کیا نواز شریف سول بالادستی کی جنگ جیت پائیں گے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ان دنوں ایک مرتبہ پھر ڈیل اور ڈھیل کی خبریں زوروں پر ہیں۔ نواز شریف کے مخالفین ان پر حکومت سے بارہ ارب ڈالرز کے بدلے بیرون ملک روانگی کا پروانہ حاصل کرنے کی مصدقہ اور مستند خبروں پر مصر ہیں۔ دوسری طرف نواز شریف کے حامی مسلسل کہہ رہے ہیں کہ اب کی بار ڈیل کی حاجت نواز شریف کو نہیں بلکہ لاڈلوں اوران کی کٹھ پتلی حکومت کو ہے۔ جج ارشد ملک کی ویڈیوز آنے کے بعد نواز فیملی اور سابق حکمران جماعت کے خلاف رچائے گئے احتساب ڈرامے کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہو گئی ہے۔

پتہ پتہ بوٹا بوٹا تو پہلے ہی اس احتساب کو بدترین انتقام سمجھتا تھا ویڈیوز کے آنے کے بعد ”گل“ بھی احتساب کی حقیقت جان گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ مارکیٹ میں کچھ اور ویڈیوز بھی موجود ہیں جو مذکورہ ویڈیوز سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض نامی گرامی دفاعی تجزیہ نگاربھی باقی ویڈیوز آنے سے قبل نواز شریف سے ہر قیمت پر ڈیل کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے شنید ہے کہ بہت سے ”پردہ نشین“ بھی رات کی تاریکی میں برقع پہن کر اور ایمبولینس پر بیٹھ کر نواز شریف سے ملنے کوٹ لکھپت جیل جاتے ہیں۔

قانون مکافات عمل حرکت میں آ چکا ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ جن لوگوں نے مولانا عبدالعزیز صاحب کو دو ہزار سات میں برقعے کے پردے میں سر عام رسوا کیا تھا، آج خود وہی برقع پہن کر نواز شریف کے ترلے کر رہے ہیں۔ بظاہر یوں لگ رہا ہے کہ نواز شریف اور ن لیگ کا مشکل ترین دور ختم ہونے والا ہے اور حالات کا پانسہ بتدریج ان کے حق میں پلٹ رہا ہے۔ جج ارشد ملک کی ویڈیوز بنانے والوں کو ایف آئی اے کی ٹیم نے بے گناہ قرار دے دیا ہے۔

رانا ثنا اللہ کے داماد کی ضمانت ہو چکی۔ رانا صاحب بھی اگلی پیشی پر باہر ہوں گے۔ ادھر مریم نواز، شاہد خاقان عباسی، خواجہ برادران، مفتاح اسمٰعیل، حمزہ شہباز وغیرہ پر ادارے اپنا پورا زور لگانے کے باوجود معمولی کرپشن یا غبن ثابت نہیں کر سکے ہیں۔ یہ لوگ اپنی بے گناہی کے باوجود پس دیوار زنداں پامردی اور ثابت قدمی کے پہاڑ بنے ہوئے ہیں۔ معیشت کی زبوں حالی، امن و امان کا مسئلہ، مسئلہ کشمیر کے حوالے سے خارجہ محاذ پر ملنے والی ناکامیاں، بیروزگاری اور مہنگائی کا طوفان، سی پیک منصوبے پر کام کی بندش، احتساب کے نام پراپوزیشن کے خلاف انتقام کا سلسلہ، مولانا فضل الرحمٰن کی طرف سے اکتوبر میں اسلام آباد کو لاک ڈاٶن کرنے کا اٹل فیصلہ اور مسلم لیگ ن کی اس احتجاج میں بھرپور شمولیت اور دیگر سلگتے ہوئے مسائل موجودہ حکومت اوراس کے سرپرستوں کے اوسان خطا کر چکے ہیں۔ با خبر ذرائع کے مطابق عمران خان خلاف معمول تاخیر سے وزیر اعظم ہاٶس جاتے اور کام نمٹائے بغیر جلد واپس آ جاتے ہیں۔ ادھر مقتدر حلقوں کے حوالے سے بھی بہت پریشان کن خبریں آ رہی ہیں۔ جنرل باوجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے فیصلہ پر بھی ایک بڑا یو ٹرن متوقع ہے۔

سرپرستوں کا خیال تھا کہ نواز شریف جس ناز و نعم سے پروان چڑھا اور جس پر آسائش طرز حیات کا عادی بن چکا ہے، سخت وقت آنے پر فوراً پہلے کی طرح سامان تعیش سمیت ہماری شرائط پر ڈیل کر کے بیرون ملک چلا جائے گا اور ہم بڑے آرام سے لاڈلے کو پانچ نہیں دس سال پورے کروا لیں گے۔ مگر سرپرستوں کی سب تدبیریں الٹی ہو رہی ہیں۔ ایک واجبی سی عقل رکھنے والا آدمی بھی اچھی طرح سمجھتا ہے کہ اگر نواز شریف نے ڈیل ہی کرنا ہوتی تو وہ اس وقت کرلیتے جب انہیں استعفے یا بد ترین انجام کے لیے تیار رہنے کی دھمکی دی گئی تھی۔

اس وقت ان کی اہلیہ بھی زندہ تھیں۔ ان پر اور ان کے خاندان پر کیسز بھی نہیں بنے تھے۔ سیاسی ساکھ بھی باقی تھی۔ میڈیا کو بھی ابھی ان پر نہیں چھوڑا گیا تھا۔ سی پیک کو بھی نہ چھیڑنے کا عندیہ دیا گیا تھا۔ ان کی تین تین نسلوں کے مقدمات کی صورت میں گڑے مردے اکھاڑنے کا فساد بھی برپا نہیں ہوا تھا۔ پانامہ کا ہنگامہ دھرنوں سے ہوتا ہوا پارلیمینٹ اور سپریم کورٹ نہیں پہنچا تھا۔ سپریم کورٹ کا مخصوص بینچ ان کے خلاف ہر جمعے کو ”مثالی اور فوری“ انصاف بھی نہیں کر رہا تھا۔

نقارچیوں اور طبلچیوں نے چور ڈاکو کی صدائیں بھی اتنی شدت سے بلند نہیں کی تھیں۔ جاتی عمرا پر چڑھائی بھی نہیں کی گئی تھی۔ ان کی پارٹی کے مرکزی قائدین کے خلاف بھی نا اہلی کے عدالتی فیصلے نہیں آ رہے تھے۔ جب اس وقت میاں صاحب نے ڈیل نہ کر کے عزیمت کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تو اب اقتدار و اہلیہ سمیت ہر چیز کے چھن جانے کے بعد صرف جیل کی مشکل زندگی سے جان چھڑا کر پر آسائش زندگی گزارنے کی خاطر ڈیل کرنے کی تُک بظاہر سمجھ سے بالا ہے۔

حکومتی ترجمان مسلسل بارہ ارب ڈالرز کے عوض ڈیل کا راگ الاپ رہے ہیں۔ ویسے ہماری ریاست کے ماں جیسا ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مگر کیا کوئی اسلامی جمہوری اور مدینہ کے نظام کی داعی ریاست اس قدر سفاک، زہرناک اور پرلے درجے کی احمق بھی ہو سکتی ہے جو سابق وزیر اعظم، صدر اور ان کی پارٹی کے خوشحال عہدیداروں کو جیل میں ڈال کر ان سے پیسہ نکلوانے اور ڈیل کرنے پر اس طرح مجبور کرے؟ یہ ریاست ہے یا پیشہ ور قزاقوں اور ڈاکوٶں کا تربیت یافتہ گروہ جو لوگوں کو یرغمال بنا کر تاوان طلب کر رہا ہے؟

حکومت کی جھنجلاہٹ، سرپرستوں کی گھبراہٹ، پردہ نشینوں کی تلملاہٹ اور لاڈلے کی اکتاہٹ اپنی جگہ مگر فی الحال تو یہی دکھائی دے رہا ہے کہ نواز شریف عصر کے وقت روزہ نہیں توڑیں گے۔ وہ حقیقی موت تو قبول کر لیں گے مگر سیاسی موت کبھی قبول نہیں کریں گے۔ وہ اپنی زندگی کی مشکل ترین جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ سول بالادستی اور آئین و قانون کی پاسداری کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ ووٹ کے تقدس اور جمہوریت کے تسلسل و استحکام کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ وہ چو مکھی لڑ رہے ہیں۔ اگر نواز شریف ڈھائی سے تین سال کی مدت میں سخت ترین آزمائشوں سے گزر کر سول بالا دستی کی جنگ جیتنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بھٹو کی طرح امر ہو جائیں گے۔ نواز شریف ووٹ کے تقدس کی خاطر لڑی جانے والی یہ خطرناک جنگ تقریباً جیتنے والے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •