فردوس عاشق اعوان، منجی تھلے ڈانگ، مگر کس کس کی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لگتا ہے آج کل محکمہ پولیس کے ستارے گردش میں ہیں اور خاصے ہی گردش میں ہیں، ہر ایک واقعہ کے بعد دوسرا واقعہ چونکا دینے والا ہے، ایسے واقعات پہلے بھی ہوتے تھے اور شاید زیادہ ہی ہوتے ہوں مگر یہ کم بخت سوشل میڈیا اب کسی کو چھوڑتا ہی نہیں، جسے جو ملتاہے وہ پکڑ کر وائرل کر دیتا ہے اور پھر گھربیٹھے بٹھائے بندے کو انصاف مل جاتاہے، یہ عوام کے لیے تو اچھی بات ہے مگر جن کے قبلے درست ہونے والے ہیں، ان کے لیے یہ خاصا خوفناک ہے، حالیہ واقعہ کو ہی دیکھ لیں جس میں ایک وکیل نے خاتون پولیس اہلکار کوتھپڑ دے مارا اور بات بڑھتی بڑھتی کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔

یہاں تک کہ فردوس عاشق اعوان نے بھی آئی جی پنجاب کو کہہ دیا کہ جناب ”منجی تھلے ڈانگ پھیریں“ ا ن کے مطابق پولیس کا علاج ڈسپرین سے نہیں ہو گا اس کے لیے ”بڑاآپریشن“ ضروری ہے۔ جو بھی ہو یہ ماننا پڑے گا کہ فردوس عاشق اعوان کو یہ گر ضرور آتاہے کہ میڈیا کی ہیڈ لائنز میں اِن کس طرح رہا جاتاہے اورسوشل میڈیا کی سوجھ بوجھ بھی خوب رکھتی ہیں۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اگر ”منجی تھلے ڈانگ“ پھیرنے کا سلسلہ شروع ہو تو پھر کیایہ محکمہ پولیس تک ہی محدود رہے گایا پھر دیگرمحکمے بھی اس کی زد میں آئیں گے، ٹریفک پولیس کے کئی اہلکار آئے روز سڑکوں پر شریف شہریوں کو تنگ کرتے نظر آتے ہیں، کیا ایسے لوگوں کے اس رویے کو روکنے کے لیے ٹریفک پولیس کی ”منجی تھلے ڈانگ“ پھیری جائے گی؟

تھانوں کے بعد جہاں عوام کو انصاف کا متلاشی رہنا پڑتاہے اور کئی کئی سال سائلین کو عدالتوں کے دھکے کھاناپڑتے ہیں، وہاں سب سے زیادہ عوام کی کھال اتارنے والے اور اپنی فیسوں کو طول دینے کے لیے سائلین کو قانونی پیچیدگیوں میں الجھانے والے بعض وکلاء ہیں، یہاں تک کہ بعض دفعہ عدالتوں کے احاطوں سے ملزمان کو گرفتاری سے بچانے کے لیے فرار کرانے میں بھی کالے کوٹوں کا کردار سب کے سامنے ہوتا ہے، ججز ہوں یا پولیس اہلکار، کئی دفعہ تو سب ان کالے کوٹوں سے ڈرتے ہیں، ایک عام آدمی جہاں توہین عدالت کے ڈر سے اونچی آواز میں بات کرنے کی بھی جرات نہیں کرتا، یہی طبقہ معزز ججز کوبھی نہیں بخشتا، نظام عدل میں سائلین کے لیے سہولت کی بجائے بعض دفعہ پریشانی کا سبب بننے والے اس طبقے کی ”منجی تھلے ڈانگ“ کون پھیرے گا؟

اگر آپ کو کبھی نادرا یا پاسپورٹ آفس جانے کا اتفاق ہوا ہو تو صورتحال وہاں بھی مختلف نظر نہیں آتی، ایک تو ٹاؤٹ مافیا نے لوگوں کوپریشان کر رکھاہے تو دوسری طرف عملے کی طرف سے سیدھے سادھے سائلین کی ڈانٹ ڈپٹ بھی معمولی بات ہے، بغیر رشوت اور پُرسکون اندازمیں اپنے کام کرانا ایک مشکل مرحلہ ہے، اسی طرح پٹوار خانوں سے کسانوں کی جان چھوٹی تو اراضی ریکارڈ سنٹر میں سہولت کی بجائے کسانوں کو نئے عذاب میں مبتلا کر دیا گیا، کئی بار خبریں منظر عام پر آئیں مگر عام تاثر جب یہ ہے کہ یہاں کون کسی کی سنتا ہے، شکایت لگا کر بھی خود کو مزید الجھنوں میں ڈالنے والی بات ہے، پولیس کی ”منجی تھلے ڈانگ“ سے شروع ہو کریہ سلسلہ کیا نادرا اور اراضی ریکارڈ سنٹر تک بھی پہنچے گا؟

درباروں کے باہر بیٹھے حفاظت پاپوش کے نام پر زائرین کو لوٹنے والے مافیا، پارکنگ میں بیٹھے گرانفروش، بازاروں میں بیٹھے منافع خور، سرکاری دفاترکے باہر، جیلوں میں قیدیوں سے ملاقات کرنے والوں کی جیبیں ہلکی کرنے والے، سرکاری ہسپتالوں میں بچہ پیدا ہونے کی صورت میں زبردستی مبارکبادیں لینے والے اور روزانہ چائے پانی مانگنے والے ہسپتالوں کے اہلکار، ایکسائز دفاترکے ٹاؤٹ اور ان سے ہاتھ ملانے والے اہلکار، مجرموں کی پشت پناہی کرنے والے با اثرلوگ کیا عوام کے لیے عذاب سے کم نہیں؟

فردوس عاشق صاحبہ نے بات کوبے شک انوکھے اندازمیں کیاہے اور ان کے بیان کو سن کرلوگوں کا فوری دھیان نصیبوکے گائے گانے کی طرف ہی گیا جس پرنصیبوکوخاصی تنقیدکانشانہ بنایاگیامگر تھیٹر کی دنیامیں اب بھی تماشبین اسی گانے پر ڈانس دیکھنا پسند کرتے ہیں گانا بے شک کسی الگ مقصد کے لیے لکھوایا اور ریکارڈ کرایا گیا مگر پنجابی کے اس فقرے کا مطلب یہی لیا جاتاہے ”دوسروں میں عیب تلاش کرنے کی بجائے اپنے عیب تلاش کرنا“

اگر یہ سلسلہ چل نکلا اورآئی جی پنجاب نے فردوس عاشق اعوان کی بات کو سیریس لے کرڈانگ پکڑلی تو مشکل بے شک ہو گا مگر ناممکن نہیں کہ تھانوں سے تمام کالی بھیڑیوں کو ہانک دیا جائے، یہ ایک اچھا کام ہو گاجس کاعوام کو خاصا انتظار ہے، پھر ہمیں یہ بھی امید لگاناہو گی کہ پولیس سے شروع ہونے والی یہ ڈانگ پھر ایوان اقتدار میں بھی پہنچے گی، وہاں یہ ڈانگ کون پھیرے گا؟ اورکس کس کے خلاف پھیرے گا؟ اور اس ڈانگ پھیرنے کا کوئی نتیجہ بھی نکلے گا یا نہیں کیوں کہ وزیراعظم صاحب نے بھی ایک ڈانگ پکڑ رکھی ہے جو اپوزیشن کی تمام ”منجیوں“ کے نیچے پھیری جارہی ہے مگر وہاں سے ابھی تک کچھ برآمد ہوا ہے، نہ ہی وہ اپنے عیب تسلیم کررہے ہیں۔

جرم نیچے سے اوپر تک جہاں بھی ہو رہا ہے اس کاخاتمہ ضروری ہے، یہ عوام کی خواہش ہے اور وزیراعظم نے بھی یہی وعدہ کررکھاہے، میرا خیال ہے اب یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اس مقصد میں روڑے اٹکانے والے کون ہیں، اگر کچھ ایسے عناصر مل جائیں تو لگے ہاتھ ان کی ”منجی تھلے ڈانگ“ بھی پھیر دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •