اپنا سامان چھوڑ دیں
دروازے کی طرف آئیں
جہاز سے باہر نکلیں
جہاز سے نکل کر دور چلے جائیں
یہ وہ سارے جملے تھے جو میں اپنے ذہن میں اس وقت دہرا رہا تھا جب جہاز نقطہ پرواز پر پہنچ کر پوری قوت سے رکنا شروع ہو گیا۔ جہاز کا انجن نمبر 1 کسی غریب پرندے کا قیمہ بنانے میں مصروف عمل تھا اور جہاز کے تین ٹائر اسے روکنے کی کوشش میں جان ہار چکے تھے۔ ہنگامی حالات سے بچ نکلنے اور مسافروں کو ان سے نکالنے کی ساری تربیت دماغ میں گھومنے لگی اور اچھا خاصا چکرا گئی۔ ایک کونے سے یہ آواز بھی آئی کہ بیٹا آج تو لگ پتہ جائے گا۔
اگر یہ کوئی فلم ہوتی تو دس پندرہ فٹ دور سے کیمرہ تیزی سے حرکت کرتا ہوا سیدھا میری پھٹی ہوئی۔ آنکھوں کا کلوز اپ لیتا اور پھر میرے وحشیانہ صوتی اثرات کو فلم بند کرتا یعنی وہ کمانڈ جو اس حالت میں مسافروں کو دی جاتی ہے کہ ”آگے کی طرف جھک جائیں، آگے کی طرف جھک جائیں“۔ میری نشست بالکل مسافروں کے منہ کے سامنے تھی یعنی کے فیسنگ پیسنجرز۔ میں اور دوسری طرف بیٹھا ہوا میرا ساتھی پوری قوت سے چلا رہے تھے ”آگے کی طرف جھک جائیں، آگے کی طرف جھک جائیں“۔
Read more