تھانے جہاں جرم اور مجرم دونوں بکتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا کے کئی ممالک مسلح ا فواج کے بغیر تو ہیں مگر کوئی ملک ایسا نہیں جو پولیس کے بغیر ہو۔ ہماری پولیس کی تنظیم کا موجودہ ڈھانچہ برطانوی راج کے دور میں متشکل ہوا جس کا بنیا دی مقصد ریاستی گرفت کو مضبوط کرنا تھا۔ بندوبستی علاقے جہاں اینگلو سیکسن قانون کا نفاذ تھا لوگوں کی جان کی محافظ پولیس اور مال کا ذمہ دار محکمہ مال کو بنا دیا گیا تھا۔ موجودہ پاکستان میں پنجاب سابقہ برطانوی راج کے بندوبستی علاقے کا حصہ رہا ہے جس کی وجہ سے یہاں کا محکمہ مال اور پولیس دوسرے صوبوں سے مختلف نظر آتے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں ایف سی آر کے قانون کے تحت تمام اختیارات کا منبع م قبائلی سردار بذریعہ مجسٹریٹ قرار دیے گئے تھے اور نیم قبائلی علاقوں میں جاگیردار وں اور تمنداروں کو مضبوط کردیا گیا تھا۔

پاکستان میں پولیس کی سدھار کے لئے ہر دور میں آوازیں اٹھتی رہی ہیں۔ ہر آنے والی حکومت پولیس کے نظام میں بہتری لانے کا وعدہ کرکے تخت نشین ہوئی مگر ما سوائے چند انتظامی سطح کی رد وبدل کے کوئی نامیاتی تبدیلی اب تک نہ آسکی۔ جنرل مشرف کے اختیارات کے نچلی سطح تک منتقلی کے پروگرام میں اس ادارے کو مقامی حکو حکومتوں کے ماتحت چلانے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج بھی خاطر خواہ ثابت نہ ہوسکے۔ پولیس کا ادارہ اب گلے کی ایسی ہڈی بن چکا ہے جسے نہ نگلا جا سکتا ہے نہ اگلے بنتی ہے۔

مشرف کے دور میں پولیس ریفارمز پر مشاورت کا ایک سلسلہ شروع ہوا تو ناچیز کو بھی ایک دو بار ایسی مشاورتی مجالس میں شمولیت کا موقع ملا جہاں اس سلسلے میں کھل کر بات ہوئی۔ کمیونٹی پولیسنگ یعنی برادای کی پولیس یا برادری کے لئے پولیس ایسا تصور ہے جو ہمارے ہاں اس ادارے کو راہ راست پر لانے کے لئے سول سوسائٹی ایک تجویز کے طور پر پیش کرتی ہے۔ اس موضوع پر ایک مشاورت کے دوران ایک پولیس افیسر نے جو اس موضوع پر سکہ بند عالم و ماہر کے طور پر بلائے گئے تھے، نے واضح کیا کہ ہماری پولیس پہلے سے ہی کمیونٹی پولیس ہے مگر ہم کمیونٹی کی تعریف میں ابہام کا شکار ہیں کیونکہ یہاں اس سے مراد اشرافیہ کی کمیونٹی ہے جس کے تحفظ میں پولیس کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتی۔

پولیس میں ایمانداری نہ ہونے پر یہاں اصلاح کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے۔ اس بات کا انکشاف ہوا کہ پولیس میں سب سے ایماندار اور صالح وہ افسر ہوتا ہے جو لوگوں سے براہ راست رشوت نہیں لیتا مگر ایسا کوئی افسر نہیں جو سرکاری پیسہ پر ہاتھ صاف کرنے سے چوکتا ہو۔ سرکاری بجٹ تھانے تک بجٹ پہنچتا ہو یا نہیں مگر تھانے میں حوالاتیوں کو روزانہ کم از کم ایک وقت کی دال روٹی کھلائے بغیر رکھنا ممکن نہیں۔ حولاتیوں کو تھانے سے کچہری تک لے جانے والی پولیس موبائل کے اخراجات اس کے روزانہ گشت کے خرچے کے علاوہ ہیں جس نے اپنے حدود میں روزانہ کم از کم ایک چکر لازمی لگانا ہوتا ہے۔ تھانے میں استعمال ہونے والی اسٹیشنری بھی کسی بجٹ کے بغیر ہی آتی ہے۔ ایسے حالات میں تھانہ دار سے اگر ایمانداری کے عمومی تقاضے پورا کرنے کی امید رکھیں تو تھانہ بند کرنا پڑے گا۔

قانون خواہ جیسا بھی ہو مگر تھانہ اپنے وضح کردہ ضابطہ اور اصول پر چلتا ہے۔ پولیس میں ہر جوان کاندھے پردو پھول لگا کر سب انسپکٹرتو بن جا تا ہے مگر تھانیدار یا کوتوال صرف وہی بن سکتا ہے جو بغیر بجٹ کے نہ صرف تھانہ چلا سکتا ہو بلکہ علاقے میں امن و امان بھی قائم رکھ سکتا ہو۔ تھانیدار بننے کی یہ صلاحیت جو پہلے شاید مفقود ہو مگر اب ہر جوان میں بدرجہ اتم موجود ہونے کی وجہ سے مقابلہ بھی سخت ہوتا جارہا ہے۔

اب تھانہ کو بہتر انداز میں چلانے کے مقابلہ صرف تھانہ اور علاقہ سنبھالنے تک محدود نہیں ہوتا بلکہ محنت کے ثمرات کا اوپر تک پہنچنے کی شرط پر ہوتا ہے۔ اگر ثمرات کو پہلے طے کیا جائے یا پیشگی وصول کیے جائیں تو عرف عام میں اس کو تھانہ بکنا بھی کہتے ہیں۔ جن تھانوں میں ایسے ثمرات اور فیوض کی توقع زیادہ ہوتی ہے اس میں کوتوال کی تعیناتی کے لئے مقابلہ بھی سخت ہوتا ہے اور یہ برکات شرفاء کی نہیں جرائم اور مجرمان کی مرہون منت ہوتی ہیں۔

تھانے میں تعیناتی کے بعد کوتوال اور عملے کا پہلا ہدف اپنے اس پیسے کی وصولی ہوتا ہے جو یہاں تعیناتی کے مقابلے میں بولی کی صورت میں یا بعد از تعیناتی ادا کرنا ہوتا ہے۔ یہ پیسہ مجرموں اور ملزموں کی جیب سے ہی نکلتا ہے۔ مولا بخش کہلانے والا چھترول ہی وہ اختیار ہے جس کے استعمال سے مجرم سے پہلے سب کچھ اگلوایا اور پھر نکلوایا جاتا ہے۔ شریف لوگ جو پہلی بار کسی جرم کے مرتکب ہوں وہ تو پہلے ہی سب کچھ اگل دینے کے ساتھ نکال کر ہاتھ پر رکھ بھی دیتے ہیں مگر عادی مجرموں سے اگلوانا اور نکلوانا آسان نہیں ہوتا جس کے لئے تھرڈ ڈگری اور کبھی کبھار اس حد تک تشدد، تضحیک اور تذلیل کی جاتی ہے کہ اس کے تصور سے ہی ہم جیسے لوگ ہمت ہار بیٹھ جاتے ہیں تو چند لوگ بذات خود اس عمل سے گزرتے ہوئے زندگی کی بازی ہار جائیں یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ اس لئے تھانے میں دوران تفتیش کسی کے مرنے پر آج تک کوئی سزا نہ ہوپائی۔

تھانوں میں درج کرائے جانے والے روزمرہ کے جرائم کے علاوہ پولیس اہلکارخاص جرائم اور مخصوص مجرموں کی نشاندہی اور سراغ لگانے کے لئے اپنے وسائل اس لئے بروئے کار نہیں لاتے کہ اس سے جرائم کی بیخ کنی مقصود و مطلوب ہے۔ ایسے جرائم اور مجرموں کی نشاندہی کے ساتھ خاص دلچسپی کی بنیاد بھی خالصتاً کاروباری ہوتی ہے۔ ایسے معاملات پہلے تو قانون کی نگاہ میں لائے بغیر نمٹائے جاتے ہیں جس کے لئے تھانے کے حوالات کے علاوہ بھی اس کام کے لئے مخصوص جگہیں استعمال ہوتی ہیں جو کبھی کبھار کسی وجہ سے قانون اور میڈیا کی نظر میں آتی ہیں تو ان کو نجی عقوبت خانوں کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ بھی کسی ڈاکٹر کی پرائیویٹ پریکٹس اور کسی ٹیچر کا پرائیویٹ ٹیوشن پڑھانے جیسا پولیس کا حق سمجھا جاتا ہے۔

سرکاری وردی اور ہولسٹر میں گولیوں سے بھرا پستول کے ساتھ مار دینے پر شاباشی، ترقی اور میڈلز کے ذریعے صرف تھانے ہی نہیں شہر کے شہر اور صوبے بھی چلائے جاتے ہیں۔ کراچی کے چوہدری اسلم اور راؤ انوار قانون کے بجائے اپنے زور بازو اور اختیار کے بل بوتے پر کراچی میں مقبول ہوئے تو پنجاب کا پورا صوبہ ہی پولیس کے دم خم پر چلتا ہے۔ جعلی پولیس مقابلوں سمیت مخالفین کو سبق سکھانے کے کئی ایسے طریقے یہاں مروج ہیں جو بطور انتظامی حربہ اب نہ صرف سب کو قبول ہیں بلکہ سب ہی اس پر اپنے اپنے طریقے سے عمل پیرا بھی ہیں۔ پولیس اگر دس کام حکمرانوں کے لئے کرتی ہے تو دو چار اپنے بھی کرتی ہے اور یہ یہاں کا رواج عام ہے۔
جب تک جرم اور مجرم بکتے رہیں گے لوگ پولیس مقابلوں اور تھانوں میں مرتے رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 197 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan