کیا بشر کی بساط، آج ہے کل نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سب نے مر کے قبر میں جا سونا ہے۔ قبر اس کا گھر اور قبرستان اس کا شہر یا قصبہ۔ یا پھر اس کا محلہ ہو سکتا ہے۔ پھر لوگ اپنے گھر اپنے محلے اور اپنے شہر سے کیوں خوف زدہ رہتے ہیں؟ موت قبر اور قبرستان سے یوں بدکتے ہیں۔ جیسے انہوں نے مرنا ناہیں۔ گور پیا کوئی ہور۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہر ذی شعور نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کو ایک نہ ایک دن شہر خموشاں کا رخ کرنا ہے۔ زمین پر چلتے وقت ہمیں کبھی یہ خیال نہیں ستاتا کہ کل کو ہم نے اس زمین کے نیچے جا سونا ہے۔ ہم نے دنیا کو جائے امتحان کی بجائے جا ئے تماشا سمجھ لیا ہے۔ اور یوں اپنے آپ میں گم ہیں کہ آس پڑوس کی کوئی خبر نہیں۔

اگر چہ قبر کے اندر کا حال کوئی نہیں جانتا۔ مگر لوگوں کی کسی قبر پر آمد سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ کسے خدا کے ہاں کتنا شرف قبولیت حاصل ہے۔ یاد رکھیے عمر خضر کے بعد بھی یہی دو گز زمین مستقل ٹھکانہ ہو گی۔ کتنے ہی شاہ سوار اور کج کلاہ یہاں مدفن ہوتے ہیں۔ پھر ہم کیوں قبرستانوں اور قبروں سے ڈرتے اور خوف زدہ ہوتے ہیں۔ کیوں ہم اپنے پیاروں کو دفنا کے جب واپسی کی راہ لیتے ہیں۔ پھر مدتوں اس قبرستان کے قریب بھی نہیں پھٹکتے۔ عام دیکھا گیا ہے کہ بڑے بڑے لوگ بڑے عہدے دار بڑے سیٹھ اور بڑے سردار تمن دار کی قبریں اپنے وارثوں کی راہ دیکھتی ہیں۔ کوئی ان کی قبر پر آ کے درود فاتحہ پڑھ لے۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے۔ قبر کی حالت مخدوش ہو چکی ہے۔ ڈھے گئی ہے۔ بارشوں سے بیٹھ گئی ہے۔ لیکن وارثوں کو پتہ ہی نہیں۔

جب محرم کے پہلے عشرہ میں قبروں کی لپائی کا جو غیر سرکاری سالانہ تہوار ہوتا ہے۔ تب وارث میاں کو پتہ چلتا ہے۔ ابا میاں کی قبر تو چھ مہینوں سے اس کا انتظار کرتے کرتے تھک ہار کے بیٹھ چکی ہے۔

یہ تہوار کا لفظ میں نے جان بوجھ کے کہا ہے۔ کیوں کہ ہم نے سوچ لیا ہے کہ اس محرم سے اگلے محرم تک ہمارے پیارے آبا کی قبریں بالکل ٹھیک ٹھاک اور تر و تازہ رہیں گی۔ کیونکہ ہم نے باقی امیروں کی طرح گورکن اور قبرستان کے خلیفہ کو قبر کی دیکھ بھال کے لیے مختص اور اپائنٹ کر لیا ہے۔ کچھ رقم سے اس کی جیب گرم کر دی ہے۔ لہذا اب ہم سال بھر کے بعد قبرستان میں قدم رنجہ فرمائیں گے۔ تب تک یہ کیرٹیکر آپ کے مردوں کے آرام و سکون کا خاص خیال رکھیں گے۔

آپ کے جاتے ہی وہ گورکن اور خلیفہ اپنی وفا داری اور فرائض منصبی کسی دوسری پارٹی سے گفتگو و شنید کر کے انہیں اپنی وفا داری کا یقین کامل سے قابو کر چکے ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ آپ سے زیادہ امیر ہیں۔ اور تگڑی رقم دے چکے ہیں۔ اور جب آپ اگلے سال دوسرے مسلمانوں کی طرح محرم کے پہلے ہفتہ کو قبرستان جائیں گے۔ تب پتہ چلتا ہے کہ بلند و بالا جنگلی جھاڑیاں قبر کے گرد گھیر ا تنگ کر چکی تھیں۔ قبر کا حجم بھی سکڑ چکا ہے۔ قبر کی خستہ حالی اور بوسیدہ پن قبر کے مردے کے وارثوں کا رونا رو رہی ہے۔ لہذا اس کو نہ سالانہ فیسٹیول بنائیں۔ اور نہ سالانہ تہوار بنائیں۔ اور نہ ہی محرم الحرام تک کا انتظار کریں۔

ٹھیک ہے مانتے ہیں۔ کہ محرم کے پہلے ہفتہ قبرستانوں میں مستری مزدور اور لپائی والے اور مٹی ریت آسانی سے دستیاب ہوتی ہیں۔ یاد رہیے کہ بارشیں بے وقت بھی برستی ہیں۔ مون سون میں بھی خوب جھل تھل ہوتی ہے۔ زیادہ قبروں کا نقصان انہی دنوں میں ہوتا ہے۔ بعض اوقات تو پانی کا راستہ کسی بے یار و مدد گار قبر کو مٹا کے کسی جوہڑ یا تالاب کا منظر بنا دیتی ہے۔ پھر شہروں میں آبادی کا دباؤ بہت زیادہ ہے۔ اسی طرح اموات بھی زیادہ ہیں۔

قبرستانوں میں اب جگہ نہیں رہی۔ جو وہاں کے لاوارث مستقل مکین ہیں۔ انہیں وہاں سے انتظامیہ چپکے سے بید خل کر دیتی ہے۔ یعنی قبر پر کوئی اور نئی قبر بنا دی جاتی ہے۔ تب انکشاف ہوتا ہے۔ کہ دادا حضور کی قبر مبارک پر محلہ کی نئی ہمسائی کے سسر شریف دفنا دیے گئے ہیں۔ میری اس بات کو از راہ تففن سمجھیں۔ زیادہ سنجیدہ نہ ہوں۔ لیکن حقیقت یہی ہے۔ قبرستانوں میں قبر پر قبر اور مستقبل میں مزید نئی قبروں کے امکان سے غافل نہیں ہونا۔

اگر آپ گاہے بگاہے اور وقت بے وقت قبرستانوں کا چکر لگاتے رہیں گے۔ تو امید ہے کہ آپ کے لواحقین کی قبریں زندہ سلامت رہیں گی۔ اگر آپ نے قبرستان سے مستقل منہ موڑ لیا تو سمجھ لینا کہ وہ قبریں اب تک مردہ ہو چکی ہوں گی۔ سیدھی بات ہے۔ اگر آپ اپنے اباء و اجداد کی قبروں پر جاؤ گئے۔ تو آپ کے پوتے نواسے وغیرہ بھی آپ کی قبر پر آئیں گے۔ درود اور فاتحہ پڑھیں گے۔ اور آگے کی منزل کی آسانی کی دعا کریں گے۔ آپ کی مغفرت اور بخشش کی دعا کریں گے۔

عدم کا ایک شعر کیا خوب کہا۔ جب کسی ٹوٹی قبر پر کوئی ماہ جبیں روتی ہے۔

مجھے اس وقت اکثر خیال آتا ہے۔ موت کتنی حسیں ہوتی ہے۔

کہتے ہیں کہ اردو ادب میں شہر خموشاں کی اداسی اور دکھ کے سائے میں لپٹا ایسا مقام دکھایا جاتا ہے۔ جہاں کسی نہ کسی صورت رومانویت بہرحال محسوس ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں موجود زیادہ تر قبرستان خوف و دہشت کا مقام رکھتے ہیں۔ سرگرم کفن چور۔ مردے چور۔ جادو ٹونے کرنے والے افراد۔ نشئیوں اور لواحقین کی غفلت اور بے حسی نے قبرستانوں کو اس حال میں پہنچا دیا ہے۔ کہ بندہ وہاں سے عبرت تو پکڑ سکتا ہے۔ رات کی تاریکی میں خوف سے مر تو سکتا ہے۔

لیکن کسی قسم کی رومانویت افورڈ نہیں کر سکتا۔ جس کسی نے یہ دروغ گوئی کی ہے۔ اس نے معصوم لوگوں کو ورغلانے کی اک تدبیر ڈھونڈی ہے۔ کوئی پوچھے اس بندہ خدا سے ہمارے ہاں باغوں میں پارکوں میں رومانویت نام کو نہیں ملتی۔ جو ملتے ہیں خیر سے وہ نشئی مالشیے چور اچکے اور پولیس والے ملتے ہیں۔ اور تم ہمیں قبرستانوں میں اس گوہر نایاب احساس کو پانے کی خبردیتے ہو۔

بہلول سے کسی نے پوچھا کہ قبرستان میں کیوں بیٹھے ہو؟ بہلول نے جواب میں کہا

میں ان کے ساتھ بیٹھا ہوں۔ جن کی طرف سے مجھے کوئی تکلیف نہیں پہنچتی۔ الزام نہیں لگاتے۔ مجھ سے حسد نہیں کرتے۔ کبھی جھوٹ نہیں بولتے کبھی طعنہ نہیں دیتے۔ کبھی خیانت نہیں کرتے۔ ا ور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ جب میں یہاں سے اُٹھ کے چلا جاتا ہوں۔ پیٹھ پیچھے میری برائیاں نہیں کرتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •