خود کے جنتی ہونے کا یہ یقین کیسا؟


\"farnood\"

آپ دیوبندی ہیں !
کیونکہ آپ نے ایک سکہ بند دیوبندی گھرانے میں جنم لیا تھا۔

آپ بریلوی ہیں !
کیونکہ آپ نے آنکھ کھولی تو گھر میں میلاد کی محفل برپا تھی۔

آپ اہل حدیث ہیں !
کیونکہ آپ براہ راست کسی لوکل مجتہد کی گود میں پیدا ہوے تھے۔

آپ شیعہ ہیں !
کیونکہ آپ نے آنکھ کھولی تو پنجتن پاک، شہدائے کربلا اور بارہ امام ہی دیکھنے کو میسر تھے۔

پھر ہوا یوں کہ !

آپ میں کا ہر ایک ٹھیک ٹھہرا، باقی تین کافر ہوگئے۔ حور و غلمان کے جملہ حقوق آپ کے نام ہوگئے۔ بہشت بریں کی سب رستوں گلیوں پہ تنہا آپ کا قبضہ ہوگیا۔

شیعہ بتلائیں !
آپ سنی گھرانے میں اگر پیدا کر دیے جاتے، تو کیا آپ سنی نہ ہوتے؟

سنی بتلائیں !
آپ اگر شیعہ گھرانے میں آنکھ کھولتے تو کیا آپ شیعہ نہ ہوتے۔؟؟

ظاہر ہے !

باپ کے بدل جانے سے عقیدہ بھی بدل جاتا۔ کیوں۔؟

کیونکہ !
آپ کے عقیدوں کے ٹھیک ہونے کی دلیل اس کے سوا کوئی نہیں کہ آپ نے اپنے اجداد کو اسی راہ پہ پایا تھا۔ کسی اور کے غلط ہونے کی دلیل بس یہی ہے کہ وہ آپ کے گھر پیدا نہیں ہوا۔

دل پہ ہاتھ رکھ کر بتائیں !
آپ کے شیعہ سنی ہونے میں آپ کے فہم و ادراک کو کتنا دخل ہے۔؟ کیا آپ کا کسی مسلک سے وابستہ ہونا ایک اتفاقی حادثہ نہیں ہے۔؟

سوچیئے !
آپ اگر اجداد سے ملنے والے عقیدے پہ مطمئن ہیں، تو آپ کا حریف کیوں نہ ہو۔ اجداد تو اسے بھی عزیز ہیں نا صاحب۔

دوسری بات !
اجداد سے ملنے والے عقیدے پہ چلنا اگر حریف کا جرم ٹھہرا تو کسی عقیدے سے آپ کی وابستگی میں آپ کا کیا کمال ہوا۔؟

تو پھربتلائیں !
خود کے جنتی ہونے کا یہ یقین کیسا۔ دوسروں کے جہنمی ہونے پہ اصرار کیسا؟ اور پھر یہ قتل عام۔؟ اور پھر یہ جبر وتشدد۔؟

سچ یہ ہے کہ !
ہم اس خدا کی پوجا کر رہے ہیں جو ہمیں اپنے اجداد سے ملا ہے۔ کبھی بسم اللہ کے گنبد سے دو قدم باہر نکل کر اپنا خدا بھی تلاش کیجیے۔ اپنے فہم و شعور پہ اتنا ہی اگر مان ہے تو پھر آسمان در آسمان اسرار کی پرتیں ہٹاکر جھانکنے کی ہمت بھی تو کیجیئے۔

سنیں !
اجداد کے روایتی ورثے پہ تقلید کے کسی شیش ناگ کی طرح جمود کا پھن پھیلا کر بیٹھ جانے کو علمی دیانت نہیں کہتے۔

اور ہاں !
اسی سچائی کو دیگر مذاہب تک بھی پھیلا سکتے ہیں۔ سچ تو بہرحال یہی ہے کہ آپ کے مسلمان پیدا ہونے میں آپ کا کوئی کمال نہیں ہے، کسی کا غیر مسلم پیدا ہونے میں اس کا کوئی قصور نہیں ہے۔

یعنی کہ !
حاجی مستان کا کیا کمال تھا کہ اس کے لیے قدرت نے مسلم گھرانے کا انتخاب کیا؟ مدر ٹریسا کا کیا قصور تھا کہ اس کے لیے غیر مسلم گھرانے کا انتخاب ہوا۔

بات یہ ہے کہ !
ہم سب انسان ہیں۔ کسی کو کسی پر برتری نہیں ہے۔ سب کے خون کی حرمت کعبے کی حرمت سے زیادہ ہے۔

Facebook Comments HS

3 thoughts on “خود کے جنتی ہونے کا یہ یقین کیسا؟

  • 03/10/2016 at 4:38 شام
    Permalink

    ‘سنیں !
    اجداد کے روایتی ورثے پہ تقلید کے کسی شیش ناگ کی طرح جمود کا پھن پھیلا کر بیٹھ جانے کو علمی دیانت نہیں کہتے’ ۔

    اگر یہ ہم کریں تو حق ہے کوئی اور کرے تو ظالم،جابروجاہل ہے۔

  • 03/10/2016 at 7:41 شام
    Permalink

    میر اور سودا کے ہمعصر قائم چاندپوری کا ایک شعر یاد دلا دیا:

    کعبہ اگرچہ ٹوٹا تو کیا جائےغم ہےشیخ
    کچھ قصرِدل نہیں کہ بنایا نہ جائے گا

  • 03/10/2016 at 7:47 شام
    Permalink

    فرنود بھائی صاحب یہ باتیں ہر کِسی کی سمجھ میں نہیں آسکتیں۔
    کچھ دن پہلے ادھر اپنے ایک گاؤں میں گیا، تو جھگڑا ہو رہا دا، میت کے لئے قبر کھودنے کا۔ میں نے لڑائی کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ یہ جو بندہ قبر کھودنے کے لے لئے آیا ہے وہ عیسائی ہے، اور ہمارا سب بڑوں بزرگوں کا ماننا ہے کہ کسی عیسائی کے مسلمانوں کے قبرستان میں جانا بے حُرمتی ہے۔ لیکن جب بھی کوئی فوتگی ہوتی ہے تو یہ بندہ خُود ہی آجاتا ہے کہ میں یہ کام اللہ کی رضا کے لئے کرنا چاہتا ہوں۔
    میں نے کہا کہ پھر یہ کام آپ لوگ خُود کیوں نہیں کرتے۔ تو ایک مُحترم بڑے حاجی صاحب بولے کہ ہمارے نوجوان اس کام کو ہیچ سمجھتے ہیں اس لئے ایک دو بندے ہی آتے ہیں اس کام کے لئے۔۔ واللہ
    ہم مسلمان ہیں۔ پانچ کروڑ سالہ انسان اور یہ جنتی ساڑھے چودہ سو سالہ تاریخ والے مسلمان جن کے لئے سب بنایا گیا۔

Comments are closed.