آخر کار تھانوں میں تشدد کا خاتمہ کر دیا گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پنجاب حکومت کے خلاف ففتھ جنریشن وار دیکھ دیکھ کر ہم دل مسوس رہے ہیں۔ ایک شریف اور نفیس شخص وزیراعلیٰ ہے تو اسے ایک نا اہل بدمعاش ثابت کرنے کے لئے پولیس تشدد کی ویڈیوز پھیلائی جا رہی ہیں۔

پہلے ملتان میں ایک شخص پولیس حراست میں مر گیا۔ وہ کیمروں کو منہ چڑا چڑا کر سوشل میڈیا پر بہت مقبول ہو گیا تھا اور اب اس کی نئی ویڈیوز آ گئی ہیں جن سے اس پر تشدد ظاہر ہو رہا ہے۔ ایک ویڈیو میں بولا گیا یہ جملہ تو پولیس پر ہمیشہ کے لئے چسپاں ہو گیا ہے کہ ”ایک بات پوچھوں، مارو گے تو نہیں؟ “۔ بتایا جا رہا ہے کہ سپیشل پرسن تھا۔

ساتھ ہی خبر آ گئی کہ لاہور میں ایک نوجوان کو پولیس نے تشدد کر کے مار ڈالا ہے اور اس کی ویڈیو وائرل ہو گئی ہے۔ آئی جی آفس کے سامنے ایک اسی برس کی اماں کے ساتھ پولیس افسر کی بدسلوکی اور غنڈہ گردی کی ویڈیو نے بھی ہمیں بہت بدنام کیا ہے۔

اس سے قبل ساہیوال میں جو خاندان مارا گیا تھا اور اس کے ننھے بچوں نے پوری قوم کا دل دکھا دیا تھا، اس کی فائرنگ کی ویڈیو نے ہمیں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ ایک صحافی نے پوری تحقیق کر کے لکھا ہے کہ پچھلے آٹھ ماہ میں پولیس کے زیر حراست سولہ ملزمان ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے؟ پولیس کے ہاتھوں شہریوں کی ہلاکت کی پے در پے ویڈیوز ہماری محبوب حکومت کو کمزور کر رہی ہیں۔ غلط کام پولیس کرتی ہے، شہریوں سے بدتمیزی وہ کرتی ہے، تشدد کی ویڈیوز اس کی آتی ہیں اور حکومت عثمان بزدار کی کمزور ہوتی ہے۔

اب ایک طریقہ تو یہ ہے کہ پولیس ریفارمز کی جائیں۔ تھانہ کلچر بدلا جائے۔ لوگوں پر تشدد کر کے ایسا اقبال جرم کرنے کی بجائے جو عدالت میں ملزم کو چھڑوانے کا باعث بن جاتا ہے، پکی سائنسی شہادتوں کی بنیاد پر تفتیش کر کے اسے سزا دی جائے۔ لیکن تھانہ کلچر تو شہباز شریف جیسا سخت منتظم بھی نہیں بدل سکا۔

یہ بات تو ہم سب مانتے ہیں کہ انگریز بہت عقل مند تھا۔ وہ پوری سوچ بچار کر کے اور دیکھ بھال کر کے سسٹم بناتا تھا۔ عثمان بزدار کے بزرگوں نے بھی ذکر کیا ہو گا کہ جاہل عوام کو کنٹرول کرنے کے لئے انگریز نے شرفا کو زمینیں دیں اور انہیں سردار بنایا۔ جبکہ جرائم اور سرکشی سے روکنے کے لئے اس نے ولایت میں تو بہت مہذب پولیس رکھی لیکن برصغیر کے لوگوں کے مزاج کو دیکھتے ہوئے اس نے پولیس کی تربیت میں گالم گلوچ اور مار پیٹ کے اسباق شامل کیے۔ ہم انگریز کا بنایا سسٹم کیسے بدل سکتے ہیں؟ ادھر تو اندھیر مچ جائے گا۔

ویسے بھی یہاں ولایتی سائنس لڑانے کا تجربہ ناکام ہو گیا ہے۔ پولیس نے فنگر پرنٹ اٹھانے شروع کیے تو ہمارے مجرم بھی ولایتی ہو گئے، انہوں نے دستانے پہن کر ڈاکے ڈالنے شروع کر دیے ہیں۔ آخر میں پھر انہیں ڈرائنگ روم میں لے جا کر ان سے جرائم کا اعتراف کروانا پڑتا ہے۔

لیکن بہرحال یہ تو حقیقت ہے کہ ان ویڈیوز نے تو تحریک انصاف کی حکومت کو کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا ہے۔ اس کے اندھے حامی بھی اس پر شدید تنقید کر رہے ہیں کہ اس حکومت میں انصاف کا ایسا منظر ناقابلِ قبول ہے کہ تھانوں میں ایسا تشدد کیا جا رہا ہو۔ انہوں نے اس قسم کی تبدیلی کے لئے تو ووٹ وغیرہ نہیں دیا تھا کہ حالات پہلے سے بھی زیادہ برے ہو جائیں۔

بہرحال آپ پریشان نہ ہوں۔ حکومت نے اس مسئلے کا حل تلاش کر لیا ہے۔ تھانوں میں اس غیر انسانی تشدد اب دکھائی نہیں دے گا۔ لوگوں پر پولیس تشدد کی ویڈیوز وائرل ہو کر حکومت کو بدنام نہیں کریں گی۔ حکومت نے پولیس سٹیشن کی حد میں کیمرے والے موبائل پر پابندی لگا دی ہے اور آئندہ ایسی ویڈیو نہ بنے گی نہ حکومت کو پریشان کرے گی۔

یوں پنجاب کے تھانوں میں پولیس تشدد کا خاتمہ ہو گیا۔ نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی، نہ کیمرہ ہو گا نہ ویڈیو بنے گی۔ اب تھانے میں جاتے وقت شہریوں سے موبائل دروازے پر ہی لے لئے جائیں گے۔ پولیس اہلکاروں کو بھی کیمرے والا موبائل رکھنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ صرف تھانیدار اور محرر یہ موبائل رکھنے کے مجاز ہوں گے۔ اس سے اگلے مرحلے میں تھانے سے باہر بھی لوگوں سے کیمرے والے موبائل ضبط کر لئے جائیں گے تاکہ گلی محلے میں بھی حکومت بدنام نہ ہو۔

قدیم دانش یہی تو کہتی ہے کہ مرض کا خاتمہ کرنے کا سب سے زیادہ کامیاب طریقہ یہ ہے کہ مرض کی جڑ ختم کیا جائے۔ یعنی مریض کا خاتمہ کر دیا جائے۔ نہ مریض بچے گا نہ مرض رہے گا۔

نوٹ: اے آئی جی پنجاب کا نوٹیفیکشن پولیس اہلکاروں کے بارے میں ہے اور سی پی او راولپنڈی نے راولپنڈی کے تھانوں میں کسی بھی شخص کے موبائل فون کو گیٹ پر جمع کرنے کا حکم دیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1179 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar