عبدالقادر اور ہمارا بچپن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن کا زمانہ کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے۔ اس دور کی یادیں انمٹ سیاہی کی طرح زندگی سے پیوستہ رہتی ہیں اور ان ہی یادوں کے کسی کردار کا ذکر آتا ہے تو انسان بے اختیار اس شاہانہ دور کی حسین یادوں میں کھوجاتا ہے اور ایک عجیب سی بے چینی دل و دماغ میں سرائیت کرجاتی ہے۔ میں نے جب واٹس ایپ پر پاکستانی کرکٹر آل راونڈر عبدالقادر کی وفات کی خبر پڑھی تو یکلخت دماغ کے پردہ اسکرین پر عبدالقادر کی گگلیوں اور چھکوں کی یادیں فلم کی مانند چلنے لگیں۔

ان دنوں ہمیں ٹی وی کی سہولت دستیاب نہ تھی اس لیے کرکٹ سے عشق ریڈیو کمینٹری سن کر نبھاتے تھے۔ ہم لوگ چند دوست ایک جگہ بیٹھ کر میچ کمینٹری سنا کرتے تھے اور اس پر بے لاگ ماہرانہ تبصرے بھی کیا کرتے۔ اسکول کی حاضری بھی اکثر اس کی بھینٹ چڑھ جاتی تھی۔ عبدالقادر میرا پسندیدہ کرکٹر ہوا کرتا تھا۔ جب کوئی بیٹسمین پاکستان کے خلاف زیادہ رنز کرتا اور آوُٹ نہ ہوتا تو میری رائے یہی ہوتی کہ اب عبدالقادر کو باولنگ دی جائے گی اور وہ اس بیٹسمین کو آوٹ کرے گا اکثر میری پیشنگوئی درست ہوتی اور میں خوشی سے اچھلتے ہوئے گگلی ماسٹر کے حق میں نعرے لگانے لگ جاتا۔

تاہم بعض اوقات اس کے برعکس بھی ہوتا۔ ان دنوں ون ڈے پر ٹیسٹ کرکٹ کو خاص فوقیت حاصل تھی شاید یہی وجہ تھی کہ ون ڈے میچ میں بھی آج کل کی طرح جارحانہ بیٹنگ نہیں ہوا کرتی تھی ’اور ٹیسٹ میچ جیسی سست روی غالب ہوا کرتی تھی۔ لیکن عبدالقادر جیسے چند ایک کھلاڑی اس دور میں موجود تھے جو اپنی جارحانہ بیٹنگ سے تماشائیوں کو محظوظ کرتے اور روایتی سست مزاجی کو کافور کرکے گراونڈ میں اور گراونڈ سے باہر جوش و ہیجان برپا کرتے تھے۔

میری یہی خواہش ہوتی کہ اللہ کرے میچ پھنس جائے اس وقت عبدالقادر بیٹنگ پر آئے اور اپنے چھکوں کی مدد سے پاکستان کو میچ جتوائے۔ کئی مواقع پر عبدالقادر نے ہارے ہوئے میچ جتوائے۔ ویسے بھی میں تو ہر جیتے ہوئے میچ کا کریڈٹ عبدالقادر کو ہی دیتا تھا چاہے اس میچ میں اس نے ایک ہی وکٹ یا چند ایک رنز ہی کیوں نہ بنائے ہوں۔ اکثر اپنے اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو جیت کا کریڈٹ دیتے ہوئے ہم دوست آپس میں بحث و مباحثہ کرتے۔ عبدالقادر اپنے کیریر میں اسکینڈلز سے دور رہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کا کردار کرکٹ کے حلقوں میں سچے اور کھرے انسان کے طور جانا جاتا تھا۔ اللہ پاک ہمارے قومی ہیرو کی مغفرت فرمائے۔ آمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
نذیر احمد رونجھا کی دیگر تحریریں
نذیر احمد رونجھا کی دیگر تحریریں