انسانی حقوق کے علمبردار

اٹلی سے ہمارے دوست سرور بھٹی صاحب اکثر لکھتے ہیں کہ یہ قوم ٹرک کی لائٹوں کے پیچھے بھاگنے کی عادی ہے۔ یعنی سب بھیڑ چال ہے۔ جس کا اپنا کوئی موقف ہے نہ نظریہ۔ بغیر سوچے سمجھے روبوٹ کی طرح عوام حکومتی نوٹنکی ٹرک کی لائٹوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ اور پھرجب دھوکہ ہو جاتا ہے تو کہتے ہیں ”ترے وعدے پہ اعتبار کیا“۔ یہ عوام آخرکب تک بیوقوف بنتے رہیں گے۔ پنجابی بھائیوں سے معذرت کے ساتھ، ایک سردار جی جنہوں نے نئی نئی موٹر سائیکل چلانا سیکھی تھی اپنے دوستوں پر رعب جمانے کے لئے انہیں مختلف کرتب دکھاتے تھے۔ ایک رات سڑک پر دو موٹر سائیکلوں کی لائٹیں دیکھیں جو برابر چلتی آ رہی تھیں۔ پیچھے بیٹھے دوست سے کہنے لگے کہ یہ سامنے سے جو دوموٹر سائیکلیں آرہی ہیں۔ میں تمہیں ان کے درمیان میں سے موٹر سائیکل نکال کر دکھاتا ہوں۔ جونہی ان کی موٹر سائیکل درمیان میں گئی، ایک زوردار دھماکے کی آواز آئی۔ سردار جی دوست سمیت سڑک کے کنارے جا گرے اور انہیں چوٹیں بھی آئیں۔

Read more

مدینہ کی پاکستانی ریاست اور حیوانی جبلتیں

مدینے کی ریاست کی خواہش کرنا کوئی انہونی بات نہیں۔ مگر اس زوال پذیرمعاشرے کا بھی عمومی جائزہ لینا ا اور مہذب معاشرے کی تشکیل کے لئے بنیادی اکائیوں کی تدبیر کرنے اور اس کا عملی مظاہرہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ توہی مدینہ کی ریاست کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔ مگرحکومت نے سارا زورکرپشن کے خاتمے پر لگا دیا ہے۔ اس میں بھی خود کوغیر جانبدار ہونے کا تاثر نہیں دیا۔ ساتھ ہی نیب بھی ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ ضمانتیں ہونے لگیں، حکومتی وزراء پر ہاتھ نہ ڈالنے سے گریز کرنا، نیب سے عزت بچانے کی خاطر ایک ریٹائرڈ بریگیڈئیر اسد مینرنے خود کشی کوترجیح دینا بہتر سمجھا۔

Read more