نئے پاکستان پر یوٹرن کے اثرات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

الیکشن سے قبل دنیا بھر میں سیاسی جماعتیں عوام کی توجہ اور اقتدار حاصل کے لیے طرح طرح کے سہانے خواب دکھاتی ہیں، دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی صورتحال مختلف نہیں ہے۔ اقتدار میں آنے سے قبل پاکستان تحریک انصاف نے عوام کوکرپشن فری معاشرہ، مہنگائی کے جن پر قابو اور انصاف کی فراہمی کا وعدہ کیا۔ وزیر اعظم عمران خان اقتدار میں آنے کے بعد اپنی کئی تقریروں میں ریاست مدینہ کے حوالہ دیتے ہوئے فلاحی مملکت خدادادکے قیام کے لیے خاصے پرجوش نظر آتے ہیں، لیکن حقائق اس کے بالکل مترادف ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ایک حالیہ خطاب میں کہا ہے کہ لوگ کہتے ہیں آپ یوٹرن کرتے ہیں لیکن یوٹرن کرتے کرتے وزیراعظم بن گیا ہوں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میں اپنے ویژن سے کبھی سمجھوتہ نہیں کرتا۔ وزیر اعظم پاکستان کا خطاب سننے کے بعد شدید پریشانی اور اضطراب کا شکار ہوں کہ کیا ان کا ویژن یو ٹرن لینا ہے جس پر وہ سمجھوتا نہیں کر سکتے۔ ا ن کے ا س بیان سے واضح ہوتا ہے کہ کپتان کے عوام سے کیے گئے تمام وعدے صرف اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ تھے۔ کیا نئے پاکستان اور ریاست مدینہ کے دعوؤں پر بھی یو ٹرن ممکن ہے؟ ویسے ریاست پاکستان میں کچھ بھی ناممکن نہیں لیکن اگر ایسا ہوا تو پاکستانی قوم کی امیدیں دم توڑ جائیں گی۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا 1 سال مکمل ہونے کے بعد تمام ادارے اور وزراء اپنی اپنی کارکردگی قوم کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ اگر معیشت کا جائزہ لیا جائے تو ایف ایم ایف سمیت دیگر اداروں اور ممالک سے لیے گئے قرضوں کے باوجود صورتحال جوں کی توں موجود ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان کا زرمبادلہ 15 ارب ڈالر ہے۔ گزشتہ ایک سال میں مہنگائی کی شرح میں 3 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ڈالر کی قدر میں 53 روپے اضافہ ہوا۔

کرنسی ڈی ویلیوایشن سے اسٹیٹ بینک کے منافع میں 300 ارب کا اضافہ ہوا لیکن وہیں ڈالر کی اونچی اڑان سے گزشتہ ایک سال کے دوران بیرونی قرضوں میں 8500 ارب روپے اضافہ بھی دیکھنے کو ملا۔ گزشتہ ایک سال میں ملک کا مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 34.45 کھر ب روپے رہا جوکہ 1970 کے بعد قومی خزانے کولگنے والاسب سے بڑا جھٹکا ہے۔

انڈسٹری جو کہ کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے او ر ٹیکس ریونیو کا سب سے بڑا ذریعہ بھی سمجھی جاتی ہے، انٹرسٹ ریٹ، ڈی ویلیو ایشن اور ٹیکس کی بھرمار کے باعث ختم ہو تی جا رہی ہے۔ غیر ملکی کمپنیاں ٹیکسوں کی بھرمار کے باعث پاکستان میں موجود اپنے پلانٹس بند کرنے پر مجبور ہیں۔ سابق وزیر خزانہ اور پاکستان تحریک انصاف کے تھنک ٹینک اسد عمر نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ آنے والے چند ماہ میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہو گا۔

پی ٹی آئی قیادت گزشتہ حکومت کو موجودہ معاشی بحران کاذمہ دار ٹھہراتے ہوئے مؤقف اختیار کرتی ہے کہ (ن) لیگی حکومت کی ناقص پالیسیوں اور کرپشن کے باعث حالات اس نہج پر پہنچے ہیں۔ سابقہ حکومت کے دور اقتدار میں 53 ہزار پوائنٹس کی بلندی کو چھونے والی مارکیٹ اچانک 20 ہزار پر کیسے آ گئی؟ کیا اس کے پیچھے بھی (ن) لیگی قیادت کی حکمت عملی ہے؟

نئے پاکستان میں پرانے پاکستان کے تما م حربے اپنائے جا رہے ہیں۔ ایک سال پہلے نئے پاکستان کا خواب دکھا کر الیکشن میں کامیابی حاصل کی گئی لیکن اقتدار میں آنے کے بجائے عمران خان کی ساری توجہ معیشت کے بجائے اپوزیشن جماعتو ں پر الزامات عائد کرنے پر مرکوز تھی۔ اگر پی ٹی آئی قیادت عوام سے لی گئی مہلت کے دوران سیاسی بیانات کے بجائے اپنے دعوؤں کو عملی شکل دینے کی کوشش کرتی توعوام کی توقعات مایوسی میں ہر گز تبدیل نہ ہوتیں۔ پی ٹی آئی قیادت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد عوام کو ملکی تاریخ میں پہلی بار اتنے زیادہ ٹیکسوں کے جھٹکے برداشت کرنا پڑے اور ہوسکتا آنے والے چند ماہ میں ان جھٹکوں میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔

والدین چاہے جتنے غریب ہی کیوں نہ ہوں اپنی اولاد کی خوشیوں کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے اردگرد کئی ایسے افراد ہیں جو کہ مالی مشکلات کا شکار ہیں اور اپنے تن کو ڈھاپنے کے لیے لنڈے بازاروں کا رخ کرتے ہیں، لیکن نئے پاکستان میں شاید اترن کی خریداری بھی ان کے لیے وبال جان بن گئی ہے۔ پی ٹی آئی قیادت نے ٹیکس کی تلوار سے اس غریب طبقے کی آرزوؤں کاخون کرتے لنڈے پربھی 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی لگادی ہے، جو کہ معاشرے کے نچلے طبقے کے لیے سراسر نا انصافی ہے۔

میرے سمیت کروڑوں پاکستانی کافی پرامیدتھے جب وزیر اعظم عمران خان نے حکومت سنبھالنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ حکومتی اخراجات میں کمی لائی جائے گی جبکہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی سستی شہرت حاصل کرنے والی تمام پالیسیوں کا قلع قمع کیا جائے گا۔ سرکاری اشتہارات پر کسی حکومتی رہنما کی تصویر شائع نہیں کی جائے گی، لیکن نانجانے کن مجبوریوں کے باعث حکمران جماعت کا ان شوبازیوں سے دور رہنا محال ہے۔ رمضان بازار کی ریٹ لسٹ، کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد اور بیت المال کی جانب سے امداری رقوم کے علاوہ کئی دیگر حکومتی سرگرمیوں کے لیے بنائے جانے پوسٹر ز او ر اخباری اشتہاروں پر پنجاب کے وسیم اکرم کی تصاویر پی ٹی آئی قیادت کے دعوؤں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

قومی بچت مہم کے تحت وزیر اعظم ہاؤس کی گاڑیوں اور بھینسوں کی نیلامی بھی کی گئی، لیکن گزشتہ دنوں خبر رساں ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا کہ موجودہ حکومت کے ذمہ بجلی کی مد میں 34,787,414 روپے واجب الادا ہیں۔ حکومت کی جانب سے شعبہ صحت میں کی گئی اصلاحات صرف اخباری سرخیوں تک محدود ہیں جبکہ ہسپتال میں آئے مریضوں کے مسائل اجاگر کرنے پر انتظامیہ کو میڈیا کے خلاف سخت ایکشن لینے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے پنجاب میں نئی 9 یونیورسٹیاں قائم کی جارہی ہیں اور اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے صاحب اقتدار طبقے نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو ہدایات جاری کی ہیں کہ سرکاری یونیورسٹیو ں کے فنڈز میں 30 فیصد کمی کی جائے۔ ان نئی یونیورسٹیوں کاقیام پی ٹی آئی کے لیے آئندہ انتخابات میں کافی فائدہ مند ہو گا لیکن اس کا براہ راست اثرات وہاں پر تعلیم حاصل کرنے والے لاکھوں طلباء پر پڑے گا۔ اس سے قبل حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں میں سکالرشپ بھی ختم کر دی گئی ہیں۔

ان حالات کے پیش نظروزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح تعلیم ہے، یونیورسٹی کا معیار جتنا اچھا ہوگا اتنے زیادہ طلبہ آئیں گے، یونیورسٹی پر بھی ملک کی طرح برا وقت آتا ہے لیکن انتظامیہ کو فنڈز کے بغیر ہی یونیورسٹیز کے معیار کو بہتر بنا نا ہو گا۔ تبدیلی سرکار کی جانب سے پرانے تعلیمی اداروں کے فنڈز میں کمی کرکے نئی یونیورسٹیز کی منظوری تو دے دی گئی ہے لیکن وہاں سے تعلیم مکمل کرنے والے لاکھوں طلباء کے مستقبل کے لیے کوئی پلاننگ نہیں کی جا رہی۔ کئی سرکاری یونیورسٹیوں کا تعلیمی معیار ناقص ہونے کی بڑی وجہ پرٹیکلز لیب کی عدم دستیابی ہے۔ کیا نئی یونیورسٹیوں کے قیام سے پہلے سے موجود اداروں کی کارکردگی بہتر ہو گی؟

الیکشن 2018 سے قبل ہی نواز شریف سمیت کئی رہنما کرپشن کے الزامات کے باعث جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھے جبکہ پی ٹی آئی قیادت نے اقتدار میں آنے کے بعد بدعنوان اور کرپٹ سیاستدانوں کو نہ چھوڑنے کا نعرہ لگا کر اپوزیشن رہنماؤں کو احتساب کے شکنجے میں جکڑنے کے لیے کارروائیاں مزید تیز کر دیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کے دوران بارہا کہا کہ ان کرپٹ مافیا سے ایک ایک پائی وصول کروں گا اور انہیں این آر او کسی صورت میں نہیں ملے گا۔ ایک سال گزرنے کے باوجود ان کرپٹ سیاستدانوں سے ایک پائی بھی وصول نہیں ہو سکی۔

عوام کو مہنگائی کے عذاب سے نجات دلوانے کی غرض سے اقتدار میں آنے والی جماعت کو معاشی حالات کی سنگینی کا بخوبی علم تھا، لیکن دیگر حکمران طبقے کی طرح عمرا ن خان کا مقصد بھی اقتدار کا حصول تھا اسی لیے سب کچھ جاننے کے باوجود بھی عوام کو سہانے خواب دکھائے گئے۔ ٹیکس دینا عوام کی ذمہ داری ہے جبکہ اس کے عوض تعلیم، صحت، رہائش سمیت بجلی، گیس جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی حکومت وقت کا اولین فرض ہے۔ اگر حکمران طبقہ عوام سے کیے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہو جائے اور میڈیا پر چیخ چیخ کر اپنے دعوؤں سے لاتعلقی ظاہر کرنے میں فخر محسوس کرے تواس معاشرے میں نا امیدی اور مایوسی پھیلنا عام فہم بات ہے۔ حکومت وقت کو موجودہ حالات میں جذباتی فیصلوں اور جوشیلے نعروں کے بجائے ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جس سے معیشت پر آئے خطرات کے بادل ہٹ سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •