کیا بشر کی بساط، آج ہے کل نہیں

سب نے مر کے قبر میں جا سونا ہے۔ قبر اس کا گھر اور قبرستان اس کا شہر یا قصبہ۔ یا پھر اس کا محلہ ہو سکتا ہے۔ پھر لوگ اپنے گھر اپنے محلے اور اپنے شہر سے کیوں خوف زدہ رہتے ہیں؟ موت قبر اور قبرستان سے یوں بدکتے ہیں۔ جیسے انہوں نے مرنا…

Read more

خود نمائی کا دستر خوان

صلہ و ستائش کی تمنا کسی نہیں ہوتی! ایوارڈ اگر سرکاری سطح پر دیے جائیں تو لینے والوں کی لائن لگتی ہے۔ سفارش اقرباء پروری اور نا انصافی بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ گزشتہ روز شان مظفرگڑھ کے نام سے ایک ایوارڈ کا اجراء کیا گیا۔ مظفرگڑھ کی وہ شخصیات جنہوں نے اپنے علم و…

Read more

برگد کی چھاؤں

بابر ریاض کی مقبولیت اور اس کی پزیرائی پر کوئی شک نہیں تھا۔ اسکی شخصیت بلاشبہ کرشماتی تھی۔ ایک کامیاب بزنس مین جو تین انگلش کتابوں کا مصنف بھی تھا۔ آرٹ ادب اور روحانیت اس کا پسندیدہ مضمون تھا۔ شاعری اور نثر لکھنے میں اسے ملکہ حاصل تھا۔ سوشل لائف میں سبھی کے لیے وہ…

Read more

جنازے بارات سے بڑے ہوتے ہیں

اداس نسلیں کے مصنف عبداللہ حسین کی وفات پر چند لوگ تھے۔ جو انہیں قبرستان تک چھوڑ آئے تھے۔ سگا بیٹا لندن میں تھا۔ بیوی بھی ان سے ناراض تھی اور آخری دم تک ناراض رہی۔ انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ اتنا بڑا ادیب جس کی تخلیقات ہمیشہ سدا بہار اور نصف صدی سے…

Read more

انار کلی فٹ پاتھ سے پلیٹ فارم نمبر 4 تک

صاحبان شعر و ادب اور صاحب مطالعہ خوب جانتے ہیں۔ لاہور کے انار کلی کے فٹ پاتھ کو جہاں اتوار کی صبح نوادرات کتب کا میلہ سجتا ہے۔ اس ڈیجیٹل دور میں بھی کتب بین ڈھونڈ ڈھونڈ کے دنیا جہاں کی نایاب کتابیں سستے داموں اپنی لائبریری کی زینت بنا لیتے ہیں۔ میرا جب بھی لاہور جانا ہوا مال روڈ پر دو تین جگہ ضرور جاتا ہوں۔ سب سے پہلے فیروز سنز جانا۔ وہاں کھڑے کھڑے ایک دو گھنٹے درجنوں کتابوں کے فلیپ، پیش لفظ، مضامین کی ورق گردانی اور صاحب کتاب کا حال احوال پڑھنا۔ جب تھک جانا باہر نکل کے الفلاح سنیما کے گیٹ پر نان ٹکیاں کھانا۔ اور پھر خراماں خراماں چلتے ہوئے پاک ٹی ہاؤس جا گھسنا۔ البتہ انار کلی اتوار کی صبح جاتا تھا۔ ( اب فیروز سنز نہیں رہا اور نہ الفلاح سنیما کے گیٹ پر نان ٹکیاں )

Read more

ادبی اشرافیہ اور بے توقیر رائٹر

دروغ بر گردن راوی کہ 1993 میں اصغر ندیم سید نے ایک نجی ٹی وی پروڈکشن کی سیریل دشت 18 لاکھ میں لکھی تھی۔ (برادر عزیز، سیریل "دشت" اصغر ندیم سید صاحب نے نہیں بلکہ منو بھائی نے لکھا تھا۔ متعلقہ نجی پروڈکشن ہاؤس سے ان کے معاملات معروف اداکار عابد علی کی معرفت طے…

Read more

بارش میں بھیگتی آبدیدہ کہانی کی کتھا

بزم ارباب نشاط کا ہفتہ وار ادبی اجلاس جاری تھا۔ ٹی ہاؤس سینئر جونیئر شعراء اُدباء سے بھرا تھا۔ ’جی بہت شکریہ آپ نے مجھے آج موقعہ دیا۔ ‘ ایک نئے آموز کہانی کار تابش دوتانی نے گلہ صاف کیا۔ پھر سب پر ایک نگاہ ڈالی۔ پھر ایک لمبا سانس لیا اور گویا ہوا۔ ’شگفتہ دیہات کی الہڑ مُٹیار لڑکی جو پڑھی لکھی تو نہ تھی۔ ‘’ میاں یہ افسانہ ہے یا کہانی۔ ؟ ‘ حماد راہی ایک بزرگ کہانی نگار نے اک عجیب سا برا منہ بناتے ہوئے سوال داغا۔

Read more