اپوزیشن مطالبات کی فہرست کیا ہونی چاہیے

اپوزیشن نے ملک کے مختلف حصوں میں پے در پے جلسے کر کے اتنی کام یابی تو حاصل کر لی ہے کہ وزیراعظم عمران خان اب یہ کہنے لگے ہیں کہ وہ این آر او کے سوا اپوزیشن سے تمام نکات پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس موقع پر لانگ مارچ سے پہلے اتمام حجت کے لیے حکومت کو ان مطالبات کی فہرست پیش کی جا سکتی ہے جن میں سے ایک میں بھی این آر او یا نیب کو غیر موثر کرنے کا مطالبہ موجود نہ ہو مگر اس کے باوجود اپوزیشن کو وہ سب کچھ مل جائے جو اس ملک کے عوام کی حقیقی ضرورت ہے۔

یاد رکھیے۔ بے نظیر بھٹو نے پرویز مشرف کے آخری دنوں میں ان سے صرف ایک اہم مطالبہ کیا تھا کہ وہ وردی اتار دیں۔ ایک بار پرویز مشرف نے وردی اتار دی تو جمہوریت کی بحالی کے لیے باقی کام خود بخود ہوتے چلے گئے۔

Read more

وبا کے دنوں میں سیاحت

مارچ کے ان آخری دنوں میں انٹرنیٹ پر دنیا بھر کا نقشہ کھولے میں یہ غور و فکر کر رہا ہوتا تھا کہ اس بار گرما کی چھٹیوں میں کہاں جایا جائے۔ دنیا بھر کے اتنے بہت سارے ملک دامنِ دل کھینچ کر کہتے تھے کہ جا ایں جاست۔ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا تھا۔ اس بار ان دنوں دنیا کا نقشہ کھولوں تو یہی سوال میرے سامنے ہوتا ہے کہ کہاں جایا جائے۔

سوال وہی ہے لیکن اس بار اس سوال کا مطلب بدل چکا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب دنیا کے کئی ملکوں میں لوگ ایک وبا سے ہلاک ہو رہے ہیں مجھے سیاحت کی کیا سوجھی؟ سیاحت تو فرصت کے دنوں کا کام ہے، ایسے لوگوں کا جن کے پاس فراغت بھی ہو اور دولت بھی۔

Read more

طلبہ یک جہتی مارچ اور مناظر کی معنویت

کراچی پریس کلب کے سامنے مارچ میں شرکت کے لیے پہنچا تو وہاں کئی رنگ کے لڑکے لڑکیاں موجود تھے۔ پھٹی پرانی جینز والے بھی اور شلوار قمیض والے بھی، برقع پوش لڑکیاں بھی اور جینز اور شرٹ میں ملبوس لڑکیاں بھی۔ پشتون لڑکوں نے الگ منڈلی جمائی ہوئی تھی۔ نظامت ایک منحنی سی لڑکی نے سنبھالی ہوئی تھی مگر اس کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ اس مارچ کا ڈول تو ترقی پسند اور لیفٹ سے وابستہ طلبہ نے

Read more

ایاز میلو: وقت سے چرایا ہوا ایک دن

کراچی کے علاقے ملیر میں ایک علاقے کا نام یار لوگوں نے ”محبت نگر“ رکھ چھوڑا ہے۔ آپ کا دوست وہاں تک تو نہیں جا سکا لیکن اس سے آگے حیدرآباد تک متعدد بار ہو کر آیا ہے اور سمجھتا ہے کہ حیدرآباد میں سندھ میوزیم اور قرب و جوار کے علاقے کا نام ”محبت نگر“ رکھ ہی دینا چاہیے۔ اس بار ہمیں ایاز میلو میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ ہم اپنی ناقابلِ اعتبار گاڑی کو ناقابلِ اعتبار ہی سمجھتے ہوئے چھوڑ کر صبح صبح عزیزم رفاقت حیات کے طے کردہ مقام الآصف اسکوائر پہنچے تو وہاں وہ ایک قابلِ اعتبار گاڑی اور دو مزید مسافروں کے ساتھ موجود تھے۔

دورانِ سفر رفاقت حیات نے ادبیات اور فکشن سے متعلق اپنے فکر و فلسفے سے ہمیں کماحقہ آگاہ کیا۔ جس انداز سے وہ سندھ کا ذکر کرتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ کسی پرستان کا ذکر کر رہے ہیں۔ موٹروے کے دونوں طرف نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے پرستان بھی موجود تھے۔ پریوں کی کہانیاں سننے والے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی ان سوسائٹیوں کے سپرد کرتے ہیں اور ہاتھ جھاڑ کر گھر آ جاتے ہیں۔ پھر ایک سہانی صبح حکومت یا اس کا کوئی ادارہ انھیں اطلاع دیتا ہے کہ وہ ہاؤسنگ سوسائٹی تو قانونی تھی ہی نہیں۔ اس طرح ریاست نے عام شہریوں کے ضرورت سے زیادہ امیر ہو جانے کی روک تھام کے لیے مناسب انتظام کر رکھا ہے۔

Read more

ایمپریس مارکیٹ

کتابوں کے علاوہ کچھ بھی اور خریدتے ہوئے مجھے وحشت ہوتی ہے لیکن کراچی کی ایمپریس مارکیٹ ایک ایسی جگہ ہے جہاں میں ہمیشہ شوق سے جاتا ہوں۔ ہر ہفتے ایک مرتبہ بچوں کو اسکول چھوڑنے کے بعد میں صبح صبح ایمپریس مارکیٹ پہنچتا ہوں۔ اس وقت سبزیاں گاڑیوں سے اُتاری جا رہی ہوتی ہیں اور ان پر پانی ترونکا جا رہا ہوتا ہے۔ پچھلے چند ماہ سے چینی خواتین و حضرات بھی ایمپریس مارکیٹ میں دکھائی دینے لگے ہیں۔

Read more