پنجابی مولوی کی خصوصیات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پنجاب کا مولوی ایک باشعور، غیرتمند، قوم پرست، عزت دار اور اپنی قوم کا ہمدرد انسان ہے۔  وہ اپنی قوم کو ہر وقت محفوظ اور خوشحال دیکھنے کا خواہش مند ہوتا ہے اس لیے اپنی قوم کو دوسرے ممالک اور اقوام کے ایجنڈے کے بھینٹ نہیں چڑھاتا۔ وہ اپنی قوم کو شدت پسندی اور شدت پسندوں سے بچاتا ہے۔  اپنی قوم کی اچھی اور بھرپور زندگی گزارنے کا آرزو مند ہے اس لیے اس کو زندگی سے بیزار کرکے جنت کے حور و قصور کی لالچ میں بارود بھری جیکٹ پہنا کر دوسرے مسلمانوں کو مروانے نہیں بھیجتا۔

اس نے اپنی قوم کو اپنی اصلی حالت میں رکھا ہے۔ کسی اور قوم کی نقالی کی ترغیب نہیں دیتا۔ عرب میں مقدس مقامات اور ہستیوں کے علاوہ کسی عربی کو مقدس، قابل تقلید اور حجت بتاتا ہے نہ ان سے پیسے لے کر عربیت پھیلانے اور ان کو برتر ثابت کرنے کے لیے کوشاں ہے۔  اپنی قوم کی غمی خوشیوں میں ان کے ساتھ دیتا ہے۔  حلال حرام اور جائز ناجائز کی گردان سے ان کی زندگی دوبھر نہیں بناتا۔ شادیوں میں ڈھول بجتے ہوں، لڈیاں ڈالی جاتی ہوں، مزارات پر عرس ہوں، قوالیاں ہوں اور موسمی، ثقافتی یا علاقائی میلے ان میں خود بھی شرکت کرتا ہے اور دوسروں کو بھی ترغیب دیتا ہے۔

کیونکہ پنجاب کا مولوی باشعور ہے۔ جانتا ہے کہ انٹرٹینمنٹ مثبت انسانی زندگی کا حصہ ہے۔  جس کے بغیر زندگی بے رنگ اور ذہن بنجر ہوجاتے ہیں۔  وہ دل سے مانتا ہے کہ اسلام دین فطرت ہے۔  باپ کے مرنے پر اپنے مقتدی کو رونے پر گنہگار نہیں ٹھہراتا اور بھائی کی شادی میں بھائی کو ناچنے سے نہیں روکتا۔ خود بھی کھاتا ہے اور اپنے مقتدی کو بھی کھلاتا ہے۔  اپنی قوم سے چندے جمع کرا کے دوسرے ممالک اور اقوام کو جنگ کے لئے نہیں بھیجتا اور نہ اپنی قوم کو دوسری اقوام سے لڑنے مرنے کی تبلیغ و تلقین کرتا ہے۔

پنجاب کا مولوی اللہ کے نبی کی پیدائش کا جشن مناتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کے قتل پر غمزدہ رہتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے ساتھ روا رکھے گئے ظلم سے خود کو لاتعلق اور غیرجانبدار نہیں رکھتا۔ معاشرتی اور اقتصادی زندگی میں خود بھی حصہ لیتا ہے اور اپنے پیروکاروں کو بھی بھرپور حصہ لینے کی تلقین کرتا ہے۔  صوفی محمد بن کر اپنی علاقائی خوشحالی اور سرگرمیوں کا دشمن نہیں بنتا۔ ساری مشہور مذہبی سیاسی پارٹیوں کے مراکز لاہور میں ہونے کے باوجود بھی اپنے مقتدی کو مذہبی سیاست سے دور رکھتا ہے۔

پنجاب کا مولوی سیاست، ووٹ اور مذہب و مسلک کو ہم معنی بنا کر اپنی قوم کو دھوکہ نہیں دیتا۔ ترقی خوشحالی تجارت کے لئے ہر وقت حاکم وقت کا ساتھ دیتا ہے۔  جس کی وجہ سے اس کا علاقہ اور قوم خوشحال اور تعلیم یافتہ ہے۔  کشمیر کی سرحد پر ہونے کے باوجود اپنے بچوں کو وہاں مرنے مروانے نہیں بھیجتا۔ اپنی قوم کو بستر پکڑا کر ہفتوں مہینوں اور برسوں دنیا، اقتصاد، گھر بار، غمی خوشی سے کاٹ کر شہروں شہروں ملکوں ملکوں نہیں پھراتا۔

کسی اور صوبے میں مقدس مراکز بنا کر اپنا پیسہ تجارت قوت اور وقت وہاں نہیں لگاتا بلکہ کوشش کرتا ہے کہ دوسرے لوگ اس کے علاقے میں پیسہ وقت اور انرجی لگائیں اور وہ اس سے فائدہ اٹھائے۔  اپنے بچوں کے سکولوں کو بم سے نہیں اڑاتا ہے اور نہ پولیو کے قطروں کی مخالفت کرکے اپنی نسل کو اپاہج بنانے کی کوشش میں شریک ہوتا ہے۔  کشمیر، افغانستان، اسلامی نظام، خلافت، چندے، لشکریں، خود کش حملہ اوروں کی تیاری، اپنی فوج اور پولیس پر حملے، بالکل پسند نہیں کرتا۔

پنجاب کا مولوی اپنے مسلک اور پارٹی سے بڑھ کر اپنے ملک اور قوم سے پیار کرتا ہے۔  وہ ایک سچا پاکستانی ہونے کے ساتھ ساتھ پکا مسلمان بھی ہے۔  اپنے ملک اور مسلک کے درمیان ترجیحات پر بڑا واضح موقف رکھتا ہے۔  خدائی فوجدار بن کر ملک کو سیدھا کرنے کے لئے بندوق اٹھاتا ہے نہ فتویٰ دے کر بذاتِ خود خلافت اور جہاد کا اعلان کر کے کسی اور ملک پر چڑھائی کرتا ہے۔  اس لیے امریکی جنگ میں نہ مرا نہ مارا گیا، نہ ڈرون ہوا نہ گونتونامو بے کے جیل خانے میں گیا، نہ گھر تباہ ہوا نہ اس کی مسجد جلائی گئی، نہ ملک دشمنی میں اسے یا اس کے کسی مقتدی کو ملکی ایجنسیوں نے اٹھایا۔

پنجاب کے مولوی نے پنجابی عورتوں پر سر بازار تیزاب پھینکا نہ گلی کوچوں میں برقعہ نہ پہننے پر ڈنڈے مارے، نہ کسی ہم قوم باپردہ لڑکی کو غیر مردوں کے درمیان میدان میں لٹا کر کوڑے لگائے۔  نہ اپنی قوم کو اننا بے حس اور بے غیرت بنایا کہ وہ ایسے تماشے دیکھے اور خاموش تماشائی بنے رہے۔  اس لیے اس کے بازار پررونق، اس کی قوم خوشحال، پرامن اور سلامت ہے۔  نہ خود بدلا نہ اپنی قوم کو بدلنے کی کوشش کی۔ وہ اپنی طرح اپنی قوم کو بھی مسلمان سمجھتا ہے نہ ان کو گنہگار سمجھتا ہے نہ اپنے آپ سے کمتر سمجھ اس کو مزید مسلمان بنانا چاہتا ہے۔

پنجاب کے مولوی نے اسلام کی سچی روح یعنی سلامتی کو پا لیا ہے نہ اسلام کو مظلوم اور نہ حملہ آور سمجھتا ہے۔  اپنی قوم کو ٹی وی سٹوڈیوز، ڈرامے، فلمیں، اداکار، گلوکار، موسیقی، فنکار، سینمائیں، مشاعرے، کلچرل تقریبات، میلے عرس، ثقافتی ناچ گانا، فیشن، کھیل تماشے سب جاری ہیں۔  نہ کسی کو کافر کہا۔ کسی کو کافر سمجھ کر منع کیا نہ مارا، نہ ان سرگرمیوں سے اسلام کو خطرے میں بتایا۔ آپ کے ذہن میں جھنگوی، لکھوی، مسعودی، اور حافظ جی کے نام ہڑبونگ مچائیں گے۔  لیکن وہ بھرتی کے لوگ تھے۔  پنجاب کے نمائندے نہیں تھے۔  کاش دوسری اقوام بھی پنجابیوں جیسے خوش قسمت ہوتیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •