عمران خان عوامی وزیر اعظم کیوں نہ بن پائے؟ سوال مشکل بھی ہے اور آسان بھی ہے۔ غریب عوام جو پاکستان کی کل آبادی کا 70 فی صد ہیں۔ کل جو مڈل کلاس تھے، آج وہ بھی ریورس گیئر میں ہیں۔ جواب ہاں یا ناں جاننے کے لئے ہمیں عمران خان کی سیاسی جد و جہد، حکومت بننے سے پہلے اور بعد کا ایک طائرانہ جائزہ لینا ہو گا۔ جہاں سوائے صادق و امین، کرپشن سے پاک نیا پاکستان، چور سپاہی کے کھیل کے خاتمے کے دعووں یا مسلم لیگ پر سیاسی پابندی لگانے اور پیپلز پارٹی کو کچلنے کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔
حکومت کے ڈھائی سال گزر چکے ہیں۔ تا حال عمران خان کیے گئے وعدوں میں سے ایک بھی وعدہ پورا نہیں کر پائے۔ بلکہ عوامی مسائل میں بے بہا اضافہ ہوا ہے۔ پچاس لاکھ نئے گھر بنانے، ایک کروڑ ملازمتیں دینے کا وعدے تا حال پورا نہ ہو سکا۔ آئی ایم ایف سے قرض نہ لینے کا عزم، غلط منصوبہ بندی اور سیاسی کشمکش کی نظر ہو گئے۔ کرکٹ کا میدان ہو یا حکومت، کامیابی کا انحصار بہترین ٹیم پر ہوتا ہے۔ ملک میں جرائم میں اضافہ، افراتفری اور بے روز گاری میں اضافہ، مہنگائی میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے کرایہ دار افراد بھی بے گھر ہو چکے ہیں۔
Read more