وفاقی حکومت کا کراچی کو سندھ سے الگ کر کے انتظامی کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کراچی کو سندھ سے الگ کر کے وفاق کے زیر انتظام لانے کا اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 149 کی شق 4 کے تحت وفاقی حکومت کو اختیارات حاصل ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ کچھ سخت فیصلے کیے جائیں کیونکہ سندھ حکومت نے گزشتہ 11 برس میں کراچی کی بہتری کیلئے کوئی کام نہیں کیا۔
نجی ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر فروغ نسیم نےکہا کہ سندھ حکومت کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ 2008 سے سندھ حکومت نےکراچی کی بربادی کی۔ مردم شماری درست نہیں ہوئی، وقت آگیا ہے کہ اب کچھ سخت فیصلے کر لیے جائیں کیونکہ گزشتہ 11 برس میں سندھ حکومت نے کراچی کی بہتری کیلئے کچھ نہیں کیا۔ سندھ حکومت نے کراچی کے لئے کبھی تعاون نہیں کیا اور ہمیشہ کراچی کو نظر انداز کیا ہے اس لیے آئندہ ان سے اس معاملے میں کسی قسم کی مشاورت نہیں کی جائے گی، گذشتہ 11 برسوں میں کراچی میں صرف کچرے اور پانی کے مسائل نے جنم لیا ہے
انہوں نے بتایا کہ ہم آئین کے اندر رہتے ہوئے کام کر رہے ہیں۔ وفاقی حکومت سندھ میں گورنر راج نہیں لگا رہی۔ گورنر راج لگائیں گے تو پھر کہیں گے کہ کیوں لگایا؟ کراچی میں آئین کے آرٹیکل 149 (4) کے نفاذ کا وقت آ گیا ہے اور ہم اسے نافذ کرنے جا رہے ہیں کیونکہ اس کے ذریعے وفاق کراچی میں اپنا کردار ادا کرسکے گا۔ یہ آرٹیکل وفاقی حکومت کو خصوصی اختیار دیتا ہے، میں خود بھی آرٹیکل 149(4) کے حق میں ہوں۔ آرٹیکل 149 کی شق 4 کے تحت وفاق شہر قائد کو اپنا زیر انتظام علاقہ قرار دے سکتا ہے۔
اب وفاقی حکومت کراچی کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے گی اور تمام مسائل حل کرے گی۔ ڈاکٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ سعید غنی میرے بھائی ہیں، ان کو مجھ سے زیادہ سیاست اور وکالت آتی ہے، ہم سندھ میں کوئی مداخلت نہیں کر رہے۔ کراچی کی حالت بہت بری ہے، انفراسٹریکچر بھی تباہ ہو چکا ہے، عوام کہہ رہے ہیں کہ کراچی سے کچرا ہی نہیں اٹھایا جا رہا، پیپلز پارٹی بتائے اس نے 11 سال میں کیا کیا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •