اْن لوگوں میں ایسا کیا تھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ عرصہ سے زیادہ ہی مصروفیات بڑھ گئی ہیں۔ بیگم سے لنچ کے وقت ہی گفتگو کا موقعہ ملتا ہے۔ وہ لنچ تیار کر رہی ہوتی ہے اورمیں اس سے اپنے نئے خیالات شیئر کرتا ہوں۔ شکر ہے خدا کی پاک ذات کاکہ ا ْس نے مجھے بڑی صابربیوی عطا کی ہے۔ مجھے انتہائی سنجیدگی سے سنتی ہے اور میری صحیح سمت کا تعین کرنے میں میری رہنمائی کرتی ہے۔ تبادلہ خیالات کے بعد اکثرمیں ان خیالات کو تحریری شکل دیتا ہوں۔ آج کل سوشل میڈیا پر ہر دوسرا بندہ طلاق کے بخار میں مبتلا ہے۔

کئی لوگوں نے طلاق کو اپنی انا کا مسئلہ بنارکھا ہے۔ ہاں یا نہ کی صورت میں بائبل مقدس کے حوالوں کے علاوہ سماجی، معاشرتی اورقانونی پہلو دکھائے جاتے ہیں۔ اوربعض اوقات میاں بیوی میں انتہائی کشیدہ تعلقات کے بارے میں اپنی اپنی سمجھ کے مطابق دلیلیں دی جا رہی ہوتی ہیں مگر کوئی بھی ازدوجی زندگی کو خوشگوار بنانے کا مشورہ نہیں دے رہا۔ کلامِ الہی لاتبدیل ہے۔ مگرارتقائی عمل سماج ا و رمعاشرے کو متاثر کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

کہیں کہیں انسانی حقوق کی تنظیمیں یا لبرل خیالات کے حامی مذہب کو چیلنج کرتے نظر آتے ہیں۔ مثلاً طلاق کے حق کو پرموٹ کرنا کہ کسی بھی مرد یا عورت کو جہنم کی زندگی گزرانے کی بجائے طلاق لینے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ برطانیہ اور دیگر ممالک میں طلاق کے قانون کا حوالے بھی دیے جا رہے ہیں۔ ترقی یافتہ معاشرے اور ترقی پزیر معاشرے کو ایک ہی کسوٹی پر پرکھا نہیں جا سکتا۔ مگر مسیحی مذہب طلاق کی اجازت بالکل نہیں دیتا۔

آج بھی حسبِ معمول لنچ ٹیبل پر بیٹھے بیٹھے حسب معمول بیگم سے اپنے خیالات شیئر کر رہا تھا۔ ہوتے ہوتے بات سکھ کمیونٹی پر آ گئی کہ انہوں نے ان ترقی یافتہ ممالک میں آ کر بھی اپنی پہچان کو نہیں بدلا۔ اپنی زبان، تہذیب حتی کہ اپنا کلچرتک نہیں بدلا۔ دارو شراب رج کے پیتے ہیں۔ خوب کھاتے ہیں اوربیوی کو کٹ بھی لگاتے ہیں مگرپھر بھی ان میں طلاق نہیں ہوتی کیونکہ بیوی جانتی ہے کہ سردار جی پی کے آئے ہیں۔ میاں بیوی میں علیحدگی ضرورہوتی ہے ایسے کیسزمیں عدالت انہیں سوچنے سمجھنے اور فیصلہ کرنے کے لئے ایک سال سے دوسال کاموقع دیتی ہے تاکہ وہ پھر سے ایک ہو جائیں۔

اس عمل سے ان کی ازدواجی زندگی تومتاثرہوتی ہے مگر پھر بھی ان میں طلاق کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہمارے مشرقی معاشرے میں سمجھوتے پر زور دیا جاتا ہے۔ اور سمجھوتا کرنے پر شادی شدہ زندکی بچنے کے بہت چانسز ہوتے ہیں۔ بیگم نے مجھے ایک قصہ سنایا کہ ایک بندہ اپنی بیوی کو بہت مارتا تھا۔ شراب نوشی کے ساتھ ساتھ شکی مزاج بھی تھا۔ بیوی اگر آنکھوں میں سرمہ لگا لیتی تو وہ سخت مشتعل ہو جاتا کہ تْو نے یہ سرمہ کس کو دکھانے کے لئے لگایاہے۔

مگر وہ وفا کی دیوی جوشوہر سے بہت پیار کرتی تھی۔ اس کی زبان سے کبھی کوئی شکایت نہ نکلی۔ ان کی ایک خوبصورت بیٹی بھی تھی۔ کچھ عرصہ بعد اس اللہ کے بندے نے اپنی ایک بیوہ کزن کے ساتھ دوسری شادی کر لی۔ دوسری بیوی بیٹے کی پیدائش کے فوراً بعد ہی انتقال کر گئی۔ ان کی پہلی بیوی نے اپنی سوکن کے بیٹے کی پرورش اس طرح کی جیسے اس کا اپنا سگا بیٹا ہو۔ اس سب کچھ کے باوجود اس نے نہایت وفاداری سے زندگی گزار دی۔ اب دونوں میاں اس جہاں فانی سے کوچ کر چکے ہیں اور ان کے بچے بھی اپنے اپنے گھروں کے ہوچکے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ انہوں نے نکاح کے وقت کلامِ مقدس پر ہاتھ رکھکرعہدکیا تھا کہ وہ ہر سکھ دکھ میں ایک دوسرے کا ساتھ نبھائیں گے۔ والدین اپنی بچیوں کونصیحت کرتے تھے کہ بیٹی سسرال میں اپنے ماں باپ کی لاج رکھنا۔ جس گھر میں تیرا ڈولا جائے اسی گھر سے تیرا جناز ہ بھی نکلے۔ اور بیٹیاں بھی رخصتی کے نازک وقت کی اس نصیحت کو پلے باندھ لیتی تھیں۔ پرانے دور کے عہد بڑے کام کے تھے۔ آج لوگوں میں برداشت کا مادہ بہت کم ہو گیا ہے۔

لیکن پرانے دور کے ان عہد و پیماں کو دہرانے کی اشد ضرورت ہے۔ میاں بیوی کو یاد رکھنا چاہیے کہ انہوں نے خدا کے حضور بہت لوگوں کی موجودگی میں تمام زندگی ایک دوسرے کے وفا دار رہنے کا عہد باندھا ہوا ہے۔ اور خدا کی حضوری میں باندھا ہوا عہد اتنا کچا نہیں کہ عدالتوں میں جا کر ٹوٹ جائے۔ مسیحیوں میں طلاق کی شرح میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ والدین کی بیجا چھوٹ، مذہبی لیڈر شپ کی ذمہ داریو ں سے غفلت، سماج سدھا رتنظیموں کا خاتمہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی بیجا مداخلت ہے۔

جو طلاق کے مسئلے کوہوا دے ر ہے ہیں۔ اپنے مذہب سے دوری بھی ایک بڑا سبب ہے۔ ایشین ممالک میں پڑوسی مذہب کے اثرات اور بیک گراؤنڈ بھی ہیں۔ ہمیں ترقی یافتہ ممالک برطانیہ، امریکہ، یورپ یا دیگر ممالک کی تقلید ہرگز نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ان ممالک میں انسانی حقوق کا بول بالا تو ہے مگر مذہب سیکنڈری حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بدی میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اور ان ممالک میں گے میرج، بغیر شادی کے میاں بیوی کی طرح اکٹھے رہنا اور بچے پیدا کرنا جرم نہیں۔

یہاں سنگل ماں اور اس کے بچوں کو حکومت مالی سپورٹ کرتی ہے۔ ہمارے مطابق مذہب انسانی حقوق، امن اور پیار و محبت کا محور اور ضابطہ حیات ہے۔ مسیحی مذہب ازدواجی زندگی، بچوں، میاں، بیوی، ماں باپ کے حقوق و فرائض کا تعین کرتا ہے۔ جو ایک فلاحی معاشرے اور سماج کی بنیادی اکائی ہے۔ یہ بات سب پر عیاں ہے کہ خاندان کی بگاڑ سے یا بروکن فیملی کے بچے معاشرے میں بہت کم فٹ ہوپاتے ہیں۔ کلام الہی کے مطابق ایک خاندان کو انسان کے بنائے ہوئے قانون کے ذریعے توڑا نہیں جاسکتا۔

طلاق کی بحث کا سلسلہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ طلاق کے قانون میں وہ تمام تبدیلیاں جو مذہبی نقطہ نظر کے مطابق نہیں ہیں، انہیں بدلنے میں کوئی حرج نہیں۔ مجھے یاد ہے ہماری شادی کو 31 برس گزر چکے ہیں لیکن آج بھی ایسا لگتا ہے جیسے کل کی بات ہو۔ خدا کا شکر ہے۔ اس میں ہم دونوں کا کمال ہے یا خدا کی نظر کرم۔ ہم روایتی قسم کے میاں بیوی ہیں۔ اور شکر ہے، ہمارے مذہب میں کہنے سے طلاق نہیں ہوتی بلکہ سرے سے ہوتی ہی نہیں۔ میں کئی دفعہ مذاق سے اپنی بیگم کو طلاق طلاق طلاق کہہ چکا ہوں مگروہ ہر بار مسکراتے ہوئے کہتی ہے کہ چاہے ستر بار بھی کہہ دیں توبھی ہماری طلاق ہونے والی نہیں۔ میں تو آپ سے بندھ چکی ہوں اب تو مر کر ہی جان چھوٹے گی۔ وہ سچ ہی کہتی ہے والدین کی تربیت، اپنے خدا سے جڑے رہنا اورایک دوسرے کو سمجھنا ہی ازدواجی کی زندگی کی کنجی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •