میرے ہاتھوں میں موت آئی


\"khawarگلے وقتوں کی بات ہے ایک حکیم صاحب ہوا کرتے تھے۔ دنیا میں ان کی حکمت کا شہرہ تھا۔ خدا کا خاص کرم تھا ان پر۔ نبض پر ہاتھ رکھتے ہی بتا دیا کرتے تھے کہ مریض بچ جائے گا یا نہیں۔ اندر کی بات یہ تھی کہ حکیم صاحب کو منجانب اللہ یہ عطا تھی کہ جب وہ نبض پر ہاتھ رکھتے تھے تو ان کو جناب عزرائیل علیہ السلام نظر آنے لگتے تھے۔ اگر وہ مریض کے پاوں کی طرف ظہور فرماتے تو اس کا مطلب ہوتا کہ ابھی زندگی باقی ہے۔ حکیم صاحب کوئ دوا تجویز کر کے لواحقین کو تسلی دے کر اپنی راہ لیتے۔ لیکن اگر فرشتہ اجل کا ظہور مریض کے سرہانے کی جانب ہو جاتا تو اس کا مطلب یہ کہ بس اب وقت پورا ہو چکا۔ علاج ناممکن قرار دے کر حکیم صاحب رخصت ہو جاتے اور چند دن بعد مریض بھی۔ پھر ایک دن حکیم صاحب خود بیمار پڑ گئے۔ رات کے کسی پہر آنکھ کھلی تو دیکھا جناب عزرائیل سرہانے کی طرف مکمل جاہ وجلال کے ساتھ موجود ہیں۔ یہ دیکھتے ہی نیند کافور ہوئی اور حکیم صاحب نے جلدی سے پائینتی کی طرف سر کر لیا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ حکم خدا پھر سرہانے موجود ہے۔ گھبرا کر پھر سے وہی عمل دہرایا اور پھر وہی ہوا۔ ہر مرتبہ فرشتہ اجل کو سرہانے پایا۔ گھر والوں کی آنکھ کھل گئی۔ سوچنے لگے شاید بخار سر پر چڑھ گیا ہے۔ آپس میں صلاح مشورہ کیا اور حکیم صاحب کو بستر سے باندھ دیا۔ وقت نزع آ گیا۔ کہنے لگے تم سب نے مجھے باندھ کر مروا دیا، کلمہ کا ورد کیا اور گزر گئے۔

اکثر لوگ اپنے گھر والوں سے یہی بات اپنی شادی کے موقع پر بھی کہتے ہیں کہ تم سب نے باندھ کر مروا دیا۔ خیر یہ تو مذاق کی بات تھی (زندگی کے ساتھ) لیکن یہ حقیقت ہے کہ موت سے فرار نا ممکن ہے۔ کوئ شاہ ہو یا گدا۔ موت برحق ہے۔ اب یہ فیصلہ خدا کا ہے کہ آپ کا وقت پورا کہاں ہونا ہے۔ شہر میں یا جنگل میں، کرسی پر یا بستر میں، زمین پر یا زمین و آسماں کے درمیاں۔ جی ہاں یہ انتخاب آپ کے پاس نہیں۔

برمنگھم سے اسلام آباد کی پرواز پر ایک بوڑھے باباجی اپنے چار بیٹوں کے ساتھ تشریف لائے۔ طبیعت ناساز تھی لیکن چل پھر رہے تھے۔ اسلام آباد اترنے سے دو گھنٹے پہلے اچانک ان کی حالت بگڑنا شروع ہو گئ۔ ڈاکٹر کے لیے اعلان کیا تو چار پانچ لوگ کھڑے ہو گئے۔ سب نے کوشش کی لیکن طبیعت سنبھلنے میں نہ آئی۔ نبض ڈوبتی جا رہی تھی۔ آخر تمام ڈاکٹر صاحبان نے باباجی کے بیٹوں کو متفقہ مشورہ دیا کہ وقت کم رہ گیا ہے آپ دعا کریں۔ ہم لوگوں سے جو ہو سکا وہ کیا۔ یہاں تک کہ جہاز کو فوری طور پر اتارنے کی آپشن بھی موجود تھی لیکن اس وقت ڈاکٹر صاحبان کو کچھ امید تھی۔ چار نشستیں خالی کر کے بابا جی کو لٹا دیا۔ بوڑھا نحیف باپ اور اس کے چار جوان بیٹے۔ آنکھوں سے ان سب کی آنسو جاری تھے۔ دو نے ہاتھ پکڑ رکھے تھے دو پاوں دبا رہے تھے اور چاروں کلمہ کا ورد کر رہے تھے۔ ان کا باپ پتھرائی ہوئی آنکھوں سے چاروں کو دیکھ رہا تھا۔ ہمت نہیں تھی ورنہ شاید آخری مرتبہ چاروں کا ماتھا چوم لیتا۔ جانے کس کی دعا قبول ہوئی کہ پھر معجزہ ہو گیا۔ باباجی کی سانسیں بحال ہونا شروع ہو گئیں۔ طبعیت میں بہتری آنا شروع ہو گئی۔ جہاز اسلام آباد کے لیئے اترنا شروع ہو چکا تھا۔ زمینی عملے کو دوبارہ صورتحال سے آگاہ کیا گیا اور جہاز اترتے ہی ان کو ایمبیولینس کے ذریعہ اسپتال روانہ کر دیا گیا۔ ان کا وقت ابھی پورا نہیں ہوا تھا۔ ہم سب خوش ہوئے اور حیران بھی۔ موت کا وقت معین ہے، اس بات پر ایمان اور پختہ ہو گیا اور کچھ عرصہ بعد ایک عملی مظاہرہ بھی۔

لاہور سے مانچسٹر کی پرواز تھی جو آگے نیویارک تک جاتی ہے۔ سب معمول کے مطابق تھا۔ بہت اچھا عملہ موجود تھا۔ دو چار دوست بھی تھے۔ دو بوڑھے میاں بیوی جو امریکا اپنے بچوں کے پاس جا رہے تھے مسافروں میں شامل تھے۔ غالبا ان کی امیگریشن ہو گئی تھی اس لیے ہمیشہ کے لیے اپنے بچوں کے ساتھ رہنے جا رہے تھے۔ خاتون بہت ہنس مکھ اور فربہ اندام تھیں جبکہ صاحب خاموش طبع تھے۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ neck breather تھے یعنی ناک کی بجائے گردن سے سانس لیتے تھے۔ اس کو میڈیکل سائنس میں لیرینجیکٹومی کہتے ہیں۔ میں جہاز کے درجہ اول میں کام کر رہا تھا۔ کسی کام سے پیچھے آیا تو وہ خاتون ٹوائلٹ جانے کے انتظار میں کھڑی تھیں اور ہماری پرسر مس لبنی کے ساتھ باتیں کر رہی تھیں۔ میں پلٹ کر واپس جانے لگا۔ دو قدم ہی آگے گیا ہوں گا کہ بہت زور کی آواز آئی جیسے کچھ گرا ہو۔ واپس مڑا تو دیکھا وہی خاتون چاروں شانے چت فرش پر گری ہوئی تھیں۔ فوری طور پر ہم نے ابتدائی طبی امداد شروع کر دی۔ مس لبنی اور میں نے بہت مشکل سے ان کو کھینچ کر سیدھا کیا۔ سلمان نے سی پی آر (سانس بحال کرنے کا مصنوعی طریقہ) کا عمل شروع کر دیا۔ آپ کو بتاتا چلوں کہ موٹے اور بھاری بھرکم لوگوں کو سی پی آر دینا کوئی آسان کام نہیں۔ سلمان کے بعد ایک اور ساتھی یہی عمل دہرانے لگا۔ میں خاتون کے سر کی طرف آکسیجن کا سلینڈر لے کر بیٹھا ہوا تھا کہ جیسے ہی سانس بحال ہو میں ان کے ناک اور منہ پر رکھ دوں۔اچانک خاتون نے منہ کھولا اور تین مرتبہ ایسا کیا کہ منہ کھولتیں اور بند کرتیں۔ میں سوچنے لگا کہ شاید سانس بحال ہو رہی ہے اس لئے جلدی سے آکسیجن سلینڈر کھول کر ماسک ان کے منہ پر رکھنے لگا۔ اسی اثنا میں ڈاکٹر کے لیے بھی اعلان ہو چکا تھا۔ ایک خاتون ڈاکٹر آئیں اور گردن پر ہاتھ رکھ کر ان کی نبض چیک کرنے لگیں۔ انھوں نے کہا آپ بے کار کوشش کر رہے ہیں شی از نو مور۔ میں بے یقینی سے ان کی شکل دیکھنے لگا کہ ابھی تو انھوں نے سانس لینے کو منہ کھولا تھا تو ایک دم ختم کیسے ہو گئیں۔ وہ ڈاکٹر تو چلی گئی، اس کے لیئے تو یہ عام بات ہو گی۔ میں کیا کروں؟ ایک ہاتھ میں آکسیجن ماسک تھا میرے اور دوسرے میں اس عورت کا سر۔ مجھے اس وقت احساس ہوا کہ ان کے منہ کا کھلنا دراصل وہ آخری ہچکی تھی۔ ایک عرصہ سے سنتے اور پڑھتے آئے تھے کہ وہ میرے ہاتھوں میں مر گیا یا یہ کہ میرے ہاتھوں میں اس کی جان نکل گئی۔ حقیقت میں اس کیفیت کا ادراک اس دن ہوا۔ ستم اس غریب کے شوہر پر کہ وہ یہ سب اپنے سامنے ہوتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ آنکھوں سے تو آنسو جاری تھے ہی لیکن وہ تو دھاڑیں مار کر چیخ بھی نہیں سکتا تھا۔ ایسے لوگوں کی آواز بھی صحیح طریقے سے نہیں نکلتی۔ مس لبنی اور میں نے ان خاتون کے جسم کو ڈھانپا۔ ہاتھ اور پاوں باندھے۔ اپنا اپنا رونا ضبط کیا۔ جہاز اترنے کے بعد ان کو زمینی عملے کے حوالے کیا۔ ہوٹل کے کمرے میں پہنچ کر غسل مس میت کیا۔ نماز پڑھی اور پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔

 

Facebook Comments HS

خاور جمال

خاور جمال 15 سال فضائی میزبانی سے منسلک رہنے کے بعد ایک اردو سوانح ”ہوائی روزی“ کے مصنف ہیں۔ اب زمین پر اوقات سوسائٹی میں فکشن کے ساتھ رہتے ہیں۔ بہترین انگریزی فلموں، سیزن اور کتابوں کا نشہ کرتے ہیں۔

khawar-jamal has 54 posts and counting.See all posts by khawar-jamal

One thought on “میرے ہاتھوں میں موت آئی

  • 03/10/2016 at 11:41 شام
    Permalink

    Aaaaah !!!!khawar kya waqeya yaad kerwa diya jo kabhi bhoolta hi nahin…
    Main un khatoon k ghar un k janaza main bhi gayi thi…
    Bsss Allah Pak un k darjaat buland fermaye.. Ameen

Comments are closed.