ڈینگی پروازیں اور عمران خان کے “کیک” حامی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”راولپنڈی میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں مزید ایک سو پچیس شہری ڈینگی بخار کا شکار۔“

”وفاق میں ڈینگی سے متاثرہ 32 افراد پمز کے آئیسولیشن وارڈ میں زیرِ علاج۔ “

”لاہور میں بھی روزانہ ڈینگی متاثرین کی تعداد میں اضافہ، مختلف سرکاری اور نجی ہسپتالوں کی طرف سے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق ہر دن مریضوں کی میں اضافہ۔“

ملک بھر کے مختلف شہروں کی طرح لاہور میں بھی ڈینگی پروازیں بلا روک ٹوک جاری مگر لاہور ایئر پورٹ پر اندرون، بیرون ملک آنے جانے والی 18 پروازوں کا شیڈول بری طرح متاثر ہے۔ طیاروں کی عدم دستیابی اور فنی خرابی کے باعث 9 پروازیں منسوخ جبکہ 9 ہی تاخیر کا شکار ہیں۔ اس سے اندازہ کرنا آسان ہے کہ جہازوں کی پرواز میں رکاوٹ بھلے ہو جائے کہ اس پر تو امیر لوگ سفر کرتے ہیں لیکن ڈینگی کی پرواز میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ حائل کر کے غریب عوام کو کسی امتحان میں نہیں ڈالا جا رہا کہ اس میں تو عموماً غریب ہی ”suffer“ کرتے ہیں۔

آپ سب کو یاد ہو گا پچھلی نا اہل حکومت سال کے ان دنوں میں کیسے ناک میں دم کر کے رکھتی تھی۔ ڈینگی کی روک تھام اور شہریوں کو اس آفت سے محفوظ رکھنے والا ”دہشت گرد“ عملہ کندھوں پہ سپرے سے بھرے کنٹینرز لیے گلیوں محلوں میں دندناتا پھرتا، گلیوں میں ہر طرف سپرے تو کرتا ہی، لوگوں کے گھروں کے دروازے بھی پیٹتا کہ ہمیں اندر آ کر گھر میں سپرے کرنے دیا جائے۔

اس سپرے کی وجہ سے پورا پورا دن گھر سے بُو نہ جاتی، کئی لوگوں کو اس کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہوتا، یہاں تک کہ لوگوں کے گھروں کی دیواروں پر سپرے کے نشانات تک پڑ جاتے اور اتنی اذیت، اتنی تکلیف کا نتیجہ صرف اور صرف یہ نکلتا کہ ان کے گھر اور گلی محلے کسی حد تک ڈینگی سے محفوظ ہو جاتے۔

صرف اتنا ہی نہیں اس نا اہل حکومت میں تو ڈینگی کنٹرول عملے میں شامل خواتین گھروں کے اندر جا جا کر لوگوں کے لان، باورچی خانوں اور چھتوں تک میں جھانکتی پھرتیں، یہاں تک کہ لوگوں کے فریجوں کے پیندے میں فکس پانی کے وہ ٹرے تک نکال نکال کر دیکھتیں جو بدبو دار پانی سے بھرے ہوتے اور جن میں جھانکنے کی خود خاتونِ خانہ کو یا گھر کے دیگر افراد کو مہینوں سے توفیق نہ ہوئی ہوتی۔ گھر پہ کوئی بہادر فرد ہوتا تو ان خواتین کو دروازے ہی سے بے عزت کر کے نکال دیا جاتا اور کبھی ان کو سروے کرنے کی اجازت دینے پر گھر کی عورتیں اپنے مردوں سے ذلیل ہو رہی ہوتیں کہ کیوں انجان عورتوں کو گھر میں گھسنے دیا ”اگر وہ کوئی وارداتی ہوتیں تو کیا ہوتا؟“ اور دیکھا جائے تو وہ ”بدمعاش حکومت“ کے وارداتی کارندے ہی تو ہوتے تھے جن کا ہدف یہ موزی ڈینگی ہوتا تھا جسے ناحق مار دیا جاتا۔

اب اس عظیم حکومت میں سارا ملک امن کے گیت گا رہا ہے نہ کسی کو سپرے سے ہونے والی اذیت اٹھانا پڑ رہی ہے نہ کوئی کسی کے گھر میں گھس کر سروے کرتا ہے کہ کہیں گملوں میں، پرانے ٹائروں میں، عرصے سے بند سٹور رومز کے سامان میں یا فریج کی ٹرے میں پانی تو نہیں جس میں ڈینگی کی افزائشِ نسل ممکن ہو سکے! موجودہ حکومت نے شہریوں کو ان ساری تکلیفوں سے نجات دلا دی اور بدلے میں کیا لیا؟ صرف ایک ڈینگی کی آزادانہ آمد و رفت کی سہولت؟ تو کیا عوام اتنی سہولیات کے بدلے میں یہ ذرا سی تکلیف نہیں برداشت کر سکتے؟ جب کسی مملکت کی جڑیں مضبوط کرنا مقصود ہو تو عوام کو ایسی چھوٹی موٹی قربانیوں سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔

پہلے اگر لوگ اس ڈینگی کا یا دیگر امراض کا شکار ہو کر ہسپتال بھاگتے تھے اور دو روپے کی پرچی بنوا کر ہسپتال کے بستر پر قبضہ جما لیتے تھے تو اب یہ بھی نہیں ہو گا۔ ہسپتال کی پرچی پچاس روپے میں ملے گی، اس لیے اب غریب سہولت سے اپنے گھر کی چارپائی پہ ایڑیاں رگڑے گا، اب اسے ہسپتال جا کر خوار ہونے کی ضرورت نہیں۔

اس بات پر موجود حکومت کے ”کیک“ حامی ضرور یہ کہیں گے کہ پچاس روپے کوئی بہت بڑی رقم نہیں آخر یہ بھی تو ملکی خزانے ہی میں جائے گی۔ دیکھا جائے تو غلط یہ ”کیک“ حامی بھی نہیں عوام کا پیسہ عوام پر ہی خرچ ہو گا لیکن ایسا کب ہو گا اس کی خبر خود انہیں بھی نہیں۔ یہ حامی اصل میں وہ کھسیانی بلیاں ہیں جو بے شرموں کی طرح کھمبا نوچے جا رہی ہیں اور اپنی کھسیاہٹ چھپانے کی ناکام کوشش میں ہر فورم پہ بے سروپا اول فول بکنے میں مشغول ہیں۔

یہ وہی لوگ ہیں جو اس بات پر اعتراض کرتے تھے کہ عوام یہ کیوں کہتے ہیں کہ ”کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے۔“ اب جب یہ حامی خود بے شرمی کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ ”اگر ہینڈسم اب تک ملک کے لیے، عوام کے لیے کچھ نہیں کر پا رہا تو کیا ہوا، پچھلی حکومت نے بھی تو کچھ نہیں کیا، اسے دوسرا سال لگ گیا تو کیا ہوا، پچھلی حکومتیں بھی تو بہتّر سال میں کچھ نہیں کر سکیں۔“

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اب اس یوٹوپیا سے نکلنے کی ضرورت ہے۔ وہ جو بشریٰ بی بی خان صاحب کے برسوں پرانے پھٹے ہوئے کوٹوں کی دہائی دے کر عوام کو اس بے نیاز نیازی کا نیاز مند بنانے کی کوششیں کرتی رہیں اور ہمارے سادہ عوام نے ان کی اس کوشش کو بھرپور طور پر کامیاب بھی بنایا وہ عوام اب اس خوابِ غفلت سے جاگیں اور جو بچتا ہے اسے بچا لیں۔

احتساب احتساب کھیلنے والی اس حکومت سے بھی جواب طلبی کریں ورنہ آپ سوتے رہ جائیں گے اور سسّی کی طرح آپ کا بھنبھور لُٹ رہا ہے۔

یاد رکھیے کہ تجربے کا نعم البدل فی زمانہ کوئی نہیں ہے۔ نئے لوگوں کو آزمانے یا انہیں موقع دینے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ آپ اپنا ریموٹ کنٹرول ان کے ہاتھوں میں تھما دیں اور اپنا عقل و شعور ان کے پاس رہن رکھ دیں۔ ایسا صرف وہی لوگ کرتے ہیں جنہیں خود پر اعتماد نہیں ہوتا اور جسے خود پر اعتماد نہیں وہ پھر بھلے کسی پر بھی اعتماد کرے اس کا اعتماد ٹوٹ کر ہی رہتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •