کتے کا کاٹا کیا کرے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ کتے کا کاٹنا موت کا سبب بن سکتا ہے، کتے کے کاٹنے پر گھریلو ٹوٹکے استعمال نہ کریں بلکہ متاثرہ شخص کو فوری طورپر متعلقہ ہسپتال لے جائیں کیونکہ پاگل کتے کے کاٹنے کے فوری بعد حفاظتی تدابیر اپنا کر اگرعلاج شروع کردیا جائے توانسان کی قیمتی جان بچائی جا سکتی ہے، لیکن اگر ہسپتال میں کتے کے کاٹے کی ویکسین ہی نہ ہو تو مریض کو کیسے بچایا جا سکتا ہے؟ برادرعزیز عدنان خان کاکڑ نے ”مشرق“ کی ایک خبر کی طرف توجہ دلائی کہ ”صوبائی دارالحکومت کے ہسپتالوں میں باولے کتے کے کاٹے کا انجکشن دستیاب نہ ہونے کے سوال پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ خیبر پختونخوا نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ شہر میں دندناتے پھرنے والے کتوں کا ہی کام تمام کر دیا جائے، ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ جب پاگل کتے ہی نہیں رہیں گے تو انجکشن کی بھی ضروت نہیں رہے گی۔“

یاد رہے سندھ کے بعد خیبر پختونخوا میں بھی کتوں کے کاٹنے کے علاج کی ویکسین نایاب ہوگئی ہے۔ پاگل کتے کے کاٹنے کے بعد متاثرہ افراد کوموت سے بچاؤکے لئے حفاظتی ویکسین کی عالمی مارکیٹ میں عدم دستیابی کے باعث خیبر پختونخوا میں سرکاری سطح پر شہریوں کے لئے علاج کی سہولت مکمل طور پر معطل ہوگئی ہے اس سلسلے میں ڈیڑھ برس گزرجانے کے بعد بھی محکمہ صحت کے پاس کوئی متبادل انتظام موجود نہیں ہے۔

کتے کاٹے کی بہترین ویکسین بنانے والی کمپنی فرانس، جرمنی یا چائنا اور انڈیا میں ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک ہم فرانس اور جرمنی سے یہ ویکسین درآمد کرتے تھے جو کہ ڈبلیو ایچ او سے بھی منظور شدہ تھی، لیکن اس کمپنی نے پرائسنگ کی وجہ سے پاکستان میں دوا بھیجنا چھوڑ دی۔ اس کی متبادل بہترین ویکسین جو کم قیمت ہے اور قریب سے بھی دستیاب ہے، وہ چائنا اور انڈیا سے منگوائی جاتی رہی ہے، انڈیا میں اس ویکسین کی سب سے اچھی پانچ کمپنیاں ہیں جو اچھی ویکسین بناتی ہیں۔

ان میں دو کمپنیاں ایسی ہیں جو ڈبلیو ایچ او سے بھی منظور شدہ ویکسین فروخت کرتی ہیں۔ اس وقت این آئی ایچ کے پاس جو ویکسین آرہی ہے وہ چائنا سے آرہی ہے، اس کے معیار کے بارے میں کوئی سند موجود نہیں ہے کہ وہ اچھی ویکسین ہے یا نہیں، لیکن اس کا بھی اسٹاک کم ہوتا جارہا ہے اور ایک خبر یہ بھی ملی ہے کہ انڈیا سے جو ویکسین آتی تھی وہ بھی آب نہیں آرہی، انڈیا نے یہ عذر پیش کر کے کہ ”ہمارے ہاں ویکسین کی کھپت زیادہ ہے“ پاکستان کو سپلائی بند کردی ہے۔ حالانکہ انڈیا یہی ویکیسن انڈونیشیا، تھائی لینڈ وغیرہ کو اب بھی بھیج رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کتے کے کاٹنے سے ہونے والی بیماری ریبیز (Rabies) دنیا کی دسویں بڑی بیماری ہے، جس میں اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر میں تقریباً ساٹھ ہزار افراد ہر سال ”ریبیز“ سے جان کی بازی ہارجاتے ہیں۔ ہمارے یہاں خاص طور پر کتے، بلی، لومڑی، گیدڑ جیسے جانوروں کے کاٹنے سے ہر سال ایک اندازے کے مطابق 8 ہزار افراد جاں بحق ہوتے ہیں، جس کے تدارک کے لیے سالانہ 8 لاکھ حفاظتی ویکسین کی ضرورت ہے۔

ریبیز ایک وائرس کے ذریعے پیدا ہوتا ہے، بہت ہی باریک جرثومہ جو صرف الیکٹرانک مائیکرو اسکوپ سے نظر آتا ہے۔ باؤلا پن کہلانے والا یہ مرض باولے (پاگل) کتے کے کاٹنے سے انسان میں پھیلنے والی ایک وائرل بیماری ہے جو دماغ کی سوجن کا سبب بنتی ہے۔ جب کوئی متاثرہ جانور کسی دوسرے جانور یا انسان کو کھرونچتا یا کاٹتا ہے تب بھی ریبیز منتقل ہوسکتا ہے۔ متاثرہ جانور کے لعاب سے بھی ریبیز منتقل ہوسکتا ہے۔ اور باولے کتے کے لعاب کے اندر یہ خطرناک جراثیم بھرے ہوتے ہیں۔

نارمل کتا اگر کاٹ لے توکچھ بھی نہیں ہوتا، ہاں جلد میں یا جہاں کتے نے کاٹا ہے اس جگہ کوئی اور انفیکشن ہوسکتا ہے۔ اگر یہ کتا واقعی پاگل یا باؤلا ہو اور اس کے لعاب کے اندر یہ جراثیم بھرے ہوئے ہوں، اور وہ انسان کے اندر اگر منتقل ہوجائیں تو یہ جراثیم وہیں زخم کے مقام پر دوگنے ہونا شروع ہوجاتے ہیں، لگ بھگ چار سے چھ ہفتے کے اندر یہ دماغ کی طرف چلتے ہیں، اور پھر وہاں سے علامات شروع ہوتی ہیں جس میں سر درد، بخار، جلن، بے چینی، ذہنی انتشار، ہوش کھونا شامل ہیں، اور مریض بعض اوقات بہکی بہکی باتیں کرتا ہے اور کبھی نہیں بھی کرتا۔

اس وائرس کی وجہ سے کھانے پینے کو نگلنے کی نالی اکڑ جاتی ہے اور مریض پانی سے گھبرانے لگتا ہے۔ اس علامت کو ہائیڈرو فوبیا کہتے ہیں۔ یعنی پانی سے اسے خوف آتا ہے، اور کتے میں بھی یہی علامات ہوتی ہیں۔ کتا، انسان یا جو بھی جانور ہو جس میں ریبیز کے جراثیم ہوں، اس کی علامات اور عادات یکساں ہوتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ مریض کھانا پینا ختم کردیتا ہے۔ جب یہ علامات پوری طرح ظاہر ہوجائیں تو مریض بچ نہیں سکتا، چار سے سات دن کے اندر مرجاتا ہے۔

کتے کو اگر ریبیز ہے تو وہ بھی آٹھ سے دس دن کے اندر مر جاتا ہے۔ کیا یہ لمحہ فکریہ نہیں ہے کہ ایک جان لیوا اورمہلک مرض کہ جس کی وجہ سے انسان کی جان بھی جا سکتی ہے، حکومتی سطح پر اس مرض میں مبتلا لوگوں کو ویکسین کی فراہمی اور علاج کی مکمل سہولیات فراہم کرنے کی بجائے ڈی جی ہیلتھ جیسے ذمہ دار افسران کہہ رہے ہیں کہ ویکسین دستیاب نہیں ہے عوام کتوں کو ہی مارنا شروع کردیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •