پاکستانی گلابی نمک اور بھارتی ایکسپورٹ کا گھن چکر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یادش بخیر: گزشتہ چند ماہ سے ہمارے کچھ فیس بکی محب الوطن گلابی نمک کا چورن بیچ کر قومی حمیت کی بیچ چوراہے پھوٹنے والی ہنڈیا کو جہالت کا تڑکا لگائے جا رہے ہیں۔ سادہ اور مختصر مگر جامع بات یہ ہے کہ ہم اپنے ”لون“ کے ساتھ ساتھ ”خون“ میں بھی ”نمک حلالی“ کی تاثیر پیدا کر لیں تو دہلی کے لال قلعہ پر سبز ہلالی پرچم لہرا سکتے ہیں۔

بتایا جا رہا ہے کہ پاکستان کا گلابی نمک جسے ہمالین سالٹ کہا جاتا ہے، بہت بیش قیمت خزانہ ہے جس کی مارکیٹنگ کی جائے تو پاکستان کا شمار دنیا کے امیر ترین ممالک میں ہو سکتا ہے۔ خدائی فوج داروں کی خود ساختہ تحقیق کے مطابق پاکستان کا کل قرضہ 100 ارب ڈالر ہے جبکہ بھارت صرف نمک کی فروخت سے سالانہ 129 ارب ڈالر کما رہا ہے۔

دلچسپ مگر تشویش ناک بات تو یہ ہے کہ بھارت جو نمک بیچ کر زرمبادلہ کما رہا ہے وہ اس کا اپنا نہیں بلکہ پاکستان کو چونا لگایا جا رہا ہے۔ بھارت واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان سے لاکھوں ٹن خام نمک درآمد کرتا ہے اور اسے اپنے برانڈ کے طور پر مغربی ممالک کو فروخت کرتا ہے۔ غضب خدا کا! بھارت یہ نمک پاکستان سے صرف 35 پیسے فی کلو کے حساب سے خریدتا ہے جبکہ پیکنگ کے بعد یہی نمک یورپی ممالک میں 19 یورو فی کلو کے حساب سے بیچا جاتا ہے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا پاکستان کو کسی باؤلے کتے نے کاٹا ہے جو وہ اپنے سونے کو یوں کوڑیوں کے مول بھارت کو بیچ رہا ہے؟ سوشل میڈیائی دانش گروں کا موقف ہے کہ عہد گم گشتہ کے کسی ملک دشمن اور بدبخت حکمران نے بھارت سے معاہدہ کر لیا تھا کہ پاکستان ہر صورت یہ خام نمک انہی نرخوں پر بھارت کو فروخت کرے گا۔ یہی وجہ ہے پاکستان اس قیمتی خزانے کو ارزاں نرخوں پر بیچنے پر مجبور ہے۔

اب کوئی ”غدار“ اور ”ملک دشمن“ ہی ہو گا جو وطن پرستی کے جذبے میں گندھی اس شدھ غیر سیاسی پوسٹوں سے اختلاف کرے گا؟ گلابی نمک کی اس مہم کے نتیجے میں ہم نے جانکاری کے لئے تھوڑی بہت جستجو کی تو معلوم ہوا کہ پاکستان میں نمک کے 10 بلین ٹن ذخائر موجود ہیں۔ صرف کھیوڑا کی کان میں 6.68 بلین ٹن نمک کا ذخیرہ دستیاب ہے۔ نمک کی پیداوار کے حساب سے پاکستان عالمی سطح پر 20 ویں نمبر پر ہے اور سالانہ 1.9 ملین ٹن نمک نکالتا ہے جس سے سالانہ 50 ملین ڈالر کی آمدن ہوتی ہے۔ اگرچہ دنیا بھر میں 110 ممالک نمک پیدا کرتے ہیں مگر نمک کی 65 فیصد پیداوار پر صرف 7 ممالک کی اجارہ داری ہے۔

چین نمک کی پیداوار کے اعتبار سے سرفہرست ہونے کے باوجود 1.15 ملین ٹن نمک درآمد کرتا ہے اور چین کو نمک برآمد کرنے والے ممالک میں پاکستان کے علاوہ بھارت بھی شامل ہے۔ اسی تحقیق کے دوران ایک حیرت انگیز بات یہ معلوم ہوئی کہ نمک برآمد کر کے زرمبادلہ کمانے والے ممالک میں نیدر لینڈ پہلے نمبر پر ہے جو سالانہ نمک کی فروخت سے 280 ملین ڈالر کماتا ہے جبکہ بلجیم نمک کی برآمد سے سالانہ 85 ملین ڈالر کما کر دوسرے نمبر پر ہے۔

ایک لمحے کو یہ سوچ کر ہماری پاکستانیت اور ہمارا ایمان بھی متزلزل ہوا کہ جب نیدر لینڈ پہلے نمبر پر ہونے کے باوجود محض 280 ملین ڈالر ہی کما پاتا ہے تو بھارت 129 ارب ڈالر کی دیہاڑی کیسے لگا لیتا ہے؟ ہم کافی دیر یہ معمہ حل کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن آخر کار حب الوطنی کا جذبہ حقیقت پسندی پر غالب آ گیا اور ہم نے سوچنا بند کر کے یہ اظہاریہ لکھنا شروع کر دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •