یوم دفاع پر عوام کا چہرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے مطابق یوم دفاع ملک بھر میں پورے جوش و جذبے سے منایا گیا، مساجد میں خصوصی دعاوں کا اہتمام کیا گیا اور مختلف تقریبات میں قوم نے اپنے شہدا کو سلام پیش کیا۔ قوم نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ اگر دشمن نے میلی آنکھ سے اس پاک سرزمین کی طرف دیکھا تو اسے نشان عبرت بنا دیا جائے گا۔ اس بات کے ثبوت میں جی ایچ کیو میں ہونے والی تقریب دکھائی گئی جہاں فوج اپنے شہدا کو یاد کر رہی تھی، مختلف آپریشنوں میں زخمی اور معذور ہونے والے اسی حالت میں بھی لڑنے اور وطن کے لیے جان دینے کے عزم کا اظہار کر رہے تھے۔

شہدا کے والدین، بہن بھائی اور بیوی بچے شہید ہونے والے کے حوالے سے اپنی یادیں تازہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے شہید کی مادر وطن کے لیے قربانی پر فخر کر رہے تھے۔ اخبار اور ٹی وی اسکرین سے نظریں اٹھانے کی جب فرصت ملی تو دیکھا کہ گلی محلے میں بھی لوگوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ گاڑیاں، موٹرسائیکل اور سائیکل تک سجائے ہوئے تھے، ملی اور عسکری نغمے ایک بار پھر سننے والوں میں ولولہ جگا رہے تھے۔ لوگوں نے اپنے طور پر چھوٹی چھوٹی ریلیوں اور پیدل مارچ کا بھی اہتمام کیا ہوا تھا۔

سڑکوں پر ایویں ہی لوگ جمع ہو کر پاکستان زندہ باد اور پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ ایسے ہی حالات کچھ دن پہلے بھی تھے جب سرحدوں پر کشیدگی پیدا ہوئی اور پاکستان آرمی اور ائیر فورس نے دشمن کو اچھا خاصا جواب دیا۔ پاک فوج کی قربانیاں یاد کی جا رہی تھیں اور ملک و ملت کے نعرے لگاتے ہوئے لوگ پاک فوج زندہ باد کے نعرے بھی لگا رہے تھے لیکن اس خوبصورت تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے یعنی تصویر کا دوسرا حصہ جو ہمیشہ پردے میں رہ جاتا ہے۔

ہر سال ہم یہی نا مکمل تصویر دیکھ کر خوش ہو جاتے ہیں اور باقی آدھا حصہ جو پردے میں رہ جاتا ہے وہ پھر پردے میں ہی رہ جاتا ہے۔ یہ آدھا حصہ ہے لوگوں کے مکروہ اور منافقت بھرے چہرے کا عکس جو اس دن کی ساری خوبصورتی، جوش و جذبے گہنا دیتا ہے اور سال کے باقی سارے دن ہم اس مکروہ اور منافقت بھرے چہرے کے عکس تلے اپنی زندگی گزار دیتے ہیں۔ آپ ہم سے متفق نہیں۔ ؟ تو آئیے پہلے عوام کے ہجوم سے ٹہلتے ہوئے کچھ گھروں میں داخل ہوتے ہیں۔

پاکستان میں بھیڑ بکریوں کے ریوڑ تو خال خال ہی ملیں لیکن لوگوں کے ہجوم آپ کو جگہ جگہ مل جائیں گے اور دنیا بھر میں کہیں بھی کوئی بھی ہونے والا مسئلہ وہاں زیر بحث ہو گا۔ امت مسلمہ اور پاکستان کے حوالے سے ایک عام صورت حال یہ ہے مسئلہ چاہے کچھ بھی ہو کسی کا بھی ہو، ہمارے لوگوں کا ایک ہی موقف ہوتا ہے کہ پاکستانی فوج فورا وہاں پہنچ کر جنگ شروع کر دے۔ مسئلہ یمن کا ہو، فلسطین کا، برما کا یا پھر کشمیر کا۔ لوگوں کا یہی جاننا اور ماننا ہے کہ یہ مسائل بات چیت سے یا کسی بھی اور طریقے سے حل نہیں ہو سکتے، مسائل کا صرف ایک ہی حل ہے کہ پاکستان آرمی علاقے میں پہنچے اور اپنی کارروائیوں کا آغاز کر دے۔

پاک بھارت سرحد پر ایسی کارروائی کی جائے کہ نہ صرف بھارتی توپخانہ خاموش ہو جائے بلکہ ڈھونڈنے سے بھی کوئی بھارتی فوجی نہ ملے اور مودی سرکار اپنے ہی ملک سے فرار ہو جائے۔ لوگوں کے ایسے ہی جذبات سے واقف ہوتے اور ان کی باتیں سنتے ہوئے جب ہم کچھ لوگوں کے گھروں کی طرف چلتے ہیں تو ہمیں یاد آتا ہے کہ پچھلے دنوں بھارتی گولہ باری سے کچھ پاکستانی فوجی شہید ہو گئے تھے۔ پاکستان بھارت کے ساتھ اپنے قیام سے ہی حالت جنگ میں ہے اور تین باقاعدہ جنگیں ہم لڑ چکے ہیں جبکہ بھارتی اور عالمی سازشوں کی وجہ سے جو دہشت گردی کی لہر پاکستان میں اٹھی، اس میں بھی ہزاروں عام لوگوں کے ساتھ ساٹھ ہزار کے قریب فورسز کے جوان شہید یا زخمی ہوئے ہیں۔

انہی باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم پہلے دروازے پر جا پہنچتے ہیں۔ یہ گھر ہے کارگل میں شہید ہونے والے ایک لانس نائیک کا، اپنی پینشن کے کاغذات مکمل کروا کر پندرہ سے بیس دنوں میں ریٹائر ہونے والے اس لانس نائیک کی آنکھوں میں جانے کتنے خواب تھے جو اس نے اپنے تین اور پانچ سالہ بچے کے لیے دیکھے تھے۔ نو سال کی اس کی بیٹی، جو ہر چھٹی پر یہی پوچھتی کہ آپ ہمارے پاس بہت سارے دنوں کے لیے کب آکر رہیں گے۔ وہ لانس نائیک اپنی آنے والی زندگی کے بارے سوچ رہا ہوتا ہے کہ وطن اور فرض اس کو پکارتے ہیں اور وہ لبیک کہتا ہوا اپنے وطن پر قربان ہو جاتا ہے۔

سوال یہ نہیں ہے کہ اس کی بیوہ نے اس کے بعد اتنے سال کیسے گزار لیے اور کیسے بچوں کی پرورش کی۔ سوال صرف یہ ہے کہ کارگل جنگ کے اس شہید کے گھر آج تک کتنے لوگ فاتحہ کہنے کو آئے، کتنے لوگوں نے بچوں کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور ان بچوں کا شکریہ اداکرتے ہوئے انہیں اپنائیت کا احساس دیا کہ ان کا والد اس ملک کے باقی لوگوں کے محفوظ مستقبل کے لیے اپنی جان قربان کر گیا۔ کسی دوسرے شہر اور صوبے سے کسی نے کیا آنا تھا، اس کی اپنی گلی اور محلے سے کون ایسا آیا ہے جس نے انہیں فخر کا احساس دلاتے ہوئے شہید کے لیے فاتحہ کی ہو اور شکریہ کہا ہو۔

یہ دوسرا گھر ابھی کشمیر میں شہید ہونے والے جوان کا ہے جس کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ میٹرک کا رزلٹ آیا تو سیدھا فوج میں بھرتی ہوا اور بوڑھی ماں اور جوان بہنوں کا سہارا بنا۔ گھر کا مرد کمانے کے قابل ہوا تھا، سب نے بہت عرصے بعد مٹھائی دیکھی اور بانٹی کہ ان کے دن اب پھرنے والے ہیں کہ ان کے گھر میں بھی بچہ کمانے لائق ہوا ہے۔ والد کی بے وقت موت کے بعد ان گھر والوں نے جیسے دن دیکھے یہ وہ ہی جانتے ہیں لیکن اب لڑکا فوج میں بھرتی ہوا ہے تو لوگوں کی باتوں اور منت محتاجی سے جان چھوٹ جائے گی۔

سرحد پار سے ہونے والی گولہ باری کا جواب دیتے ہوئے وہ لڑکا بھی اپنی دھرتی ماں کے لیے اپنی جان قربان کر دیتا ہے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ اب اس گھر میں چولہا کیسے جلے گا اور سوال یہ بھی نہیں ہے کہ اس لڑکے کی جوان بہنوں کی شادیاں کیسے ہوں گی؟ سوال تو صرف یہ ہے کہ کشمیر کشمیر کا راگ الاپتے ہوئے منہ توڑ جواب دینے کی جو باتیں کرتے تھے، ان میں سے کون کون آج تک اس شہید کے گھر آیا ہے کہ ہاں ماں تمہارے بچے نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، ان کی بندوقوں کو خاموش کروایا، ان کے بڑھتے قدموں کو روک دیا۔

ماں تم عظیم ہو اوراس شہید کے لیے فاتحہ کہنے کو آیا ہوں۔ یہاں میرا یہ مطالبہ نہیں کہ کوئی اس ماں سے کہے کہ تم نے ایک بیٹا قربان کر دیا ہے اب میں تمہارا بیٹا ہوں۔ اتنے احسان کی کوئی ضرورت نہیں لیکن کوئی فاتحہ کہنے کو آیا۔ ؟ کسی نے اس قربانی پر اس کے گھر والوں کو گلے لگایا اور اپنائیت کا احساس دیا۔ ؟ وہ جو جنگ جنگ اور لڑائی لڑائی کرتے تھے وہ سب کیا ہوئے۔ ؟

کیا کسی اور گھر کا دروازہ کھولنے کی ضرورت ہے کہ کہانی تو ہر گھر کی ایک جیسی ہی ہے۔ ہر سال ہم چھے ستمبر مناتے ہیں، شہیدوں کو یاد کرتے ہوئے اپنی گاڑیاں، موٹر سائیکل سجاتے ہیں۔ پاں پاں والے باجے خرید کر ون ویلنگ کرتے ہیں، اونچی آواز میں ڈیک پر ملی اور عسکری نغمے بجاتے ہیں۔ وکٹری کے نشان بناتے ہیں اور بھارتی حکومت اور افواج کو بھڑکیں لگاتے ہیں لیکن۔ لیکن ہم کسی شہید کے گھر نہیں جاتے۔ ہم کسی شہید کے گھر والوں کا پتہ نہیں کرتے، انہیں اپنائیت کا احساس نہیں دلاتے۔

ہم ان شہیدوں کی بہادریوں پر اکٹرتے ہیں لیکن ان کی قبروں پر فاتحہ نہیں پڑھتے۔ ہم ان شہیدوں سے یوں بیگانہ رہتے ہیں جیسے ان لوگوں نے صرف اپنے ماں باپ، بیوی بچوں کی حفاظت کے لیے جان دی تھی اور باقی ملک والوں کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ یاں پھر بس پاک فوج کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہیدوں کو یاد کرئے جیسے قربانی دینے والا اس ملک کا نہیں صرف ادارے کا حصہ تھا۔ ہر سال چھے ستمبر آتا ہے اور ہماری بھڑکوں، نعروں، جھنڈیوں اور باتوں میں گزر جاتا ہے۔ شہدا کے گھر کوئی عام آدمی نہیں جاتا۔ اور یہ ایسا ہمارا مکروہ اور منافقانہ چہرہ ہے جس سے ہم نظریں چراتے ہیں۔ چھے ستمبر کی تصویر ہمیشہ نا مکمل رہ جاتی ہے۔ ہمارے مکروہ اور منافقانہ رویوں کے اظہارمیں یہ دن بھی آخر ہر سال گزر ہی جاتا ہے۔ جسے اس سال بھی یہ دن گزر ہی گیا آخر۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •