کامیابی کے چند سُنہرے اصول

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی بھی کام یا مقصد کو حاصل کرنے کا نام، کام یابی ہے۔ کون ہے جو نہیں چاہتا کہ زندگی کے ہر میدان میں کام یاب ہو یا کام یابی اس کا مقدر بن جائے۔ جس کے لیے وہ جی جان سے خوب محنت کرتا ہے۔ کوشش یہ ہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے تمام مقاصد میں کام یاب ہو جائے مگر افسوس کبھی کبھار محنت کرنے کے باوجود وہ اپنا مقصد حاصل نہیں کر پاتا اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی کام چھوٹا ہو یا بڑا، اُسے کرنے کے چند اصول اور طریقہ کار ہوتے ہیں۔جن پر عمل پیرا ہوکر ہی کام یابی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

اگر ان بنیادی اصولوں کے مطابق کام نہیں کیا جائے، تو ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مقصد میں کام یابی حاصل کرنے کے اصول اکثر ہماری نظروں سے گزرتے ہیں، اور ان مقاصد کے بارے میں سنتے بھی رہتے ہیں لیکن کبھی ان پر غور اُس وقت کرتے ہیں، جب ناکام ہوتے ہیں۔ اگر ذیل میں دیے گئے چند اصولوں کو ذہن نشین کرلیں اور ان پر عمل کریں تو یقیناً آپ کام یاب ہوں گے۔

1۔ آپ نے کیا کرنا ہے؟

سب سے پہلے اپنے مقصد کا تعین کریں کہ آخر آپ نے کیا کرنا ہے۔ ہر کسی کی زندگی کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی ڈاکٹر بننا چاہتا ہے تو کوئی انجینئر۔ اگر کسی کی زندگی میں کوئی مقصد نہیں تو آپ صرف وقت گزارتے جائیں گے۔ بے مقصد شخص ہر وقت کسی نہ کسی سوچ میں ڈوبا وقت ضایع کرتا رہتا ہے اور اسی سوچ و فکر میں مبتلا ہو کر مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ آپ چاہے عمر کے کسی بھی حصے میں ہوں، اپنے آپ کو ٹٹولیں، اپنی خوبیوں اور خامیوں کو جاننے کی کوشش کریں یقیناً آپ کسی نہ کسی مقصد تک پہنچ ہی جائیں گے۔

جب آپ اپنی زندگی کا مقصد جان جائیں تو ایسا ہرگز نہیں سوچیں کہ، ”اچھا اگر ایسا ہو گیا تو ٹھیک ہے، ورنہ کوئی بات نہیں“۔ یہ منفی سوچ ہے، جو آپ کو اپنی منزل تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ جب آپ میں اپنا مقصد پانے کی تڑپ ہی نہیں ہوگی تو اسے حاصل کرنے کے لیے محنت بھی نہیں کریں گے۔ ایسی شدید ترین خواہش ہی تو منزل کے سفر کا آغاز ہوتی ہے۔

2۔ مشکلات سے گھبرائیں نہیں

جب آپ میں اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی شدید خواہش اُجاگر ہوگی تب ہی آپ اپنی منزل کی راہ میں آنے والی مشکلات سے نہیں گھبرائیں گے۔ یاد رکھیں، رسک نہ لینا اپنے خوابوں اور صلاحیتوں کا قتل ہے۔ بغیرخواب دیکھے، بغیر منصوبہ بندی اور بغیر کام کیے ناکامی کا خوف ہماری زندگیوں کا حصہ بن چکا ہے۔ لیکن یہ احتیاط رکھیں کہ رسک ہمیشہ کیلکیولیٹیڈ ہونا چاہیے، تاکہ ناکامی کی صورت میں آپ مکمل طور پر خسارے میں نہ ہوں۔

مثلاً آپ کا مقصد تیراکی سیکھنا ہے، آپ بہترین تیراک بننا چاہتے ہیں تو پہلے دن ہی آپ تیراکی کے بڑے پول میں چھلانگ نہیں لگائیں گے۔ سب سے پہلے تیراکی کے اصول سیکھیں گے اور پھر کمزور سے بہتر ’بہتر سے بہترین تیراک بنیں گے۔ بڑے خواب دیکھنے والے ہی رسک لیتے ہیں اور وہ بہترین منصوبہ ساز بھی ہوتے ہیں۔ رسک لینے والے بے حد پراعتماداور مثبت سوچ کے مالک ہوتے ہیں آگے بڑھنے کے لئے خطروں کے کھلاڑی بننا پڑے گا۔

3۔ کمفرٹ زون سے نکلیں

کمفرٹ زون ایک قسم کا، آرام طلبی اور سستی کے باعث اپنی صلاحیتوں کے گرد بنا گیا خود ساختہ جال ہے، جس میں اپنے آپ کو چھپا لیتے ہیں۔ یہ ہماری صلاحیتوں کا ایک خاموش قاتل ہے، جو نت نئے مواقع پرقسمت آزمائی نہیں کرنے دیتا۔ انسان کی فطرت میں خواہشات تو وسیع ہیں، مگر ان کی تکمیل کی خاطر کوششیں کم ہیں۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ، آپ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی خاطر جتنی سخت کوشش کریں گے اتنے ہی کام یابی کے مواقعے وسیع ہوجائیں گے۔ اگر ا آپ چاہتے ہیں کہ مستقبل میں زندگی آسان ہو تو آج کا کمفرٹ زون ترک کرنا ہوگا۔

4۔ مستقل مزاجی

آپ نے جب کسی منزل پر پہنچ نے کا ارادہ کرلیا، وہاں تک پہنچنے کے لیے گاڑی سٹارٹ کرلی تو اب آپ چاہے کچھ بھی ہوجائے منزل کی جانب گامزن رہیں گے، راستہ کہیں دشوار ہوگا کہیں پریشانیاں لاحق ہوں گی لیکن ا آپ روکیں گے نہیں، کیوں کہ اپ نے منزل پر پہنچنے کا ارادہ پختہ کرلیا ہے، بالکل اسی طرح جب آپ زندگی میں کس مقصد کا تعین کرلیں گے تو آپ کو چاہیے کہ کچھ بھی ہوجائے اسے حاصل کرنے کے لیے تگ و دو میں لگے رہنا چاہیے۔ منزل کی راہ میں آنے والی روکاوٹوں سے گھبرانے کی بجائے ان کا سامنا کریں۔ راستے میں ممکن ہے آپ مشکل حالات کے باعث تھک جائیں تو کچھ دیر سستا لیں، رفتار کم کر لیں مگر آگے بڑھتے جائیں۔ اس دوران لوگوں کی منفی باتوں کی پروا نہیں کریں، ساتھ منفی جذبات، سوچوں اور کاہلی کو بھی قابو کرنا ہے۔

5۔ نظم و ضبط

کام یابی کی راہ میں اگلا قدم اپنی زندگی میں نظم و ضبط قائم کرنا، یعنی روزمرہ کی روٹین ترتیب دینا ہے۔ آپ کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں، دل برداشتہ ہوں یا تھکے ہوئے ہوں لیکن آپ کی روٹین پر ان کا اثر نہیں ہونا چاہیے۔ اپنے بنائے ہوئے اصولوں پر ہی عمل پیرا رہیں۔ ہر چیز اپنے وقت پر اچھی لگتی ہے، اس لیے وقت کی پابندی کو نظم و ضبط کا حصہ ضرور بنائیں اور ہر کام وقت پر کرنے کی عادت ڈالیں، ابتدا میں آپ کو دشواری محسوس ہوگی لیکن پھر سب ٹھیک ہوجائے گا۔

اگر آپ نے تہیہ کیا ہے کہ آپ روزانہ آدھا گھنٹہ کتب بینی یا چہل قدمی کریں گے تو اس پر قائم رہیں۔ اپنے خیالات و جذبات کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں کہ اگر دل چاہا تو کتاب پڑھ لی اور اگر نہیں چاہا تو نہیں پڑھی۔ اس طرح آپ نظم و ضبط کبھی قائم نہیں کرسکیں گے۔ یاد رکھیں، کام یابی کی راہ میں نظم و ضبط کا ہونا لازمی و اہم جُز ہے اگر ایسا نہ ہوسکا تو ناکامی آپ کا مقدر بن جائے گی۔

6۔ جذبہ و خلوص

جب آپ کی زندگی میں نظم و ضبط قائم ہوجائے تو آپ کو اگلا قدم خلوص نیت کے ساتھ اپنا مقصد حاصل کرنے کا جذبہ ہے، جسے ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مزید پختہ ہونا چاہیے۔ اب منزل بس چند قدم کی دوری پر محسوس ہوگی۔ یہ ہی وقت ہوتاہے جب آپ اپنی صلاحیتوں میں مزید بہتری لاسکتے ہیں، مقصد کے مطابق کچھ نیا سیکھنا پڑے تو لازمی سیکھیں۔ لیکن بس ہر صورت میں اپنے مقصد حاصل کریں۔ اب واپسی کا نہیں سوچنا بلکہ کسی بھی بڑی رکاوٹ کی صورت میں بھی پوری طرح غور و فکر اور منصوبہ بندی کے ساتھ چند معمولی تبدیلیاں کرتے ہوئے اپنے ٹریک پر رہنا ہے۔

7۔ مثبت رہیں

حالات کیسے بھی کیوں نہ ہوں اپنی صلاحیتوں پر بھرپور اعتماد ہوگا تب ہی کام یابی نصیب ہوگی۔ جس کے لیے ضروری ہے کہ آپ مثبت سوچ کے مالک ہوں، مثبت سوچ سے نئے راستے ملتے ہیں۔ زندگی سے وہ تمام الفظ نکال دیں، جس سے منفی تاثر ابھرتا ہے۔ منفی سوچ صلاحیتوں کو جلا دیتی ہے۔ اس لیے مثبت رہیں ’مثبت سوچیں‘ ایسی ہی سوچ والے لوگوں سے ملیں ’ان کی صحبت میں رہیں۔ اگر کسی موقع پر مطلوبہ کامیابی نہیں بھی ملی تو نیا تجربہ ضرور ملتا ہے۔ مشکلات و مصائب‘ پریشانی و بے اطمینانی اور بے سکون ہونا انسانی فطرت ہے مگر ان سے چھٹکارا پانے کا بہترین حل مثبت رہنا ہے۔

تو دوستو، یہ ہیں کام یابی کے چند سُنہرے اصول جو کسی بھی مقصد کو پانے کے لئے بنیادی درجہ رکھتے ہیں۔ سب سے اہم بات عمل کرنا ہے پھر چاہے چھوٹے چھوٹے اقدامات کی صورت میں عمل کریں۔ اسی صورت میں آپ کے اندر کی قوتِ ارادی بڑھے گی جو کسی بھی منزل کو پالینے کے سفر کو نہایت آسان بنا دیتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •