جانور راج! ”مرگ بر انسان“ سے ”مرگ بر روفا جٹ“ تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نپولین کو یہ نظم بھائی اور اس نے اسے بڑے گودام کی دیوار پہ سات نکات سے بالکل پرلے سرے پہ لکھنے کا کہا۔ اس سے اوپر چیخم چاخ نے نپولین کی رسمی لباس میں تصویر، سفید روغن سے بنائی۔

اسی دوران، جناب نویدِ مسرت کی وساطت سے، نپولین مسٹر اللہ دتہ اور روفے جٹ کے ساتھ پیچیدہ مذاکرات میں مصروف رہا۔ لکڑیوں کا ڈھیر ابھی تک نہ بکا تھا۔ دونوں میں سے روفا جٹ، اسے حاصل کرنے کا زیادہ خواہش مند تھا، مگر وہ اچھی قیمت نہیں دیتا تھا۔ اسی موقعے پہ یہ افواہ بھی اڑ رہی تھی کہ روفا جٹ اور اس کے گرگے، جانوروں کے باڑے پہ حملہ کرنا اور پون چکی کو ڈھانا چاہتے تھے کیونکہ اس کی تعمیر نے اسے جلا جلا کر خاک کر دیا تھا۔

سنو بال کے ابھی تک خالصہ کلاں میں مفرور ہونے کی بھی خبر تھی۔ موسمِ گرما کے وسط میں، جانور یہ سن کے ششدر رہ گئے کہ تین مرغیوں نے اعتراف کیا کہ سنو بال کے سکھائے میں آکر وہ نپولین کو قتل کرنے کے ایک منصوبے کا حصہ بن گئی تھیں۔ ان کی فی الفور گردن مار دی گئی اور نپولین کی حفاظت کے لئے تازہ احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔ رات کو اس کے چھپر کھٹ پہ چار کتے پہرہ دیتے تھے، ہر ایک کونے پہ۔ ایک اور جوان سؤر جس کا نام نشیلا تھا، اسے نپولین کے کھانے کو اس سے پہلے چکھنے کی ذمہ داری تفویض کی گئی مبادا اس میں زہر ملا ہو۔

ان ہی دنوں یہ بتایا گیا کہ نپولین نے لکڑی کا ڈھیر، مسٹر اللہ دتہ کو بیچنے کا انتظام کر لیا ہے ؛ وہ کچھ مخصوص چیزوں کے تبادلے کے لئے، جانور راج اور بوہڑ والا کے درمیان ایک باضابطہ معاہدہ بھی کر نے والا تھا۔ نپولین اور مسٹر اللہ دتہ کے درمیان تعلقات گو کہ فقط جناب نوید مسرت کے تحت ہی چل رہے تھے، مگر اب دوستانہ تھے۔ جانور بطور انسان، مسٹر اللہ دتہ پہ بھروسا نہ کرتے تھے، مگر اسے روفے جٹ پہ بہت ترجیح دیتے تھے، جس سے وہ نفرت بھی کرتے تھے اور خوف بھی کھاتے تھے۔

جوں جوں موسمِ گرما گزرا کیا اور پون چکی اپنی تکمیل تک پہنچنے لگی، پون چکی پہ ایک متوقع بزدلانہ حملے کی افواہ شدید سے شدید تر ہوتی چلی گئی۔ یہ کہا گیا کہ روفا جٹ، ان کے خلاف بندوقوں سے مسلح بیس آدمی لے کر آنے کو تیار ہے۔ ، اور وہ پہلے ہی مجسٹریٹ اور پولیس کو رشوت دے چکا ہے تاکہ جب وہ ایک بار جانوروں کی باڑے کے کاغذاتِ ملکیت ہتھیا لے تو وہ اس سے کوئی باز پرس نہ کریں۔ مزید برآں، خالصہ کلاں سے روفے جٹ کی جانوروں پہ روا مظالم کی بھیانک داستانیں، باہر نکل رہی تھیں۔

اس نے ایک بوڑھے گھوڑے کو کوڑے مارمار کے جان سے مار دیا تھا، اپنی گائیوں کو بھوکا رکھتا تھا، اس نے ایک کتے کو بھٹی میں پھینک کر مار دیا تھا، وہ اپنی شاموں کو رنگین کرنے کے لئے مرغوں کی لڑائی کراتا جس میں ان کو کچوکنے کی چھڑیوں پہ بلیڈوں کے ٹکڑے باندھ دیا کرتا تھا۔ اپنے کامریڈز کے ساتھ یہ سب ہوتا سن کے جانوروں کا خون کھول اٹھتا تھا، اور بعض اوقات وہ جلوس نکالتے تھے کہ انہیں ایک جتھے کی شکل میں خالصہ کلاں پہ حملہ کرنے، انسانوں کو وہاں سے بھگانے اور جانوروں کو آزاد کرانے کی اجازت دی جائے۔ مگر چیخم چاخ انہیں سخت اقدام سے باز رہنے اور کامریڈ نپولین کی حکمت عملی پہ یقین رکھنے کا کہتا تھا۔

اس کے باوجود، روفے جٹ کے خلاف جذبات عروج پا رہے تھے۔ ایک اتوار کی صبح، نپولین، گودام میں آیا اور اس نے واضح کیا کہ اس نے کبھی بھی کسی بھی وقت لکڑیوں کا ڈھیر، روفے جٹ کو بیچنے پہ غور نہیں کیا تھا؛اس نے کہا کہ اس قماش کے لچوں سے معاملات کرنا اس کی شان کے شایان نہیں۔ وہ کبوتر جو، اب بھی انقلاب کا پرچار کرنے دساور بھیجے جاتے تھے، انہیں بوہڑ والا میں کہیں بھی قدم دھرنے سے منع کر دیا گیا اور اپنے پرانے نعرے، ”مرگ بر انسان“ کو ”مرگ بر روفا جٹ“ سے بدلنے کاحکم دے دیا گیا۔

گرما کے اواخر میں سنوبال کی ایک اور عیاری عیاں ہو گئی۔ گندم کی فصل، جڑی بوٹیوں سے پٹی پڑی تھی، اور یہ پتا لگا یا گیا کہ اپنے رات کے خفیہ گشتوں میں سے ایک کے دوران، سنو بال نے فصل کے بیجوں میں بوٹی کے کے بیج ملادیئے تھے۔ ایک بطخا جو اس منصوبے میں ساتھ تھا، اس نے چیخم چاخ کے سامنے جرم قبولا اور فوراً ہی ایک سیاہ مکو کے جان لیوا بیج نگل کر خود کشی کر لی۔ جانوروں کو اب یہ بھی علم ہوا کہ سنو بال کو کبھی بھی (جو کہ ان میں سے کچھ اب بھی سمجھتے تھے کہ ہاں ملا تھا، ) ”نشان الوحوش درجہ اول“ نہیں ملا تھا۔ یہ بس ایک حکایت سی تھی جو کہ ”معرکۂ گاؤتھان“ کے بعد سنو بال نے خود ہی پھیلا دی تھی۔ جبکہ تمغہ ملنے کی بجائے اسے جنگ میں پیٹھ دکھانے پر ملامت کی گئی تھی۔ ایک بار پھر کچھ جانوروں نے اسے حیرت سے سنا، مگر چیخم چاخ جلد ہی انہیں یقین دلانے میں کامیاب رہا کہ ان کا حافظہ انہیں بھٹکا رہا تھا۔

اس سیریز کے دیگر حصےجانور راج: عظیم لیڈر نپولینجانور راج: روفے جٹ کی دغا بازی
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •