انجینئر عبدالحکیم ملک: منشور قرآن سے کلام اقبال میں عکس قرآن تک ایک جائزہ

کون سوچ سکتا تھا کہ مظفرگڑھ کے ایک دور افتادہ دیہاتی علاقہ میں پیدا ہونے والا ایک بچہ بڑا ہو کر عالمی شہرت حاصل کرے گا۔

آبائی علاقہ جہاں پینے کو صاف پانی نہیں تھا، نہ کوئی سکول مکتب جہاں مروجہ معیاری تعلیم سے کوئی صاحب ادراک بن پاتا یا جدت کردار حاصل کر پاتا لیکن وہ کیا خوب حضرت علامہ اقبالؒ فرما گئے کہ

جرات ہو نمو کی تو فضا تنگ نہیں ہے
اے مرد خدا، ملک خدا تنگ نہیں ہے

Read more

عمران خان کے بکھرتے خواب : گوئندی کے تلخ و شیریں تجزیے

پاکستان کی قومی اور عالمی سیاست پر مبنی تجزیے، تحریر و تقریر میں فرخ سہیل گوئندی کا نام بہت مستند اور احترام سے لیا جاتا ہے۔ وہ کسی سیاسی پارٹی اور اس کے منشور کی وکالت نہیں کرتے بلکہ جو زمینی حقائق ہوں انہی کو احاطہ تحریر میں لانے میں بغیر کسی ہچکچاہٹ اور تعلق داری کے خامہ فرسائی میں ہمیشہ پیش رہے ہیں۔ پاکستان کی سیاست پر انہوں نے جو پہلی کتاب لکھی تب ان کی عمر 19 سال

Read more

لوگ در لوگ: تاریخ ساز لوگوں کی مثنوی یوسف

فرخ سہیل گوئندی کمال کے انسان ہیں۔ تین چار مشکل لیکن دل چسپ شوق پال رکھے ہیں۔ جن میں ان کی جہان گردی جو اب ان کی شخصیت کا حصہ بن چکی ہے۔ دوسرا لکھنا، جو ان کی سرشت میں شامل ہے۔ بھٹو سے بھگت سنگھ پر اور سماج کے زوال پر اور سلطنت عثمانیہ کا ترکی پر بے تکان بولتے ہیں۔ تیسرا، اچھی تحقیقی اور لطیف اور ذوق جمالیات پر مبنی کتابیں شوق سے اپنے پبلشنگ ادارے سے چھاپتے ہیں اور پھر جتنا ہو سکے اپنے پلے سے اچھے ہوٹلوں میں لنچ ڈنر کے ساتھ ان کتابوں کی تقریب رو نمائی بھی کر گزرتے ہیں۔

کم عمری میں بھٹو کے سحر میں مبتلا ہوئے اور ان کی کچی قبر کی مٹی سے تجدید نو کر کے اٹھے کہ اس بکھرتے سماج کے حوالے سے اپنی تئیں ایک مثالی اور با مقصد جد و جہد زندگی بھر کرتے رہیں گے۔ چوں کہ وہ مطالعے کے رسیا اور کتاب کو گھول کے پینے والوں میں سے تھے، سو انہیں لکھنے کا ڈھنگ آہنگ بھی اوائل عمری میں آ گیا تھا۔ لکھنے کے لگے بندھے اصولوں کے وہ قائل نہ تھے، سو انہوں نے چل پھر کے اور گھاٹ گھاٹ کے پانی پینے ہی میں دانش مندی کا ثبوت دیا، اور اصل حقیقت اور اصل بات کی تہیہ تک اتر جانے ہی میں اپنی بقا اور شناخت سمجھی۔ شخصیت پرستی کے طلسم کو اور شرم و جھجک کو بالائے طاق رکھتے ہیں، سو ان کے کیے گئے اور لکھے گئے خاکے اور انٹرویو سب سے الگ مستند اور تاریخ کا ریفرنس قرار پائے ہیں۔

Read more

قصہ ایک نو آموز کا جس نے دو ناول لکھ ڈالے

واجد ابرار اٹلی میں رہتے ہیں، لیکن سانس پاکستان میں لیتے ہیں۔ ابھی کھیلنے کودنے اور تفریح کے دن تھے کہ نا جانے اسے کیا سوجھی، کاغذ قلم اٹھایا اور گھر کے کونے میں کسی پارک کے بینچ پر اور کسی جنگل میں جھیل کنارے بیٹھ کر لکھنا شروع کر دیا۔ لکھتے رہے اور بس لکھتے رہے۔ تین ماہ بعد گھر والوں اور دوستوں پر انکشاف ہوا کہ موصوف ایک عدد ناول لکھ چکے ہیں۔ کسی نے یقین نہ کیا۔ کیوں کہ اس نے کوئی ادبی ناول تو کجا، کبھی کوئی ادبی کتاب تک نہیں پڑھی تھی۔ البتہ وہ مطالعے کا شوق رکھتا تھے۔

آج کے اردو ادب اور اس کے ”درخشاں ستاروں“ سے اسے کوئی شناسائی نہیں تھی۔ حتیٰ کہ اسے کلاسیک ادب اور کلاسیک مشاہیر ادب سے بھی شدھ بدھ نہ تھی۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ قدرت اللہ شہاب کون ہے؟ امجد اسلام امجد، اشفاق احمد، ممتاز مفتی اور تو اور وہ مستنصر حسین تارڑ کے مشکل نام اور اس سے وابستہ واقعات سے بھی واقف نہیں تھا۔ وہ صرف پاکستان کے ایک نامور ادبی بزرگ ”فصیح باری خان“ کے نام سے واقف تھا۔ وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ فصیح باری خان نامور تو تھا، لیکن ادبی بزرگ ہر گز نہیں تھا۔

Read more

ناسٹیلجیا: سلمان باسط کا آتش رفتہ کا سراغ

پروفیسر سلمان باسط۔ ایک علمی اور ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے دادا غلام حیدر مرحوم صاحب دیوان شاعر تھے۔ دادا کے بھائی میراں بخش منہاس، پنجابی زبان کے پہلے ناول نگار اور عمدہ شاعر بھی تھے۔ سلمان باسط کے بڑے بھائی عثمان خاور شاعر اور سیاح ہیں اور سیاحت نگری پر خامہ فرسائی فرماتے رہتے ہیں۔ سلمان باسط انگریزی ادب کے استاد اور پروفیسر ہیں۔ انہوں نے انگریزی زبان و ادب کے چند چنیدہ کتابوں کے اردو میں تراجم بھی کیے اور ایک اچھے شاعر اور طنز و مزاح خاکہ نگار بھی ہیں۔ ان کی کتاب ”خاکی خاکے“ خاصی مقبول ہوئی۔ ”ناسٹیلجیا“ آپ کی تازہ ترین کتاب ہے جو کہ آپ بیتی پر مشتمل ہے اور ابھی اس کا پہلا پڑاؤ ہے۔ یعنی آپ پہلا حصہ کہہ سکتے ہیں اور یہ آج کل ادبی حلقوں میں بہت پذیرائی حاصل کر رہی ہے۔

کہتے ہیں کہ انسان ماضی گزیدہ ہے، اور اگر اس کی یاد داشت اچھی ہو تو وہ خواب گزیدہ جہاں، اس کے لیے عذاب بھی بن سکتا ہے۔ اور اگر جنت گم شدہ میں بچپن کا ساون، کاغذ کی کشتی اور بارش کا پانی ابھی بھی آنکھوں میں موجود ہو، تو وہ کبھی خدا سے اپنے حافظے کے چھن جانے کی استدعا نہیں کرے گا۔ وہ بیتے دنوں کو کبھی بھول نہیں پائے گا اور آخری دن تک یاد رکھتا ہے۔ بچپن سب کا ایک جیسا ہی حسین خوبصورت اور دلربا ہوتا ہے، یہ ایک ایسی ٹائم مشین ہے جس میں کوئی بھی جب چاہیے ان وادیوں میں اتر سکتا ہے اور جتنا چاہے اپنے آپ کو گم کر کے اک خوشی، اک تسکین سی پا سکتا ہے۔ اس ٹائم مشین کی فریکوئنسی اور کانفیگریشن تبھی مکمل ہو گی، جب آپ ناسٹیلجیا کے بٹن کو پریس کریں گے۔

Read more

"پہل اس نے کی تھی” کیوں لکھا گیا؟

کسی کی نثری و شعری تخلیق کو علمی ادبی تناظر سے دیکھنا پڑھنا اور اس کی نئی جہتیں جو پڑھتے محسوس ہوں اسے دیگر قارئین کے سامنے لانا گویا کتاب لکھنے سے زیادہ کٹھن کام ہے اور ایسے امور کو ماہر نقاد اور سینئر اہل قلم ہی سر انجام دیتے ہیں۔ لیکن میں آج آپ کی بصارتوں کی نظر ایک منفرد اور عام اسلوب و موضوع سے ہٹ کر لکھے گئے ناول ”پہل اس نے کی تھی“ پر اپنا نقطہ

Read more

کشمیر کو بچا لو: جبار مرزا کا کشمیری نوحہ

کون با ذوق قاری ہو گا جو جبار مرزا کو نہیں جانتا۔ آپ انہیں دنیائے شعر و ادب اور تحقیقی صحافت کے امام کا درجہ سکتے ہیں۔ اعلیٰ پایہ کے نثر نگا ر سینئر صحافی، محقق، مورخ، سوانح نویس، مدیر اور کالم نگار یہ آپ کی شخصیت کے مستند حوالے ہیں۔ ” کشمیر کو بچا لو“ جبار مرزا کی 21 ویں اہم اور تاریخی دستاویز پر مشتمل کتاب ہے۔ جو حالیہ کرونائی عہد میں لکھی گئی ہے۔ کشمیر جبار مرزا

Read more

کون مظلوم مصنف؟ پبلشر؟ یا قاری۔ ؟

یقین کریں کچھ صحافیوں ادیبوں میں بلا کا مطالعہ ہو تا ہے۔ وہ کتاب سے محبت اور عشق کرنے میں انگریز کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ جو کہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتے کہ ان سے بڑا کتب بین کوئی کیا ہوگا۔ پچھلے تین چار ماہ سے کرونا نے سب لکھنے پڑھنے والوں، آوارہ منش ادباء اور شعراء اور سفر نامہ نگار سیلانیوں کو گھر بٹھا دیا ہے۔ ان میں جو سیانے نکلے انہوں نے تخلیق کے کرب کو انجوائے اور قلم

Read more

بے نظیر۔ ایک سوانحی ناول

سوانح عمری ایک انسان کی پیدائش سے موت تک کے افعال کا بیان ہے۔ یا یوں کہیے کہ ایک انسان کی حیات یا تاریخ ہے۔ سوانح نگاری کے سلسلے میں اردو ادب میں نیا تجربہ سوانحی ناول کی صورت میں کیا گیا جو کا میاب رہا۔ سوانحی ناول، سوانح اور ناول کا حسین امتزاج ہے۔ کسی سوانح کو جب افسانوی رنگ دے کر ناول کی تکنیک برتتے ہوئے پیش کیا جائے تو وہ سوانحی ناول کہلاتی ہے۔ سوانحی ناول میں

Read more

ایک اور عہد تاریخ ہوا

پاکستان ٹیلی ویژن سروس لاہور اپنی آغاز سے تقریباً نو دس سال میں وہ مقبولیت نہ پا سکا۔ جس کی امید کی جا رہی تھی۔ تب ابھی اکثر کے پاس ٹی وی سیٹ بھی نہیں تھا۔ اور دیہاتوں میں ابھی ٹی وی نشریات بھی نہیں پہنچ پا رہی تھی۔

1975 میں پھر نیلام گھر شروع ہوا اور پاکستانی ناظرین نے اس کو مقبولیت کے اوج ثریا تک پہنچا دیا۔ پھر کچھ اس کا نصیب ایسا کھلا کہ طول و عرض میں ناظرین ٹی وی کے کسی پروگرام کو جانتے ہوں یا نہیں لیکن نیلام گھر سب نے دیکھ لیا تھا۔

Read more

فرخ سہیل گوئندی: فکر فردا کا روشن استعارہ

اگر آپ پاکستان کے ایک بڑے سماج کو بنانے میں اس کو نکھارنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تو آپ کو صرف تعلیم علم فکر تحقیق اور انصاف کے لیے مکالمہ کرنا چاہیے۔ انہی کے لیے لکھنا اور بولنا چاہیے۔ انہی چیزوں پر اگر سماج کھڑا نہیں ہوگا تو بہت نقصان اور جدید دنیا اور اس کی تہذیب و تمدن سے ہم دور ہوتے چلے جائیں گے۔ آپ گھوم پھر کے دنیا دیکھیں، کوشش کریں کہ گھاٹ گھاٹ کا پانی پی

Read more

کیا بشر کی بساط، آج ہے کل نہیں

سب نے مر کے قبر میں جا سونا ہے۔ قبر اس کا گھر اور قبرستان اس کا شہر یا قصبہ۔ یا پھر اس کا محلہ ہو سکتا ہے۔ پھر لوگ اپنے گھر اپنے محلے اور اپنے شہر سے کیوں خوف زدہ رہتے ہیں؟ موت قبر اور قبرستان سے یوں بدکتے ہیں۔ جیسے انہوں نے مرنا ناہیں۔ گور پیا کوئی ہور۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہر ذی شعور نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ ہم میں سے ہر

Read more

خود نمائی کا دستر خوان

صلہ و ستائش کی تمنا کسی نہیں ہوتی! ایوارڈ اگر سرکاری سطح پر دیے جائیں تو لینے والوں کی لائن لگتی ہے۔ سفارش اقرباء پروری اور نا انصافی بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ گزشتہ روز شان مظفرگڑھ کے نام سے ایک ایوارڈ کا اجراء کیا گیا۔ مظفرگڑھ کی وہ شخصیات جنہوں نے اپنے علم و کمال اور ہنر و فن سے اپنے ضلع کا نام روشن کیا۔ انہیں اس ایوارڈ کا حقدار قرار دیا گیا۔ اس ایوارڈ کا سہرا ڈپٹی

Read more

برگد کی چھاؤں

بابر ریاض کی مقبولیت اور اس کی پزیرائی پر کوئی شک نہیں تھا۔ اسکی شخصیت بلاشبہ کرشماتی تھی۔ ایک کامیاب بزنس مین جو تین انگلش کتابوں کا مصنف بھی تھا۔ آرٹ ادب اور روحانیت اس کا پسندیدہ مضمون تھا۔ شاعری اور نثر لکھنے میں اسے ملکہ حاصل تھا۔ سوشل لائف میں سبھی کے لیے وہ انسپائریشن اور رول ماڈل تھا۔ سوشل میڈیا پر جب وہ بات کرتا تو گفتگو میں گوہر ملتے تھے۔ اللہ نے اسے یہ کمال و ہنر

Read more

جنازے بارات سے بڑے ہوتے ہیں

اداس نسلیں کے مصنف عبداللہ حسین کی وفات پر چند لوگ تھے۔ جو انہیں قبرستان تک چھوڑ آئے تھے۔ سگا بیٹا لندن میں تھا۔ بیوی بھی ان سے ناراض تھی اور آخری دم تک ناراض رہی۔ انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ اتنا بڑا ادیب جس کی تخلیقات ہمیشہ سدا بہار اور نصف صدی سے زائد عرصہ عوام میں مقبول رہی۔ پاکستان کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ سے لے کر بیسوں ایوارڈز وہ حاصل کر چکا۔ ہزاروں مداح اس

Read more

انار کلی فٹ پاتھ سے پلیٹ فارم نمبر 4 تک

صاحبان شعر و ادب اور صاحب مطالعہ خوب جانتے ہیں۔ لاہور کے انار کلی کے فٹ پاتھ کو جہاں اتوار کی صبح نوادرات کتب کا میلہ سجتا ہے۔ اس ڈیجیٹل دور میں بھی کتب بین ڈھونڈ ڈھونڈ کے دنیا جہاں کی نایاب کتابیں سستے داموں اپنی لائبریری کی زینت بنا لیتے ہیں۔ میرا جب بھی لاہور جانا ہوا مال روڈ پر دو تین جگہ ضرور جاتا ہوں۔ سب سے پہلے فیروز سنز جانا۔ وہاں کھڑے کھڑے ایک دو گھنٹے درجنوں کتابوں کے فلیپ، پیش لفظ، مضامین کی ورق گردانی اور صاحب کتاب کا حال احوال پڑھنا۔ جب تھک جانا باہر نکل کے الفلاح سنیما کے گیٹ پر نان ٹکیاں کھانا۔ اور پھر خراماں خراماں چلتے ہوئے پاک ٹی ہاؤس جا گھسنا۔ البتہ انار کلی اتوار کی صبح جاتا تھا۔ ( اب فیروز سنز نہیں رہا اور نہ الفلاح سنیما کے گیٹ پر نان ٹکیاں )

Read more

ادبی اشرافیہ اور بے توقیر رائٹر

دروغ بر گردن راوی کہ 1993 میں اصغر ندیم سید نے ایک نجی ٹی وی پروڈکشن کی سیریل دشت 18 لاکھ میں لکھی تھی۔ (برادر عزیز، سیریل "دشت” اصغر ندیم سید صاحب نے نہیں بلکہ منو بھائی نے لکھا تھا۔ متعلقہ نجی پروڈکشن ہاؤس سے ان کے معاملات معروف اداکار عابد علی کی معرفت طے ہوئے تھے۔ عابد علی ماشااللہ حیات ہیں اور تصدیق کر سکتے ہیں کہ منو بھائی کو معاوضے میں ڈیڑھ لاکھ روپے ملے تھے۔ اٹھارہ لاکھ

Read more

بارش میں بھیگتی آبدیدہ کہانی کی کتھا

بزم ارباب نشاط کا ہفتہ وار ادبی اجلاس جاری تھا۔ ٹی ہاؤس سینئر جونیئر شعراء اُدباء سے بھرا تھا۔ ’جی بہت شکریہ آپ نے مجھے آج موقعہ دیا۔ ‘ ایک نئے آموز کہانی کار تابش دوتانی نے گلہ صاف کیا۔ پھر سب پر ایک نگاہ ڈالی۔ پھر ایک لمبا سانس لیا اور گویا ہوا۔ ’شگفتہ دیہات کی الہڑ مُٹیار لڑکی جو پڑھی لکھی تو نہ تھی۔ ‘’ میاں یہ افسانہ ہے یا کہانی۔ ؟ ‘ حماد راہی ایک بزرگ کہانی نگار نے اک عجیب سا برا منہ بناتے ہوئے سوال داغا۔

Read more