تو پچھلے دنوں \"Intazar-730x548\"چوبرجی بچاؤ مہم کے سلسلے میں بھی بہت تنگ کیا گیا، بزرگ ہیں، بڑے ظرف والے ہیں، میڈیا خبر دیتا رہا، خود انہوں نے زیادہ بات نہ کی۔ بات کرتے تو یہی کہتے کہ میرا لاہور بچاؤ باقی سب خیر ہے۔

لاہور کی نہر کے درختوں پر جب جب برا وقت آیا انتظار حسین نے ان کی سنی اور آگے بیان کی۔ باغوں میں کوئی درخت کٹا یا مال روڈ پر کچھ ایسا ہونے لگا ہمارا ساونت اپنا قلم سونتے میدان میں ہوتا تھا۔ وہ شخص جس کی ہر بات میں درختوں اور پرندوں کا ذکر ہو بھلا کیسے ان کے کٹنے پر خوش رہ سکتا ہو گا۔ ناصر کاظمی کا آخری انٹرویو کیا تو انہیں کہتے تھے کہ \”درخت اور چڑیاں جن سے میری ملاقات ہے، تمہیں بہت یاد کرتے ہیں۔\” اپنا شاہ کار ناول بستی لکھا تو اس کے پہلے پیرے میں درخت موجود تھے۔ جہاں ماضی سے متعلق کوئی بات ہوتی وہاں کھٹ سے ایک درخت آن موجود ہوتا۔ تو یہ درخت انتظار حسین کی محبت تھے اور اس محبت کو انہوں نے ان گنت لوگوں تک پھیلا دیا۔

کرنل نیپر نے کہا کہ وہ کلہاڑی کی زد میں آئے درخت کی بددعا نہیں لینا چاہتے، کیا دن تھے صاحب، لوگ درختوں کی بددعا سے بھی ڈرتے تھے۔ یہ وہی گورا سرکار تھی جس سے چھٹ کر ہم ایسے خوش ہیں کہ آج تک گالی دئیے بغیر یاد نہیں کرتے۔ درخت کی بددعا اچانک یاد آئی جب ایک دو ہفتے پہلے یونہی کہیں پڑھا کہ درخت آپس میں بات چیت کر سکتے ہیں، جذبات کا اظہار کرتے ہیں اور تکلیف کا احساس ہو تو \"ijaz\"دوسرے درختوں تک یہ بات بھی پہنچاتے ہیں۔ پھر تفصیل سے مضمون دیکھا تو بہت مزے کی باتیں سامنے آئیں۔

 

پیٹر ہولیبین صاحب جرمنی کے ماہر جنگلات ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں کتاب لکھی جس میں یہ تمام دعوے انہوں نے کیے۔ کہتے ہیں ایک دفعہ ایک جنگل سے گزر رہے تھے کہ انہیں کٹا ہوا ایک درخت نظر آیا۔ یعنی درخت کا وہ حصہ جو درخت کاٹنے کی بعد ایک آدھ فٹ زمین سے باہر نکلا رہ جاتا ہے۔ یہ درخت کم از کم چار پانچ سو برس پہلے کاٹا گیا تھا۔ پیٹر حیران رہ گئے کہ ایک بھی پتہ نہ ہونے کے باوجود وہ درخت زندہ تھا، چار سو برس سے زندہ تھا۔ ان کے مطابق اس کی واحد وجہ وہ خوراک تھی جو آس پاس کے درخت اپنے اس زخمی بلکہ اپاہج ساتھی کو جڑوں کے ذریعے پہنچاتے تھے۔ آگے لکھتے ہیں، کتابیں آپ کو بتائیں گی کہ درختوں میں ایک دوسرے سے مقابلہ ہوتا ہے، پانی کے لیے، ہوا کے لیے، روشنی کے لیے اور یہ سروائیول آف دی فٹسٹ والی بات ہوتی ہے، لیکن جب آپ جنگل میں آتے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ درخت اپنی برادری میں ہر فرد کی زندگی چاہتے ہیں اور سب ایک دوسرے کی بھرپور مدد کرتے ہیں۔ یہ ایک دوسرے سے باتیں بھی کرتے ہیں اور وہ باتیں مخصوص الیکٹرک سگنلز سے ہوتی ہیں جو یہ سب اپنی جڑوں کے ذریعے ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں۔ انہیں جڑوں سے یہ دوستوں، خاندان اور اپنے بچوں کو بھی پہچان لیتے ہیں۔

ہمیں لگتا ہے کہ درخت بس مشینیں ہیں جو اپنے جینیٹک کوڈ پر چلتی جا رہی ہیں، ایسا نہیں ہے۔ درخت کے پاس مکمل اختیار ہوتا ہے کہ اس\"lahore-tree-foreign\" نے کیسے بڑا ہونا ہے۔ ان میں اچھے درخت بھی ہوتے ہیں اور برے کردار کے حامل بھی پائے جاتے ہیں۔ کئی درخت ایسے بھی نظر آئے جو کٹنے کے کچھ عرصے بعد بالکل سوکھ گئے جب کہ ان سے دس فٹ دور والے دو سو برس بعد بھی زندہ تھے، ایسا کیوں تھا، اس لیے کہ جو درخت دوسرے درختوں سے سماجی رابطے میں نہیں تھے ان کی مدد بھی کسی نے نہیں کی اور وہ خود خوراک نہ بنا سکنے کی وجہ سے مر گئے۔ درختوں میں بھی بھرپور قبائلی نظام موجود ہوتا ہے۔ اکثر دو اقسام کے درختوں میں اتنا زیادہ فرق ہوتا ہے جتنا ہم میں اور کسی گولڈ فش میں، لیکن ہم اسے کبھی خاطر میں نہیں لاتے۔ دو مختلف اقسام کے درخت اپنی اپنی بقا کی جنگ ضرور کرتے ہیں۔ بعض بدمعاشی کرنے والے درخت شریف نسل کے درختوں کا حقہ پانی بند کر کے انہیں سوکھنے پر مجبور بھی کر سکتے ہیں۔

پیٹر صاحب یہ نہیں کہتے کہ آپ لکڑی استعمال کرنا چھوڑ دیں، نہ ہی وہ جنگلوں میں جا کر درختوں کو گلے لگاتے ہیں یا ان سے باتیں کرتے ہیں۔ وہ ایک شریف سے آدمی ہیں، ان کا کہنا صرف یہ ہے کہ بھئی جتنی ضرورت ہے اتنا لے لیں، نئے درخت بھی ساتھ ساتھ لگائیں اور درختوں سے کوئی بھی سلوک یہ سمجھ کر کیجیے کہ وہ بہرحال محسوسات رکھتے ہیں۔ اگر درختوں کو حساس فرض کر لیا جاتا ہے تو ظاہر ہے، ہم خود ہی محتاط ہو جائیں گے۔

انتظار صاحب کا پرلطف ذکر ایک خبر پڑھنے کے بعد فرض ہوا۔ اس میں یہ دعوی تھا کہ پنجاب حکومت اب پوری کوشش کرے گی کہ کوئی درخت اکھاڑنے کے چکر میں ختم نہ کیا جائے۔ انہوں نے امریکہ سے ایک مشین منگوائی ہے جو پورے کے پورے درخت کو جڑوں سے نکال کر دوسری جگہ منتقل کر سکتی ہے۔ پچاس ملین روپے کی لاگت سے خریدی گئی اس مشین کا واحد مقصد یہ ہے کہ ترقیاتی کاموں میں جہاں کوئی درخت آئے اسے بے چارے کی زندگی بچ جائے۔ کمپنی کی منیجر کے مطابق پچانوے فیصد تک درخت اس مشین کے ذریعے آرام سے منتقل ہو جاتے ہیں اور بچ بھی جاتے ہیں۔ دنیا میں اب تک سینتیس ایسی مشینیں یہ لوگ بیچ چکے ہیں جس میں سے سات ہندوستان نے منگوائی ہیں۔ پریشان مت ہوں رقبے کے تناسب سے ہمیں ایک پر بھی راضی رہنا چاہیے. تو ان سینتیس کا رزلٹ بہرحال پچانوے فیصد کامیابی تھا جو یقینا ایک حوصلہ افزا بات ہے۔

اگلے زمانوں میں طبل جنگ بجتے تھے، اب ہلکی سی جھڑپ کے بعد طبلے بجتے ہی چلے جاتے ہیں۔ لیڈر مارچ کرنے نکلتے تھے تو کئی موسم بیت جاتے، مارچ ختم نہ ہوتے تھے، اب صبح کا مارچ شام کو گھر واپس آ جاتا ہے۔ اخبار پر ایک نظر ڈالی جاتی تھی اور سارے دن کے لیے سینہ گزٹ چلتا تھا، اب سارا دن زبردستی کی بریکنگ نیوز کانوں میں پگھلا کر ڈالی جاتی ہیں۔ تو ایسے کلجگ میں جب کرنے والے ہر کام کو ہڑا ہڑی میں کرنا چاہتے ہوں، درختوں کو سیدھا سیدھا کاٹ پھینکنے کی بجائے یہ صبر آزما مشین خریدنا، انہیں بچانے کا سوچنا اور اس پر عمل کرنا بے شک تعریف کے قابل ہے اور دوسرے صوبوں کے لیے ایک روشن مثال ہے۔

 

 

The Hidden Life of Trees, What They Feel, How They Communicate by Peter Wohlleben is published by Greystone Books.

 

Facebook Comments HS

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 502 posts and counting.See all posts by husnain