امریکہ صدور کی ذہنی صحت: دنیا کا طاقتور عہدہ اور اعصاب کا امتحان
’خبطی‘ صدور
ماہرین کے خیال میں دہنی امراض کے باوجود کچھ لیڈروں کو کسی حد تک اس سے فائدہ بھی ہوا۔
2012 میں اموری یونیورسٹی کی طرف سے ہونے والی ایک تحقیق سے پتا چلا کہ بل کلنٹن سمیت کئی صدور میں نفسیاتی امراض کے اثرات موجود تھے۔
ان میں سے دو جو سب سے زیادہ نفسیاتی مریض پائے گئے ان میں لنڈن بینز جانسن اور اینڈریو جیکسن تھے جنھیں صدر ٹرمپ ہیرو مانتے ہیں۔
نفسیاتی مسائل جن کی ایموری کی ٹیم نے نشاندہی کی ان میں غیر حقیقی دلکشی، خودپسندی، اناپسندی، بدیانتی، سنگدلی، خطرات مول لینے کی عادت، ہیجان اور بے خوفی شامل تھی۔
اس تحقیق میں ہر صدر کو شامل کیا گیا، سوائے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سابق صدر باراک اوباما۔
اس تحقیق کے سربراہ پروفیسر لیلنفیلڈ کا کہنا ہے کہ انھیں خدشہ ہے کہ یہ سارے مسائل ہر کسی شخص کو لاحق ہو جاتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ان کی وجہ سے لوگ اعلیٰ عہدوں پر پہنچنے میں بھی کامیاب ہوتے ہیں،’مثال کے طور پرلِنڈن جانس کی انا اتنی بڑی تھی جتنی بڑی ان کی ریاست ٹیکساس ہے‘۔
ان کی سوانح عمری لکھنے والے رابرٹ کارو کے مطابق انھوں نے 1948 میں سینیٹ کے انتخابات کھلے عام چرائے اور وہ بے شرمی سے اس حوالے سے مذاق بھی کرتے تھے۔
جانسن اپنے ساتھ بیٹھی ہوئی خاتون کی سکرٹ میں بغیر سوچے سمجھے ہاتھ ڈال دیتے تھے جبکہ ان کی اہلیہ بھی ان کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہوتی تھیں۔
وہ اپنے عملے کی توہین کرنے میں مزا لیتے تھے اور انھیں پشاب یا حجابت کرتے ہوئے ڈکٹیشن لینے کے لیے بلا لیتے تھے۔
1964 میں خلیج ٹونکن میں بحری جھڑپ کے بارے میں عام خیال یہ ہی ہے کہ لِنڈن جانسن نے جھوٹ بولا تھا، جو غالباً ان کی سیاسی زندگی کے ختم ہونے کا باعث بنا۔جانسن نے اسی واقعے کو استعمال کرتے ہوئے ویتنام کی جنگ میں امریکہ کی مداخلت ممکن بنائی۔
اس کے بعد وینتام میں جارحانہ مزاحمت سے پیدا ہونے والے حالات کے باعث چار سال بعد لِنڈن جانسن نے اعلان کیا کہ وہ دوبارہ صدارت کے عہدے کے امیدوار نہیں ہوں گے۔
اینڈریو جیکسن کو، جنھوں نے انڈین ریموول ایکٹ کے تحت مقامی باشندوں کی نسل کشی پر دستخط کیے تھے، آج ایک ظالم کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جبکہ وہ امریکی تاریخ میں واحد صدر تھے جن کے دور میں تمام قرضے اتار دیئے گئے تھے۔
صدر بل کلنٹن کی شہرت کو جنسی سکینڈل کی وجہ سے نقصان اٹھاناپڑا تھا۔
کچھ صدور اوول آفس کے دباؤ کو دوسروں کے مقابلے میںبہتر طریقےسے نہیں جھیل پائے۔
حتیٰ کہ نائب صدر کی حیثیت سے رچرڈ نکسن بھی ڈیپرشن کی ادویات کا استعمال کر رہے تھے اور وہیہ ادویات بھی شراب کی مدد سے نگلتے تھے۔
سوانح نگار جان فرایرلز لکھتے ہیں کہ واٹر گیٹ کے بحران کے دوران صدر نکسن ضرورت سے زیادہ شراب پیتے تھے اور متزلزل ہو گئے تھے۔
اسی طرح ہینری کسنجر نے ایک مرتبہ بتایا تھا کہ صدر نکسن مشرق وسطیٰ میں بحران کے دوران ایک دن نشے میں ہونے کی وجہ سے برطانوی وزیر اعظم سے ٹیلی فون پر بات بھی نہیں کر سکے تھے۔
تو کیا صدر ٹرمپ ذہبی طور پر بیمار ہیں؟
پروفیسر ڈیویڈسن کی تشخیص ہے کہ نہیں۔
وہ بین الاقوامی سطح پر ماہرین میں جاری بحث کا حوالہ دیتے ہیں کہ آیا نرگسیت شخصیت کی خرابی ہے۔
لیکن ناصر غیمی اس موضوع پر ایک کتاب کے مصنف بھی ہیں اور ان کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ میں ’پاگلپن‘ کی علامات موجود ہیں۔
ٹفٹ سکول آف میڈیسن میں نفسیات کے پروفیسر کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ’زیادہ سوتے نہیں اور ان میں جسمانی توانائی ضرورت سے زیادہ ہے۔‘
‘ان کی طبیعیت خرچ کرنے اور وہ کسی چیز پر توجہ بھی مرکوز نہیں کر پاتے۔’
پروفیسر کے مطابق ان کی یہ خصوصیات ان کی صدارتی مہم کے دوران بہت مدد گار ثابت ہوئیں۔
’وہ ایسی چیزوں پربھی بات کرتے تھے جو ایک عام، ذہنی طور پر صحت مند اور متوازن انسان، جیسا کہ ہیلری کلنٹن نہ نہیںکیں۔‘
ہمیں اکثر کہا جاتا کہصدر ٹرمپ کی صدارت نے تاریخی اصولوں کو توڑ دیا ہے۔
لیکن سابقہ سپہ سالاروں کی عجیب اور مشکل زندگیاں یہ سوال پیدا کرتی ہیں کہ پھرنارمل کیا ہے؟
۔


