مودی کا سرجیکل آپریشن


\"kashif-pic-5\"

مودی کا سرجیکل آپریشن عرف سیما پار انکاؤنٹر کی لرزہ خیز داستان

جب سے میں نے پاکستانی علاقے میں سرجیکل آپریشن کیا ہے کوئی کہہ رہا ہے کہ میں نے بے پر کی اڑائی ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ میں نے ہوائی قلعہ بنایا ہے۔ کوئی کہتا ہے میں شیخ چلی ہوں جس نے انڈا فروخت کر کے بزنس ایمپائر کھڑی کر دی ہے۔ حالانکہ یہ سب غلط ہے۔ میں نریندر دامودر مودی، بھارت کا وزیراعظم ہوں، کوئی مذاق نہیں ہوں۔ کارروائی میں نے کی، تو سب سے زیادہ مجھے پتا ہو گا ناں کہ میں نے کیا کیا؟ بھیا میں نے سرجیکل آپریشن کیا۔ بھلا کوئی ڈاکٹر یہ کہہ دے کہ اس نے مریض کے گردے کا آپریشن کیا ہے تو کیا آپ اس سے یہ کہتے ہیں کہ نہیں جی آپ نے تو دل کا آپریشن کیا ہے؟ ارے بھئی سرجیکل آپریشن وہ ہوتا ہے جو ہو جائے اور اگلے کو پتا ہی نہ چلے کہ کیا ہوا ہے۔ ہماری تو کام یابی ہی یہی ہے کہ جس ملک کو ہم نے نشانہ بنایا وہ بھی یہی سمجھ رہا ہے کہ اس کے ساتھ کچھ نہیں ہوا ہے۔ لڑکپن میں میں لڑکیوں کوچھیڑ کر بھاگ آیا کرتا تھا اور بعد میں اپنی چھپن انچ کی چھاتی چوڑی کر کے بتاتا تھا کہ میں نے فلاں لڑکی کو چھیڑا ہے۔ مگر وہ لڑکی ہمیشہ تردید ہی کرتی تھی۔ بلکہ ’یہ منہ اور مسور کی دال‘ سمیت دیگر محاورے بھی سناتی تھی، مگر میں نے کبھی پرواہ نہیں کی اور اپنے محلے میں یہ بات مشہور کروا کر رہا کہ یہ مودی ہے، لڑکیوں کو ایسے چھیڑتا ہے کہ انھیں پتا بھی نہیں چلتا۔

\"narendar-modi\"

ویسے تو اس سرجیکل آپریشن کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس آپریشن کے بعد ہمارے باتوں کے بھگت ارنب گوسوامی نے اپنا پروگرام شروع کرتے ہی سب سے پہلے تمام مہمانوں کو ’سرجیکل آپریشن ‘کی مبارک باد دی تھی، جسے سب مہمانوں نے سمّانت بھی کیا تھا۔ میں جھوٹ نہیں کہہ رہا اس پروگرام کی فوٹیج موجود ہے۔ آپ خود دیکھ سکتے ہیں۔

لیکن لگتا ہے کہ آپ ایسے ماننے والے نہیں۔ تو جناب اب میں آپ کو اپنے سرجیکل آپریشن کی پوری تفصیل بتاتا ہوں۔ ہمارے کمانڈوز کنٹرول لائن کے اندر تین کلومیٹر سے پانچ تک داخل ہوئے۔ ان تین مقامات کا طول بلد اور عرض بلد ہم نہیں بتا سکتے تاکہ ایسا نہ ہو کہ پاکستان وہاں پر حفاظتی انتظامات مزید سخت کر لے۔ کیونکہ ہم نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ہم ایسا سرجیکل آپریشن دوبارہ بھی کر سکتے ہیں۔ اگر ہم نے ان مقامات کا طول بلد اور عرض بلد بتا دیا تو ایسا نہ ہو کہ وہاں پاکستانی فوجی پہرا دینے لگیں اور جب ہم وہاں دوبارہ دھاوا بولیں تو وہ ہمیں ’’چااااا‘ کر کے حیران کر دیں۔

تو ہمارے کمانڈوز نے جب کنٹرول لائن پار کی تو بھارتی وقت کے انوسار ساڑھے بارہ بجے تھے۔ پاکستانی فوج نے ویسے تو کنٹرول لائن پر کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہوا تھا لیکن اس رات انھوں نے ناغہ کیا ہوا تھا۔ اب آپ پوچھیں گے کہ ناغہ کیا ہوتا ہے؟۔ پاکستانی گائے کا گوشت کھاتے ہیں مگر منگل کو گوشت فروخت نہیں کرتے۔ اسے ناغہ کہتے ہیں۔ تو آدھے پاکستانی فوجیوں نے ناغہ کیا ہوا تھا۔ کچھ پاکستانی فوجی وہاں موجود بھی تھے مگرہم نے اسی موقع کے لیے اپنے فوجیوں کو راگ نیلمبری سکھایا ہوا تھا جسے گانے سے اسے سننے والا گہری نیند میں چلا جاتا ہے۔ ہمارے کمانڈوز ہوشیار تھے اس لیے راگ نیلمبری گاتے ہوئے انھوں نے اپنے کانوں میں روئی ٹھونسی ہوئی تھی۔ تو راگ نیلمبری سنتے ہی باقی ماندہ پاکستانی فوجی بھی سو گئے اور ہمارے کمانڈو کچھ زمینی اور کچھ آسمانی راستوں سے اپنے اہداف تک پہنچ گئے۔

کنٹرول لائن کے تین کلومیٹر کے اندر اندر پاکستان نے مداخلت کاروں کے لیے لانچنگ پیڈ بنائے ہوئے تھے۔ لانچنگ پیڈ وہ ہوتا ہے جس پر سے اولمپکس میں لڑکیاں اچھل کر قلابازیاں کھاتی ہوئی پانی میں غوطہ کھا جاتی ہیں۔ آتنک وادی ان لانچنگ پیڈز پر اچھل کر تین کلومیٹر دور مقبوضہ کشمیر جا پہنچتے ہیں۔ یہ لانچنگ پیڈ مردان یا ٹوبہ ٹیک سنگھ میں نہیں بلکہ عین کنٹرول لائن پر بنائے جاتے ہیں تاکہ آتنک وادی قریب سے اچھلے۔ یہ لانچنگ پیڈ آٹھ تھے اور ہر لانچنگ پیڈ پر پچیس پچیس آتنک وادی موجود تھے۔آتنک وادی پاکستانی فوج کے اتنے لاڈلے ہیں کہ وہ گارڈ بھی رکھتے ہیں، اور وہ بھی پاکستانی فوجیوں کو۔ ہر لانچنگ پیڈ پر ایک ایک پاکستانی فوجی بہ طور گارڈ بھی موجود تھا۔ گارڈز نے ہمارے کمانڈوز کو دیکھا تو پوچھا بھی کہ ارے آپ یہاں کہاں؟ کیسے آنا ہوا۔ مگر ہمارے کمانڈو ڈیم سیرئس تھے اس لیے انھوں نے فوری طور پر ان پر فائرنگ کر دی اور انھیں مار ڈالا۔

اس کے بعد ہمارے کمانڈوز ان آٹھ لانچنگ پیڈز کے اندر گھس گئے۔ کمانڈوز حیران ہوئے کہ کسی لانچنگ پیڈ میں آتنک وادی سو رہے تھے، اور کسی میں بیٹھے لڈو کھیل رہے تھے۔ ایک لانچنگ پیڈ پر تو لوگ بھارتی فلم ’مشن کشمیر‘ بھی دیکھ رہے تھے۔ ہم نے ہر لانچنگ پیڈ پر موجود پچیس میں سے اوسطاً چار اعشاریہ سات پانچ آتنک وادیوں کو ہلاک کیا اور ان کی کل تعداد اڑتیس بنتی ہے۔ اور یہ بعد کے اعشاریہ سات پانچ کو مارنے میں ایسی پیچیدگی پیدا ہوئی کہ بقیہ بیس اعشاریہ دو پانچ آتنک وادی فی لانچنگ پیڈ وہاں سے بھاگ نکلے۔

بھاگنے والے آتنک وادیوں کی تعداد ایک سو باسٹھ تھی۔ ہم نے ان کے اسلحے وغیرہ کو ہاتھ لگانا یا ان پر قبضہ جمانا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ آتنک وادیوں نے انھیں بھرشٹ کر دیا تھا۔ نہ ہی مردہ آتنک وادیوں سے کوئی مال جائے وقوعہ سے برآمد کیا۔ بھاگنے والے آتنک وادیوں کی رفتار ہماری گولیوں کی رفتار سے تیز تھی، اور ویسے بھی آپ نے جدید فلمیں دیکھی ہوں گی جس میں آدمی گولی کو اپنی جانب آتا دیکھ کر اِدھر اُدھر جھُکائی دے جاتا ہے۔ خیر جو بھاگ گئے وہ بھاگ گئے۔ ہم نے مردہ آتنک وادیوں کی لاشیں دیکھیں۔ پوری اڑتیس تھیں۔ باہر پاک فوج کے محافظوں کی لاشیں گنیں، وہ نو تھیں۔ ہر لانچنگ پیڈ کے حساب سے آٹھ فوجی ہونے چاہئیں تھے۔ایک فوجی شاید بعد میں آیا اور اپنے پیٹی بند بھائیوں سے اظہارِ یک جہتی کے طور پر مر گیا۔ تمام پاکستانی فوجی اپنی شناخت اور ہماری آسانی کے لیے وردیاں پہنے ہوئے تھے، جب کہ آتنک وادی پرائیویٹ کپڑوں میں تھے۔

ہم چاہتے تو ان میں سے چند ایک کی لاشیں بہ طور نمونہ ساتھ بھی لا سکتے تھے، لیکن یہ کوئی پولیس انکاؤنٹر تھوڑا ہی تھا؟ سرجیکل اسٹرائیک تھی۔ ظاہر ہے کہ ممبئی پولیس کے انکاؤنٹر اور فوجی انکاؤنٹر میں کوئی تو فرق ہونا چاہیے۔

کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ اگر اڑتیس آتنک وادی اور نو پاکستانی فوجی مارے گئے ہیں تو ان کی لاشیں کہاں ہیں اور وہ کہاں دفنائی گئیں؟ یہ لوگ اتنے معصوم ہیں کہ انھیں یہ بھی معلوم نہیں کہ مسلمانوں کا شہیدوں کے بارے میں کیا موقف ہے۔ بھگوان ویسے تو ہمارے ساتھ ہے مگر چونکہ وہ سیکولر ہے اس لیے مسلمانوں کے مذہبی خیالات کا احترام کرتے ہوئے مسلمان شہیدوں کو زندہ سلامت آسمان پر اٹھا لیتا ہے۔ ابھی ہم نے اڑتیس آتنک وادیوں اور نو پاکستانی فوجیوں کو مار گرایا ہی تھا کہ ان کی لاشیں آسمان کی جانب پرواز کرنے لگیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کی لاشیں سپردِ خاک کرنے کی کہیں سے بھی اطلاع نہیں آئی۔

ہمارا یہ حملہ ساڑھے بارہ بجے سے ساڑھے چار بجے تک کے دوران جاری رہا۔ یعنی کل ملا کر چار گھنٹے اس میں لگے۔ اس پر بھی بہت اعتراضات کیے جا رہے ہیں ۔ ایک اعتراض یہ ہے کہ چار گھنٹے کے دوران پاکستان والوں کو اس حملے کی اطلاع کیوں نہیں ہو سکی۔ معترضین کا خیال ہے کہ جو ایک سو باسٹھ آتنک وادی ہم سے بچ نکلنے میں کام یاب ہوئے انھوں نے اپنے پاکستانی دوستوں کو اطلاع کیوں نہیں دی؟ انھیں مس کال کیوں نہیں کی؟ بہت بودا اعتراض ہے۔ آتنک وادیوں کے بھاگنے سے پہلے ہم نے ان سے موبائل فون اور سیٹلائٹ فون رکھوا لیے تھے۔ اور بھاگتے وقت ان سے یہ گارنٹی بھی لی تھی کہ زیادہ دور مت جانا، ورنہ ہمارا ہیلی کاپٹر پیچھے ہی آئے گا۔ اس لیے وہ بھاگ کر وہیں قریب ہی چھپ گئے۔ البتہ ایک لانچنگ پیڈ پر ایک آتنک وادی کے موبائل پر بار بار کسی کی کال آ رہی تھی۔ ہمارے ایک کمانڈو نے اس کا موبائل اٹھا کر اس کالر کو ایس ایم ایس کیا کہ ’’یار کبھی آرام سے سونے بھی دیا کرو۔ آئی ول کال یو لیٹر۔‘‘

یہ سارے موبائل اور سیٹلائٹ فون بھی ہمارے کمانڈوز اپنے ساتھ نہیں لائے، کیونکہ دلی اور ممبئی میں اس سے کہیں اچھے موبائل ملتے ہیں۔ ہماری اپنی آئی ٹی انڈسٹری ہے ہم ایسے موبائل اپنے ملک میں کیوں آنے دیں؟ اور پھر جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ یہ سب موبائل اور سیٹلائٹ فون بھرشٹ ہو چکے تھے۔ البتہ اب ہم نے سوچا ہے کہ کچھ موبائل اور سیٹلائٹ فونز کو پوتر کر کے لے آنا چاہیے تھا، سو اس کا بندوبست اب ہم کر رہے ہیں۔ (یار اس احمق کرنل چکر ویو کو آٹھ سیٹلائٹ فون منگوانے کا کہا تھا، کب تک لا کر دے گا وہ؟ )

ایک اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ سرجیکل اسٹرائیک اچانک ہوتی ہے۔ پھر ہمارے کمانڈو چار گھنٹے تک وہاں کیا کرتے رہے۔ بھئی ہمارے کمانڈوز نے اڑتیس آتنک وادیوں کو تو فوراً ہی ہلاک کر دیا تھا۔ پھر وہ اس انتظار میں وہاں بیٹھ گئے کہ شاید بھاگے ہوئے آتنک وادیوں میں سے کچھ کو ہماری تنہائی کا کچھ خیال آ جائے اور وہ واپس چلے آئیں۔ مگر وہ ایسے بزدل نکلے کہ لوٹ کر نہ آئے۔ ہمارے کمانڈوز نے اس دوران وہاں فلم ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ لگا لی جس کا انتظام وہ پہلے سے کر کے آئے تھے۔ ہاں بیچ بیچ میں جب ایک آتنک وادی کے موبائل پر کال آتی تھی تو ایک لانچنگ پیڈ پر بار بار ’پاز‘ کا بٹن دبانا پڑتا تھا۔ اس لانچنگ پیڈ پر یہ فلم بہ مشکل مکمل ہو سکی۔

آپریشن ختم ہونے کے بعد ہم جب سر جوڑ کر بیٹھے تو کسی نے کہا کہ آپریشن کے لیے اپنے کمانڈوز کو وہاں بھیجا کیسے جائے۔ میں نے کہا کہ ہیلی کاپٹروں سے، اور کیسے؟ ایک افسر نے کہا کہ چھاتا برداروں کو ہیلی کاپٹر سے اتارا جا سکتا ہے مگر واپس چڑھانے کے لیے ہیلی کاپٹر کا زمین پر اترنا ضروری ہے۔ میں نے کہا غلط، بالکل غلط۔ فلموں میں اداکار آئے روز ہیلی کاپٹر سے لٹکی رسیوں سے نیچے اور اوپر چڑھتے رہتے ہیں۔ ابھی اگلے روز شاہ رخ خان نے ایک فلم میں پریتی زنٹا کو اسی طرح ریسکیو کیا تھا۔ دوسرا اعتراض انھوں نے یہ کیا کہ انسانوں کو رشوت دے کر یا راگ نیلمبری سنا کر سلایا جا سکتا ہے مگر ریڈار کو نہ رشوت دی جا سکتی ہے نہ وہ ایسا کن رس ہوتا ہے کہ راگ نیلمبری سن کر سو جائے۔ اس لیے ہیلی کاپٹر کا آئیڈیا ترک کر دیا گیا۔ ہمیں زیادہ بہتر یہ لگا کہ اپنے فوجیوں سے آمد اور روانگی کے موقع پر ایک زبردست قسم کی پہاڑی دوڑ لگوائی جائے۔ چناچہ اتفاق ہوا اور ہمارے فوجی فلم ختم ہونے کے بعد سیٹی بجتے ہی دوڑ کر اپنے مورچوں میں آ گئے۔ جو فوجی جیت گیا اس پر دوسرے فوجیوں نے دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے سے ہی مورچے میں موجود تھا۔ جھگڑا اتنا بڑھا کہ وہ فوجی ان کے ساتھ دوبارہ سے پاکستانی حدود میں جا کر لانچنگ پیڈ کو چھو کر واپس آنے کے لیے دوڑ لگانے پر تیار تھا۔ انھیں بڑی مشکل سے منع کیا گیا۔

جب ہمارے فوجی واپس آ رہے تھے تو راگ نیلمبری کا اثر پاکستانی فوجیوں پر تب تک قائم تھا۔ ایک پاکستانی فوجی انگڑائی لے کر اٹھ رہا تھا۔ اس کی نظر ہمارے ایک فوجی پر پڑ گئی تو ہمارے فوجی نے ہوشیاری سے کام لے کر فوراً اپنے دائیں ہاتھ کی چھنگلی اوپر اٹھا کر اسے اپنے مقصد سے آگاہ کر دیا۔ پاکستانی فوجی مسکرا کر دوبارہ سے سو گیا۔

وہاں سے ہماری واپسی کے بعد میں نے ارنب گوسوامی سے کہا کہ یار میرے کمانڈو وہاں گئے ہوئے تھے۔ تم ان سے لائیو وڈیو بیپر ہی لے لیتے۔ اس نے کہا کہ شرم کرو۔ اُس وقت میرے پروگرام کی رپیٹ ٹیلی کاسٹ چل رہی ہوتی ہے۔ لائیو وڈیو بیپر کا صحیح وقت رات دس بجے ہے۔ آیندہ اس کا خیال رہے۔ میں نے کہا کہ اب کیا ہو سکتا ہے؟ اس نے کہا کہ لائیو وڈیو بیپر تو کہیں سے بھی ہو سکتا ہے۔ بس اسکرین پر شہر کا نام لکھنا ہوتا ہے جو کوئی بھی لکھا جا سکتا ہے۔ ایک خیال ہمارے کچھ کمانڈوز کو یہ آیا کہ پاکستانی علاقے میں انھوں نے اپنی سیلفیاں اور وڈیوز تو بنائی ہی نہیں۔ انھیں شاہ رخ اور کاجول کے ڈانس سے فرصت ملتی تو بناتے ناں؟ بے وقوف کہیں کے۔

جب حملہ ختم ہو گیا اور ہمارے کمانڈوز اپنے مورچوں میں واپس آ گئے تو میں نے سوچا کہ پاکستانی ڈی جی ایم او کو ایک کرسٹی کال ہی کر لینی چاہیے۔ تو ہمارے ڈی جی ایم او نے پاکستانی ڈی جی ایم او کو فون کر کے بتایا کہ یار اپنے سپاہیوں کو جگا دو، ہم چار گھنٹے سے تمھارے علاقے میں کارروائی کر رہے تھے۔ اب ہم واپس آ گئے ہیں اور ہمیں اب آرام کرنا ہے۔پاکستانی ڈی جی ایم او حیران ہو گیا اور اس نے پنجابی اسٹائل میں کہا : ’’ناں کر یار؟، لیکن یہ سب تم مجھے کیوں بتا رہے ہو؟‘‘ ہمارے افسر نے تُرنت جواب دیا کہ ایسا نہ ہو کہ ہمارے بعد وہاں چینی یا امریکی بھی گھس جائیں اور ان کی چوری چکاری کا الزام بھی ہم پر آ جائے۔ چیزیں گن لینا۔ پوری ہیں۔ ہم بھارت ماتا کے سپاہی ہیں، کوئی چور نہیں۔ لیکن پاکستانی افسر نے کہا کہ وہ ناراض ہے۔ کہنے لگا یار یہ کیا طریقہ ہے؟ آنے سے پہلے ایک مس کال ہی کر لی ہوتی۔ اس پر ہمارے ڈی جی ایم او نے انٹیلی جینس کورس میں پڑھائے گئے خالص اردو محاورے میں جواب دیا کہ ’’یار زندہ صحبت باقی‘‘ اور فون بند کر دیا۔

\"مودی

اس تمام حملے میں ہمارا کوئی کمانڈو ہلاک تو کیا زخمی تک نہیں ہوا۔ حملے کے بعد جب کمانڈو اپنے اپنے مورچوں میں پہنچ گئے تو ایک جنرل صاحب نے کہا کہ خیر سگالی کے اظہار کے لیے اور اخلاقی طور پر ہمارا بھی کوئی آدمی کم از کم زخمی تو ضرور ہونا چاہیے، جیسا کہ ممبئی کے انکاؤنٹرز میں ہوتا ہے۔ اس تجویز کی معقولیت سبھی کو نظر آئی۔ اس کے بعد کمانڈوز پر نظر دوڑائی گئی کہ ان میں سے کس کو زخمی ہونا چاہیے۔ ان میں سے ایک شکل سے ہی زخمی زخمی سا لگتا تھا جس کی مرہم پٹی کر کے اسے فوراً اسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔

آپریشن کے بعد مجھے رام گوپال ورما کا فون آیا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ وہ اس واقعے پر فلم بنانا چاہتا ہے، اسکرپٹ کس سے لکھوائے؟ میں نے کہا تمھارا بھائی حاضر ہے۔ ویسے تمھارا بھائی ہیرو بھی آ سکتا ہے کیونکہ اس کی عمر رجنی کانت سے کم ہے۔

تو جناب یہ ہے کہانی ہمارے سرجیکل آپریشن کی۔ اگر آپ نے کسی انڈین فلم میں دو بچھڑے ہوئے بھائیوں کو بچپن کے کسی گیت کی وجہ سے ملتے دیکھ کر اعتراض نہیں کیا، اگر آپ نے کاروں کے اڑنے اور ہیرو کے چھتوں سے لمبی لمبی چھلانگیں لگانے پر اعتراض نہیں کیا، اگر آپ نے یہ نہیں پوچھا کہ ایک ہیرو دس دس بیس بیس غنڈوں کو تنِ تنہا کیسے پیٹ سکتا ہے اور سلمان خان کسی غنڈے کو پٹختا ہے تو وہ غنڈا ٹپّہ کھا کر اچھل کیوں جاتا ہے۔ اگر ہیرو پر تنی ہوئی پستول میں سے گولی ہمیشہ غائب ہو سکتی ہے اور اگر ہیرو کی محبوبہ کا ریپ ہوتا دیکھ کر ہیرو کا کتا اس کی عزت کا محافظ بن سکتا ہے تو میرے سرجیکل آپریشن پر اعتراض کیوں؟ میری کہانی ان تمام کہانیوں سے زیادہ ناقابلِ یقین تو نہیں۔

Facebook Comments HS