انتون چیحوو اور لیدیا اویلووا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1930 کی دہائی کے اواخر میں ماسکو میں ایک معمّر خاتون رہا کرتی تھیں۔ ان کے پاس دانشور، ادیب اور ادب شناس اکثر آتے تھے اور ان سے عموماً چیحوو کے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔ ایک روز ان میں سے ایک نے جھنجھلا کر کہا تھا، ”آپ کو پتہ ہے، ہم جتنا بھی سمجھ پائے ہیں ہمیں چیحوو کی زندگی میں گہرا پیار نہیں دکھائی دیا۔ سنجیدہ پیار تھا ہی نہیں“ لیکن یہ سچ نہیں تھا۔ ان کی زندگی میں ایسی خاتون تھیں۔ یہ بوڑھی خاتون یہ بات جانتی تھیں کیونکہ وہ خود وہی خاتون تھیں، لیدیا اویلووا۔

جب وہ ایک دوسرے سے ملے تھے تو چیحوو 32 برس کے تھے اور لیدیا 27 برس کی۔ وہ معروف ادیب اور ڈرامہ نویس تھے اور یہ بچوں کے لیے کتابیں لکھنے والی۔  لیدیا ماسکو میں پلی پڑھیں۔ وہ خوشحال کنبے میں پیدا ہوئی تھیں لیکن گیارہ سال کی عمر میں باپ سے محروم ہو گئی تھیں۔ ان کی زندگی میں بھرپور پہلی محبت بھی رہی تھی۔ وہ وجیہہ مرد، فوجی تھا جو محافل رقص میں ان کا طواف کیا کرتا تھا اور بالآخر خواستگار ہو گیا تھا۔ لیکن لیدیا نے اس کی خواستگاری قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ انکار کرکے وہ دیر تک اکتاہٹ کا شکار رہی تھیں۔ 37 برس بعد وہ لیدیا سے محض یہ کہنے کی خاطر ملا تھا کہ ”اس نے ساری عمر بس اس سے ہی پیار کیا ہے۔“

بعد میں لیدیا نے ازدواج کا فیصلہ کر لیا تھا۔ دریائے ڈان کے کنارے کا ناسی کزاک ان کا شوہر بنا تھا جو ان کے بڑے بھائی کا طالبعلمی کے دور کا دوست تھا۔ بعد میں لیدیا نے اعتراف کیا تھا کہ وہ شوہر سے پیار نہیں کرتی تھیں، ان سے کچھ کچھ خائف تھیں لیکن ان کی بہت قدر بھی کرتی تھیں کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ وہ سمجھدار اور انتہائی باوفا انسان ہے۔

بیاہ کے بعد وہ شوہر کے ہمراہ پیٹرزبرگ منتقل ہو گئی تھیں۔ گھر کو انہوں نے ایوان ادب بنا دیا تھا جہاں معروف ادیب گورکی، بونن اور لیو تالستوئی آیا کرتے تھے۔ چیحوو بھی آئے تھے۔ لیدیا چیحوو سے 1889 میں متعارف ہوئی تھیں۔ ان کو چیحوو کی تقریباً تمام ہی کہانیاں ازبر تھیں۔ وہ ان پر جان چھڑکتی تھیں اور ان پر سے نظریں نہیں ہٹا سکتی تھیں۔

چیحوو کی تسکین کرنے والی خاتون کیسی ہونی چاہیے تھی؟

نوبیل ادبی انعام یافتہ، روس کے نامور ادیب ایون بونن کے مطابق ایسی خاتون میں شرمساری اور تجسس باہم ہونے چاہییں تھے، ہنسوڑ پن بھی ہونا چاہیے تھا اور اداسی بھی۔ آواز نرم ہونی چاہیے تھی اور وہ نیلگوں سرمئی آنکھوں کی مدھ بھری نگاہوں سے دیکھنے والی ہوتی۔ وہ یہ بھول چکی ہوتی کہ وہ حسین ہے۔ اس میں بہت زیادہ عقل، ظرافت اور صلاحیتیں ہوتیں لیکن وہ مسلسل یہی محسوس کرتی کہ اس میں یہ اوصاف خاطر خواہ طور پر نہیں ہیں۔

ادبی حلقے میں وہ بہت جلد گھل مل گئی تھیں۔ باتیں سادہ اور دلچسپ ہوا کرتی تھیں۔ وہ اپنی کتابوں میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرتی تھیں اور بہت زیادہ لوگ ان کی خداد داد ادبی صلاحیتوں کے معترف بھی تھے۔ چیحوو ان کی کہانیوں کا تفصیل سے جائزہ لیا کرتے تھے، ان کو مشورے دیتے تھے اور تنقید کرتے تھے۔ چیحوو نے انہیں ادبی اسباق دینے شروع کر دیے تھے۔ اسباق دشوار ہوتے تھے، استاد بہت سخت تھے۔ وہ برمحل، گہرا اور مفصّل لکھنے کے متقاضی تھے۔

وہ ایک دوسرے کے ساتھ پورے دس سال تک باتیں کرتے رہے، ملتے رہے اور خط لکھتے رہے تھے۔ لیدیا خواہاں تھیں کہ ان کی روحوں میں کچھ برپا ہو جائے۔ خوشی اور کیف ان کا احاطہ کر لے اور وہ اس کا احساس کیے بنا نہیں رہ پائیں۔ مگر انہوں نے کھل کر ایک دوسرے کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار نہیں کیا تھا بلکہ اس بات کو اپنے آپ سے بھی چھپانے کی سعی کی تھی۔

شوہر بہت جلد سمجھ چکا تھا کہ لیدیا کو چیحوو سے محبت ہو گئی ہے۔ وہ فوجی انجنئیر تھا۔ اس کو ادب سے دو پار کا واسطہ نہیں تھا۔ وہ ان سے پیار کرتا تھا اور اپنے لیے ان کی پیار کی کمی سے، جس کو وہ مخفی نہیں رکھتی تھیں، دکھی ہوتا تھا۔ وہ چیحوو جیسے رقیب کے خلاف کرتا بھی تو کیا؟ صرف بچے ہی ایک بندھن تھے۔ وہ جانتا تھا کہ لیدیا بچوں سے بہت پیار کرتی ہیں اور ان کو اپنی ڈھال سمجھتی ہیں۔ وہ جانتا تھا کہ ان بچوں کی وجہ سے ان کا کنبہ بندھا رہے گا چاہے لیدیا کے روح و قلب میں کیسی ہی آندھیاں کیوں نہ چل رہی ہوں۔ وہ غلطی پر نہیں تھا۔ بچوں نے ایک دوسرے کے لیے نہ بنے ان دو انسانوں کو ایک چھت کے تلے اکٹھا کیے رکھا۔

چیحوو کے ساتھ اویلووا کبھی کبھار ہی ملا کرتی تھیں اور وہ بھی اتفاقاً ، کبھی تھیٹر میں کبھی کسی کے ہاں مہمان کی حیثیت سے۔ چیحوو کو ہمیشہ ہی پہلے سے معلوم ہو جاتا تھا۔ ”ابھی دیکھنا، ایک منٹ بعد وہ یہیں کہیں، قریب ہی پائی جائیں گی“ وہ کہتے اور وہ واقعی آ جایا کرتی تھیں۔ سال بہ سال ان کی ایسی ملاقاتیں بھی نادر ہوتی گئی تھیں۔ مگر وہ ایک دوسرے کو رقعے لکھا کرتے تھے۔ پر لیدیا بہت بے چین رہتی تھیں۔ ایک بار خلجان کا شکار ہو کر ایک فیصلہ کن اقدام لے لیا تھا۔ انہوں نے زرگر کو ایک بروچ بنانے کو کہا تھا جس پر کھدوا لیا تھا: ”کہانی، انتون چیحوو، صفحہ 207، سطریں چھ اور سات“۔ کتاب کھول کر ان سطور کو پڑھو تو لکھا تھا، ”اگر تمہیں کبھی میری زندگی درکار ہو تو آنا اور لے لینا۔“ مگر وہ اپنے نام سے یہ تحفہ بھیجنے کا فیصلہ نہیں کر پائی تھیں۔ چیحوو کو یہ بروچ ایک گمنام قاری کی طرف سے ماسکو میں دیا گیا تھا۔

پھر ان کے نام چیحوو کے رقعے آنا بھی کم سے کم تر ہوتے چلے گئے تھے۔ انہوں نے ایک معروف اداکارہ سے بیاہ کر لیا تھا جو ان کے لکھے ڈراموں میں اہم کردار ادا کیا کرتی تھی اور لیدیا نے سوچنا شروع کر دیا تھا ”ان کے بغیر زندہ رہنا سیکھنا ہوگا۔“

مگر انہوں نے چیحوو کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار اپنی کتاب ”فراموش کردہ خط“ میں کر ہی دیا تھا: ”تمہارے بغیر، بلکہ تمہارے بارے میں کسی خبر کے بغیر زندگی کسی کارنامے سے کم نہیں ہے۔ یہ اذیّت ہے۔ میں خوش بخت ہوں، تمہاری آواز محسوس کرتی ہوں، اپنے لبوں پر تمہارے بوسے کا احساس کرتی ہوں۔ میں صرف تمہارے بارے میں ہی سوچتی ہوں۔“

”فراموش کردہ خط“ چیحوو نے پڑھ لی تھی۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ نہ سمجھے ہوں؟ ان کو سب سمجھ آ گئی تھے، انہوں نے سن لیا تھا اور جواب میں لکھا تھا ”محبت کے بارے میں“ اس کہانی میں چیحوو نے کہانی کے اہم کردار کی زبان سے لیدیا کے ساتھ اپنی محبت کا اعتراف کیا تھا: ”میں نے نزاکت کے ساتھ اور گہری محبت کی، مگر سوچتا رہا اور خود سے استفسار کیا کہ ہماری یہ محبت ہمیں کہاں لے جائے گی۔ اگر ہم میں اس سے عہدہ برآء ہونے کی طاقت نہ ہوئی، تو مجھے لگا کہ عین ممکن ہے میری یہ مدھم اور اداس محبت، اس کے شوہر، اس کے بچوں اور اس کے پورے گھر کے سکون کو بری طرح تہہ و بالا کرکے رکھ دے گی۔“

لیدیا نے چیحوو کو آخری خط 1904 میں لکھا تھا۔ اس ہی برس چیحوو کی موت نے اسے اپنے اور اپنے حالات سے لڑنے کی اذیت سے نجات دلا دی تھی۔ لیدیا کو خوف تھا کہ وہ پہلے مر جائیں گی لیکن ہوا اس کے الٹ۔ اس روز لیدیا کو کچھ مہمانوں کا انتظار تھا۔ شوہر ان کے نزدیک آیا تھا اور بتایا تھا کہ چیحوو اس جہان سے چلے گئے ہیں اور کہا تھا کہ کوئی واویلا اور ماتم نہ کرنا۔

لیدیا اور چیحوو نے ٹوٹ کر محبت کرنے کے باوجود اپنی زندگی بدلنے اور ایک دوسرے کا ہو جانے کا فیصلہ کیوں نہیں کیا تھا؟ خیال کیا جاتا ہے کہ وجہ بیرونی عوامل نہیں تھے۔ بس ایسے ہی ایک بار لیدیا نے کہا تھا کہ ”اس بھونچال سے کوئی نہ کوئی تو انتہائی متاثّر ہوگا ہی۔“ چنانچہ معاشرے پہ وسیع نظر رکھنے والے چیحوو نے قدم نہیں بڑھایا تھا۔ ان کے لیے اخلاقیات اہم تھی۔ اخلاقیات اور ہم آہنگی۔ چیحوو روسی عوام کی میراث تھے، اس لیے انہوں خاندانی اخلاقیات کی مکمل ہم آہنگی کو مقدس رکھنا تھا۔

لیدیا اویلووا چیحوو کی موت کے بعد 39 برس زندہ رہیں۔ چیحوو ایک عرصے سے اس جہان میں نہیں تھے تو لیدیا کا کیا بنا؟ شوہر سے ان کی علیحدگی ہو گئی تھی، بچے بڑے ہو گئے تھے، تینوں بچوں کے گھر بس گئے تھے۔ انہوں نے ”اے پی چیحوو میری زندگی میں“ کے عنوان سے اپنی یادداشتیں قلمبند کی تھیں، جس میں روسی کاسیکی ادب کی پوری چاشنی ہے۔ اپنی زندگی کے آخری چند سال لیدیا اویلووا نے مکمل تنہائی میں بسر کیے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •