تھانوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برطانیہ میں پولیس اسٹیشن میں پولیس افسران سمیت ہر آنے والے شخص پر موبائل فون کے استعمال کی ممانعت ہے۔

لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی ہر پولیس افسر کی چھاتی پر کیمرہ لگا ہوتا ہے اور پولیس اسٹیشن میں جگہ جگہ سی سی ٹی وی لگا ہوتا ہے۔ ہر ملزم کو تفتیش اپنے وکیل کی موجودگی میں کروانے کا حق حاصل ہوتا ہے اور تفتیش کی مکمل آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ ہوتی ہے تاکہ کسی قسم کے تشدد یا دباؤ کا اندیشہ نہ رہے۔ اسی لئے پولیس کو دی جانے والا بیان عدالت کے سامنے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ پولیس تفتیش کے دوران سوالات کرتی ہے اور ملزم اگر کوئی جواب نہ دینا چاہے تو No Comment کہہ کر تفتیش مکمل کروا سکتا ہے۔

پولیس کی ذمہ داری ملزم کے بیان کو ریکارڈ کرنے اور آزادانہ تحقیق کرنے سے زیادہ کچھ نہیں۔ پولیس کا کام اقبال جرم کروانا یا مار پیٹ کر کے کچھ منوانا نہیں ہوتا۔

مجرم مجرم ہی ہوتے ہیں چاہے کسی بھی ملک میں ہوں اور وہ ہمیشہ قانون اور سزا سے بچنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ برطانیہ میں ایک طرف حکومت ضروری وسائل مہیا کرتی ہے اور دوسری طرف پولیس اور عدلیہ ایمانداری سے اپنا کام کرتی ہے اسی لئے عوام اداروں پر اعتماد کرتی ہے۔

آئی جی پنجاب کے تھانوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی کے حکم پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے لیکن بات یہاں ختم نہیں ہونی چاہیے۔ آئی جی صاحب کو چاہیے کہ حکومت سے مل کر تھانوں میں سی سی ٹی وی لگائیں۔ پولیس افسر کے پاس ریکارڈنگ کیمرہ ہوں اور تفتیش کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ ہو۔ ملزم کو تفتیش کے دوران وکیل کی موجودگی کا حق دیا جائے۔ کسی بھی الزام کو قبول کرنے کے لئے تشدد کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ پھر جا کر عوام کا پولیس پر اعتماد بحال ہو گا۔

حکومت کو پولیس کو وہ تمام وسائل مہیا کرنے چاہیے جن کا استعمال کر کے پولیس جدید طریقوں سے تحقیقات کر سکے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچا سکے۔

بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ انصاف کرنے والا ادارہ یعنی عدالتیں انصاف کے مراحل میں سب سے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ بہترین سے بہترین پولیس کیس اور تحقیق ناکام ہو جاتی ہے جب عدالتی نظام تاخیر اور بدعنوانی کا شکار ہو۔ عدالتوں میں ججز کی کمی، سفارشی ججز کی بھرتیوں، کیسز کی بھر مار، وکلاء کا رویہ، سیاسی مداخلت اور جھوٹی مقدمہ بازی نے انصاف کو ایک خواب بنا دیا ہے۔

پاکستان میں انصاف کسی ایک خاص ادارے کے ٹھیک ہونے سے ٹھیک نہیں ہو گا بلکہ حکومت سمیت سارے اداروں کو قبلہ درست کرنا پڑے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شیراز خالد کی دیگر تحریریں
شیراز خالد کی دیگر تحریریں