پاکستانی ہم جنس پرست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی اپنے ملک سے بے پناہ پیار کرتے ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ خود پاکستان سے باہر ہوں۔ ملک کے اندر کھل کر ہر پاکستانی جی بھر کر سارا دن اس ملک کو کوستا ہے۔ پاکستان میں سب سے بڑی کامیابی بھی پاکستان سے نکلنے اور مغربی ممالک یا امریکہ میں سیٹل ہونے کو سمجھا جاتا ہے۔ ہر صاحب ثروت کوشش کرتا ہے کہ اپنے اور اپنے بچوں کے لئے بیرون ملک کوئی ٹھکانہ بنادے۔ ہر سیاستدان، حکومت اور لوٹ مار، یہاں کرتا ہے۔ لیکن اس کی خواہش ہوتی ہے کہ برطانوی امریکی یا کم از کم یورپئین نیشنلٹی اپنے اور اپنے خاندان کے لئے حاصل کرے۔ اور یہی صورت حال ان کرتا دھرتاؤں کی بھی ہے۔ جن کا نام لیتے ہوئے ہر کوئی ڈرتا ہے لیکن جن کا نام لئے بغیر بھی اب ہر کوئی جانتا ہے۔

اس صورت حال میں عام پاکستانی بھی شدید خواہش رکھتا ہے کہ اس ملک کو کسی نہ کسی طریقے سے چھوڑ دے اور کسی ایسے ملک میں رہائش پذیر ہوجائے جہاں غریب ہونا بے عزتی نہ سمجھی جائے۔ پاکستان بننے کے بعد خال خال لوگوں کے پاس پاسپورٹ ہوا کرتے تھے اور پاکستان دہشت گردی اور جہادی غنڈہ گردی کی نرسری بھی نہیں ہوا کرتا تھا۔ اس لیے ملک سے باہر جانا اور وہاں پر سیٹل ہونا کوئی خاص مسئلہ نہیں تھا۔ پھر بھی پاکستانی بھی صابر شاکر لوگ تھے۔

دولت ابھی خدا نہیں بنی تھی۔ انسانی اچھائیاں قابل تحسین، شخصی اور خاندانی خصوصیت سمجھی جاتی تھیں۔ اس لیے اس وقت مخصوص حالات اور سمجھ کے پاکستانی، باہر ممالک میں آباد ہوئے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو آج کل کہیں پر منسٹرز ہیں، کہیں پر کامیاب بزنس مین اور کہیں پروفیشنلز، جن کو ہم پاکستانی نژاد لکھتے ہیں اور جن پر ہم فخر کرتے ہیں۔ اس دور کے بعد ہمیں مولوی ملے۔ ان کو قادیانی ملے اور قادیانیوں کو باہر جانے کا راستہ۔

اس چور راستے کے ذریعے قادیانیوں سے زیادہ وہ لوگ گئے، اور حلفاً اپنے دستاویزات اور وہاں کی عدالتوں میں اپنے اپکو قادیانی مان لیا، جو پاکستان میں قادیانیوں کے خلاف جہاد کو فرض سمجھتے ہیں۔ پھر اللہ اور سی آئی اے نے افغان جہاد کا راستہ کھول کر ہر جانے والے کو اس راستے سے ملک سے باہر جانے کا موقع دلایا۔ مغربی ممالک اور عوام ہمارے بارے میں اتنا نہیں جانتے تھے۔ خود سچے تھے اس لیے ہمیں بھی اپنے جیسا سچا مانا۔

اس لیے گجرات اورسیالکوٹ کے پنجابیوں نے بھی حلف نامے جمع کرائے کہ وہ مظلوم افغانی مہاجر ہیں۔ اور اپنا ایمان بچانے مغرب آئے ہیں۔ مغرب نے ان ”لٹے پٹے“ مہاجرین کے لئے اپنے اپنے ملک کے دروازے اور خزانے کھول دیے۔ اس کے بعد القاعدہ اور ان کے ہمدردوں نے مغرب اور امریکہ میں دھماکے کرا کر ساری دنیا میں مسلمان مہاجرین اور روزگار کے متلاشیوں کے لئے ایک ایک کرکے سارے دل اور دروازے بند کردیے، تو توہین رسالت اور مذہب کے راستے، جو کسی ہجوم کے ہاتھ نہیں چڑھا، وہ مغرب چلا گیا۔ لیکن یہ بہت خطرناک راستہ تھا اس لیے کم کو کامیابی اور زیادہ کو موت ملی۔ فیسبک کے ظہور کے بعد تعلیم یافتہ اور ٹیلنٹڈ لوگ، ملک، مذہب اور حساس اداروں کے خلاف لکھ کر ملک چھوڑنے میں کامیاب ہوئے۔

پاکستانی بڑے تخلیقی اور جگاڑی ہیں۔ آج کل اپنے آپ کو ہم جنس پرست مشہور کرکے باہر جانے کی سعی میں لگے ہوئے ہیں۔ جب کہ ایسے مسائل کے اصل شکار افراد یعنی ٹرانس جینڈر اور حقیقی ہم جنس پرست پہلے کی طرح منہ چھپا کر جیتے ہیں۔ اور پکڑے بھی جائیں تو ہم جنس پرستی کے اقرار کی بجائے ان کو خودکشی کرنا زیادہ آسان لگتا ہے۔ جب کہ دوسری طرف اچھے خاصے تعلیم یافتہ لوگ، لڑکیوں کے کپڑے پہن کر اور میک اپ کرکے دو نمبر آئی ڈیز سے اپنی تصویریں اپ لوڈ کرتے رہتے ہیں۔

اپنے پرفائل پر ”مردوں میں دلچسپی“ والے خانے عوامی رکھتے ہیں۔ ہم جنس پرستی کو کھلم کھلا سپورٹ (سوشل میڈیا پر) کرتے ہیں۔ خود کو ٹاپ اور باٹم کہلاتے ہیں۔ تاکہ برطانیہ امریکہ اور سکنڈے نیوین ممالک میں سر چھپانے کی کوئی جگہ ملے۔ تاکہ باہر رہ کر اپنے ملک سے پیار کرے۔

دوسرے مغربی، امریکی اور سیکنڈے نیوین ممالک کا ڈیٹا دستیاب نہیں۔ لیکن صرف برطانوی رپورٹ کے مطابق ایسے دو ہزار مجہول الجنس پاکستانی اس قسم کے کیس داخل کرکے، مسلسل میک اپ کرتے ہوئے فیصلے کے، انتظار میں ہیں۔ خواجہ سرا ملک بھر میں بدترین سلوک اور حالات کے شکار ہیں۔ وہ حالات کا“ مردانہ وار ”مقابلہ کرتے ہیں، ملک سے نہیں بھاگتے۔ جبکہ یہ مشکوک، ہم جنس پرست ہوکر، بھاگ رہے ہیں۔ اصلی ہم جنس پرستوں سے معذرت۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •