کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا: امن کے لئے ایک آواز

\"edit\"بھارت کی حکومت اور انتہا پسند ہندو تنظیموں کی طرف سے جنگ جوئی کی نعرے بازی کے ہنگام میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے سربراہ ستیا رام یچورے نے سفارت کاری اور سیاسی اقدامات کرتے ہوئے اشتعال انگیزی ختم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ آرٹ اور کھیلوں کو سیاست سے باہر رکھنے کی ضرورت ہے اور پاکستانی فنکاروں پر پابندی لگانے کی باتیں کرنا درست طریقہ نہیں ہے۔ اسی طرح کراس بارڈر دہشت گردی ختم کرنے کے لئے بھارت کو بڑے اور طاقتور ملک کے طور پر پاکستان کے ساتھ سفارتی اور سیاسی طریقوں سے اس مسئلہ کو حل کرنا چاہئے۔ انہوں نے خطے میں امریکہ کے بڑھتے ہوئے فوجی کردار پر بھی تشوش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم بھارتی حکومت مسلسل سخت لب ولہجہ اختیار کئے ہوئے ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان اوڑی حملہ کے بعد تناؤ کی جو صورت پیدا ہوئی ہے، بھارت میں اسے مسلسل اشتعال پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ انتہا پسند ہندو تنظیمیں پاکستانی فنکاروں اور کھلاڑیوں کا بائیکاٹ کرنے کی مہم چلارہی ہیں اور ملک میں متوازن بات کرنے والوں کو بھی تند و تیز تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس ماحول میں بالی وڈ کے اکثر نمایاں فنکار بھارت کے ساتھ اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لئے پاکستان مخالف اور بھارت کی نام نہاد ’سرجیکل اسٹرئیک‘ کی کامیابی پر قوم پرستانہ ٹویٹ پیغامات بھیجنے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں۔ بھارت کے سینئر اور مقبول اداکار امیتابھ بچن نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’ بھارتی فوج سے مت الجھنا‘۔ تاہم بعد میں بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یہ تو ہماری ایک فلم کا ڈائیلاگ تھا۔ لوگ بات کو نہ جانے کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اگر حکومت یا تنظیم کسی فنکار پر پابندی لگاتی ہے تو اس کا احترام کرنا ہوگا۔ اس دوران بھارت کے ممتاز فلمساز کرن جوہر اور مقبول اداکار سلمان خان نے پاکستانی فنکاروں کو ملک سے باہرنکالنے کی دھمکیوں کو غلط قرار دیا تھا۔ لیکن اس کے بعد ان دونوں کو انتہا پسند ہندو تنظیموں کی طرف سے دھمکیوں کا سامنا ہے۔ شیو سہنا نے سلمان خان سے کہا ہے کہ وہ پاکستان منتقل ہو جائیں۔

اس دوران 28 اور 29 ستمبر کی درمیانی شب کو لائن آف کنٹرول کے پار پاکستانی علاقے میں بھارتی سرجیکل اسٹرائک کے دعوؤں اور انہیں مسترد کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ آئی ایس پی آر ISPR کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کل پاکستانی اور غیر ملکی صحافیوں کو باکسر اور ہاٹ اسپنگ کے سرحدی علاقوں میں لے گئے اور فوجی افسروں نے انہیں لائن آف کنٹرول کی صورت حال کے بارے میں مطلع کیا۔ جنرل باجوہ نے اس موقع پر واضح کیا کہ بھارت نے کوئی سرجیکل اسٹرائک نہیں کی ہے لیکن اگر اس نے ایسی غلطی کا ارتکاب کیا تو اس کے تصور سے بھی ذیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی افواج ہر صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اس موقع پر صحافیوں نے سرحدی علاقوں میں آباد لوگوں سے بھی ملاقات کی جنہوں نے سرجیکل اسٹرائیک سے مکمل لاعلمی ظاہر کی۔ اس دوران اقوام متحدہ کے مبصر گروپ کے سربراہ اسٹیفن دوجارک نے اسلام آباد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کسی بھارتی سرجیکل اسٹرائک سے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم نے کسی فائرنگ کا مشاہدہ نہیں کیا لیکن سیز فائر کی خلاف ورزی کی شکایت ضرور موصول ہوئی ہے۔

ایک جاپانی جریدے’دی ڈپلومیٹ‘ نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت کے پاس سرجیکل اسٹرائک کی صلاحیت نہیں ہے ، نہ ہی اسے اس مقصد کے لئے مناسب ساز وسامان دستیاب ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق بھارت نے اس حوالے سے میڈیا میں شور مچاکر غیر محتاط رویہ اختیار کیا ہے اور پاکستان کے صبر کو چیلنج کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پاکستانی فوج اور عالمی حلقوں کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیک کے دعوے کو مسترد کئے جانے کے باوجود بھارت کی حکومت اب بھی اس بارے میں ڈھول پیٹنے میں مشغول ہے۔ بھارتی میڈیا نے آج ایک خبر میں بتایا ہے کہ بھارتی فوج کے سربراہ جنرل دلبیر سنگھ نے لائن آف کنٹرول کے سرحدی علاقے میں فوج کی تیاریوں کا معائنہ کیا اور اس دستے سے ملاقات کی جس نے پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیک کی تھی۔ بھارت کے وزیر دفاع منوہر پاریکر نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان بھارتی سرجیکل اسٹرائیک کے بعد سرجری کے بعد طاری بے ہوشی کی کیفیت میں ہے۔ اس لئے اسے خبر ہی نہیں کہ بھارت نے اس کے علاقے میں کارروائی کرکے دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے۔ انہوں نے اس نام نہاد سرجیکل اسٹرائیک کرنے والی بھارتی فوج کو ہندو دیوتا ہنومان کے مماثل قرار دیا جس نے غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ہی جست میں سمندر عبور کرلیا تھا۔

اس ماحول میں فی الوقت صرف انڈین کمیونسٹ پارٹی کی طرف سے ہوشمندی کی بات کرنے کا حوصلہ کیا گیا ہے۔ سرحد کے دونوں طرف سے ایسی آوازیں بلند کرنے اور جنگ کے جنون میں مبتلا طاقتوں کو مسترد کرنے کی شدید ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words