کون ہے اُلو کی پٹھی؟

اللہ تعالیٰ ہرچیز پرقادرہے اوراس نے اپنے کلام میں یہ وضاحت بھی کردی تاکہ کوئی کسی شک میں نہ رہے، اگرخدا چاہتا تو دنیاصرف مردوں سے ہی بھر دیتا، تخلیق آدم کے بعد صنف نازک کو پیدا نہ فرماتا مگر اس کی ذات نے عورت کو پیدا کیا اور مرد سے ہی پیدا کیا۔ جمہور مفسرین کی رائے کے مطابق حضرت حوا کی پیدائش حضرت آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے ہوئی اور ایک قول یہ بھی ہے کہ

Read more

حریم شاہ اور قندیل بلوچ میں مماثلت کیا؟

یہ تو سچ ہے کہ میڈیا کو خبر چاہیے اوروہ بھی گرماگرم، مصالحے دار اورمصالحہ ذرا تیز ہو تو مال خوب بکتاہے، چاہے الیکٹرانک میڈیا ہو، پرنٹ ہو یا پھر انسانی اذہان پربھوت کی طرح سوارسوشل میڈیا ہو، آج کل حریم شاہ کی خبریں خوب گرم ہیں، قوم مزے لے لے کران خبروں کوپڑھتی اور شئیر بھی جی بھر کر رہی ہے حالانکہ اسے شئیر کرنے والے کو ٹکے کافائدہ نہیں مگر جب اور کام ہی کوئی نہ ہو تو

Read more

سردی اور زندگی کا امتحان

کیا آپ نے سردی سے بچنے کا بندوبست کرلیاہے؟ گرم کپڑے، خشک میوے، ہیٹر، گیزر اور جو کچھ بھی آپ کرسکتے ہیں۔ یقینا مہنگائی کے رونے دھونے کے ساتھ ساتھ اپنی اپنی بساط کے مطابق بندوبست ہوگا مگر خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں سے اگر یہی سوال کریں تو تصور کریں کہ ان کا جواب کیا ہوگا؟ ہفتے کی شام لاہورمیں سردی کچھ زیادہ ہی تھی یا پھر مجھے اس کا احساس زیادہ ہورہا تھا، کمبل میں چھپ

Read more

چینی مہنگی اور گنا سستا کیوں؟

کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ دیہات میں رہنے والے لوگ زمینوں کے مالک ہونے کے باوجود بھی زیادہ مالدار کیوں نہیں ہوتے؟ کہنے کو ان کے پاس کافی ایکڑ زمین ہوتی ہے، گاؤں کے محنت کشوں کے سامنے ان کی واہ، واہ ہوتی ہے لیکن زیادہ تر زمینوں کے مالک کسان خوشحال نہیں ہوتے۔ ٹی وی سکرین پر کھاد، زرعی ادویات اور سرکاری منصوبوں میں ایک پگڑی والا کسان دکھایا جاتا ہے جو بظاہر سفید کپڑوں میں ملبوس

Read more

کسی کی رسوائی اوراپنی ذات

بعض دفعہ تومجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ کچھ لوگ انتہائی فارغ ہیں کہ جنہیں سوائے دوسروں کی برائیوں کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے کوئی اور کام نہیں۔ اگر ہم ایک مصروف آدمی کی دن بھرکی مصروفیات کا جائزہ لیں تو بندہ حیران ہوتا ہے کہ یہ فرد واحد ایک دن کے اندر کتنے ہی کام کرتاہے۔ ایسے فرد کو تو شاید اپنی ذات کے لیے بھی مناسب وقت نہیں ملتا ہوگا۔ اس کے مقابلے میں ”وہیلے

Read more

مولانا کو کیا کہیں؟

ابھی اتنی پرانی بات نہیں کہ ڈاکٹرطاہر القادری صاحب اتفاق مسجدسے ”کامیابی“ کے زینے پر قدم رنجہ ہوئے، پھر دیکھتے ہی دیکھتے کئی دیگر علماء پیچھے رہ گئے اور قادری صاحب اپنی پُر جوش تقریروں، شعلہ بیانیوں اور اپنے مخصوص ”انقلابی نعروں“ کی بدولت بہت آگے چلے گئے، مسجد، مدرسہ، شہر اعتکاف اور پھر یونیورسٹی بنا کر انہوں نے خود کو خاصامقبول بنا لیا اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دولت ”آپ“ پر ایسے عاشق ہوئی جس نے

Read more

کیا جان لیوا زلزلے بھی ہمارے حکمرانوں کے لئے ایک مذاق ہیں؟

نمازجنازہ میں اگرکسی صاحب کے موبائل فون کی رنگ ٹیون گانے کی صورت میں بج اٹھے، کسی افسردہ ماحول میں کوئی شخص بلند آوازکے ساتھ ہنسنا شروع کردے تو سوچیں تب حاضرین اس شخص کے بارے میں کیا سوچیں اور کیا کچھ کہیں گے؟ ایسا ہی کچھ منگل کے روز ملک بھرمیں ماحول تھا کہ زلزلے نے سب کوہلا کر رکھ دیا، ہنستے بستے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی، چشم تصورسے دیکھیں کہ وہاں کیاقیامت ٹوٹی ہو گی؟ دکھ کی اس گھڑی میں اگر کسی حکومتی ذمہ دارفرد کی ہنسی نہ رُک رہی ہو اور وہ اس زلزلے کو بھی لطیفہ بنا کر مخالفین پرتنقید کررہا ہو تو پھرسوچیں کہ ایسے فرد کو ہم کیا نام دیں؟

Read more

عثمان بزدار کی شرافت اور ایک نیا یوٹرن

اگر کبھی آپ نے گلہری کو دیکھاہو کہ وہ درخت پر کس پھرتی سے چڑھتی اور اترتی ہے، بعض دفعہ آنکھ جھپکتے ہی وہ کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے اوربندہ دیکھتا ہی رہ جاتا ہے، تبھی تو کہتے ہیں کہ ”بس اس کی آنیاں جانیاں دیکھو“ یعنی کرنا کرانا کچھ نہیں بس بھاگ دوڑ ہی نظر آئے گی۔ یہ عموماً ایسے لوگوں کے لیے بھی کہا جاتاہے کہ جو کام کرتے کچھ نہیں، ظاہر یہ کرانا چاہتے ہیں کہ

Read more

گندی ویڈیو

ایک ہی پوسٹ جب انسٹا گرام، ٹویٹر اور فیس بک وال پر نظر آجائے تو پھر واٹس ایپ اور فیس بک میسجنر میں بھی اُسی کا لنک نہ صرف شیئرکیاگیا ہو بلکہ ساتھ ایک پیغام بھی ہو کہ یہ ویڈیو آپ نے دیکھی ہے؟ نہیں دیکھی تو ضرور دیکھ لیں۔ تصور کریں اگر یہ پوسٹ ”گندی“ ہو، فرض کریں یہ کسی حوا کی بیٹی کی عزت کا جنازہ ہو، یہ کوئی سینماسکینڈل ہو، یہ کوئی انسانی درندگی کی انتہا ہو اور یہ ویڈیو اگرکسی ہسپتال نما کمرے کی ہو، جس ویڈیو میں دو لوگوں کا ایسا عمل عکسبند ہوکہ جنہیں دیکھنا مناسب نہیں تو پھر آپ بعض دفعہ اس سکینڈل پر بات کرنے سے پہلے بھیجنے والے کی سوچ کو بھی اکیس توپوں کی سلامی دے کر اپنے دن کا آغاز کرتے ہیں۔

Read more

فردوس عاشق اعوان، منجی تھلے ڈانگ، مگر کس کس کی؟

لگتا ہے آج کل محکمہ پولیس کے ستارے گردش میں ہیں اور خاصے ہی گردش میں ہیں، ہر ایک واقعہ کے بعد دوسرا واقعہ چونکا دینے والا ہے، ایسے واقعات پہلے بھی ہوتے تھے اور شاید زیادہ ہی ہوتے ہوں مگر یہ کم بخت سوشل میڈیا اب کسی کو چھوڑتا ہی نہیں، جسے جو ملتاہے وہ پکڑ کر وائرل کر دیتا ہے اور پھر گھربیٹھے بٹھائے بندے کو انصاف مل جاتاہے، یہ عوام کے لیے تو اچھی بات ہے مگر جن کے قبلے درست ہونے والے ہیں، ان کے لیے یہ خاصا خوفناک ہے، حالیہ واقعہ کو ہی دیکھ لیں جس میں ایک وکیل نے خاتون پولیس اہلکار کوتھپڑ دے مارا اور بات بڑھتی بڑھتی کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔

Read more

سینما سکینڈل، وجوہات اور حل

بہت سے واقعات پہلے بھی ہوتے تھے مگر کچھ کا پتہ چلتا تھا اور کچھ دب کر رہ جاتے تھے، اخبارات کے بعد ٹی وی چینل اور اب سوشل میڈیانے جہاں بہت سے مظلوموں کو انصاف فراہم کرنے میں کردار ادا کیاہے وہیں اس کا غلط استعمال بھی نئی نسل کو تباہی کی طرف لے جانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا۔ خاص طور پر اس بات سے عاری ایسے لکھاریوں کی چند سطور معاشرے کے لیے زہر قاتل ثابت ہو رہی ہیں جنہیں یہ احساس نہیں کہ الفاظ کا انسانی ذہن پرکتنا گہرا اثرپڑتا ہے اور اس سے بعض دفعہ مثبت سوچ بھی منفی بن جاتی ہے، پھرمعاملہ مزیدخطرناک تب ہو جاتاہے جب غلط کوصحیح کہنے والوں کے پاس من گھڑت دلائل بھی ہوتے ہیں۔

Read more

مسلم امہ، اِن تلوں میں تیل نہیں

ہوش سنبھالا تو یہی دیکھا کہ پڑوس یا رشتے دار وں کے ہاں کسی کا انتقال ہو جاتا تو گھر میں افسردگی کا سایہ نظر آتا، میت کی تدفین تک کسی بھی گھر میں کھانا تیار ہوتا نہ کوئی کھاتا، چالیس دن تک کسی کی شادی کرنے سے بھی گریز کیا جاتا اور قریبی رشتے دار کی صورت میں تو یہ دورانیہ چھ، چھ ماہ تک چلا جاتاتھا۔ بچپن میں تو اس کی زیادہ سمجھ نہ آئی مگر جوں جوں

Read more

کیا دنیا جنگ کی منتظر ہے؟

انسانی حقوق کے کچھ کارکنوں نے ظلم کے وہ پہاڑ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کی ہے جو آزادی کی خواہش رکھنے والے کشمیریوں پر ڈھائے جارہے ہیں مگر کشمیر میں پانچ دن گزار کر واپس لوٹنے والے اکانومسٹ ژان دریز، نیشنل ایلائنز آف پیپلز موومنٹ کے ویمل بھائی، سی پی آئی ایم ایل پارٹی کی کویتا کرشنن اور ایپوا کی میمونہ ملاح دلی کے پریس کلب آف انڈیا کے درجنوں کیمروں کے سامنے وہ سب کچھ دکھانے میں

Read more

کیادنیا جنگ کی منتظر ہے؟

انسانی حقوق کے کچھ کارکنوں نے ظلم کے وہ پہاڑ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کی ہے جو آزادی کی خواہش رکھنے والے کشمیریوں پر ڈھائے جارہے ہیں مگر کشمیر میں پانچ دن گزار کر واپس لوٹنے والے اکانومسٹ ژان دریز، نیشنل ایلائنز آف پیپلز موومنٹ کے ویمل بھائی، سی پی آئی ایم ایل پارٹی کی کویتا کرشنن اور ایپوا کی میمونہ ملاح دلی کے پریس کلب آف انڈیا کے درجنوں کیمروں کے سامنے وہ سب کچھ دکھانے میں

Read more

ہنس گئی تے پھنس گئی

عورت کاخمیر وفا، محبت، ایثار و قربانی کے جذبوں سے گندھا ہوا ہے اور مذہب نے بھی جو عورت کو عزت کا مقام عطا کیا ہے اس سے کسی صورت انکار ممکن نہیں، انسان سے عورت کا پہلا تعارف ماں کے روپ میں ہوتا ہے، یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ عورت کس طرح خود کو موت کے منہ میں ڈال کر انسان کو دنیا میں لانے کا سبب بنتی ہے، عورت کا دوسرا تعارف بہن کی صورت

Read more

سیلاب اور محرومیوں کی دلدل

جب آپ کے حدنگاہ پانی ہی پانی ہو، کہیں راہ فراراختیارکرنے کے لیے بھی خشک راستہ نظرنہ آئے، کشی ہو، نہ آپ تیراک ہوں، پانی گھرکی دہلیزپردستک دینے لگے، مکانوں کی دیواروں میں دراڑیں پڑجائیں اورانسان توانسان جانور، حتی کہ سانپ بھی جائے پناہ تلاش کرتے کرتے آپ کے گھروں میں داخل ہورہے ہوں، درختوں پرحشرات الارض کی اتنی تعدادہوکہ شیشم، کیکراورسفیدے کے تنوں پربھی آپ لٹک نہ سکتے ہوں، موبائل فون کی بیٹیریاں آخری سانسیں لے رہی ہوں توپھرانسان

Read more

عثمان بزدار بھی شہبازشریف کے نقش قدم پرچل پڑے

لاہورکالکشمی چوک ویسے توذائقوں کی وجہ سے اہل ذوق میں خاصا مقبول ہے مگربارش کے دنوں میں یہاں میڈیاہرسال سب سے زیادہ ں ظریں جمائے رکھتاتھا۔ میں سابق ادوار کی بات کررہاہوں جب میاں شہبازشریف بارش ہوتے ہی اس چوک پرپہنچ جاتے اور اپنے لانگ شوزپہن کرپانی میں کھڑے ہوجاتے۔ افسران الرٹ رہتے اور واسا اہلکاروں کی دوڑیں لگی ہوتی تھیں۔ حتی کہ ارکان اسمبلی اور وزراء کوبھی نکاسی آب کاجائزہ لینے کی ہدایت ہوتی تھی۔ جہاں جہاں اہم شخصیات

Read more

کرایہ داروں کا غم توجہ طلب ہے

ایسے ملک بھی دنیاکے نقشے پرموجودہیں جہاں ہرطبقے کوان کے حقوق ملتے ہیں اورانہیں اس کے لیے رونادھونانہیں پڑتا، انہیں اپناحق لینے کے لیے سڑکوں پرسراپا احتجاج نہیں بنناپڑتا، ایک نظام کے تحت سب کوان کے حقوق ملتے ہیں اورایسے ممالک کے شہری اپنی حکومتوں سے مطمئن رہتے ہیں مگرہمارے ہاں پاکستان میں ہمیشہ یہی المیہ رہا ہے کہ عوام کبھی بھی حکمرانوں سے خوش دکھائی نہیں دیے، انتظامی معاملات میں شکایات کے انبارہوتے ہیں اورجس کاجہاں بس چلتاہے وہ

Read more