کارڈ چور کا قتل، خاتون کانسٹیبل کو تھپڑ، ڈی پی او کو گالیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب کبھی ہندوستاں اور اندلس میں مسلمانوں کے زوال کے بارے میں پڑھا کرتے تھے تو ایک لفظ دماغ میں الجھ جایا کرتا تھا۔ وہ تھا، طوائف الملوکی۔ اکثر ایک فقرہ پڑھنے کو ملتا تھا، ”ہندوستان میں مغلوں کی سلطنت کو زوال آیاتو ملک میں طوائف الملوکی پھیل گئی۔“ طوائف کے معنی سے تو آشنا تھے ہی لیکن اس وقت ہم اس پوری ترکیب کو اسی کا ہم معنی سمجھتے تھے۔ اب پتا تو چل گیا ہے کہ عربی کی اس ترکیب کا اس طوائف سے بظاہر تعلق ہونے کے باوجود کوئی تعلق نہیں لیکن پاکستانی میڈیا، موجودہ سیاست دانوں اور حکمرانوں کو دیکھتے اور پڑھتے وقت ابھی بھی محسوس ہوتا ہے کہ
کعبے سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی

اردو لغت میں تو اس کے معنی آپا دھاپی، سکھا شاہی، لاقانونیت اوربد انتظامی کے ہیں۔ ہمارے ملک میں لا قانونیت اور بدانتظامی توشاید ابھی اس حد تک نہیں پہنچی لیکن ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ ان تمام الفاظ کے تقریباًقریب قریب پہنچ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ لوگوں کی باتوں اور حرکتوں سے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ شاہوں کے محلہ اور ٹبی تھانہ کی اجڑی گلیوں کے سابق باسی منہ میں گلوری، ہاتھوں میں گجرا اور کندھے پر پٹکا ڈالے اتراتے پھر رہے ہیں۔ اگر غور کیا جاے تو بول چال اور رویوں میں تو ہمارے ملک میں شاید طوائف الملوکی اتنی چھا چکی ہے کہ (مشتاق احمد یو سفی کے الفاظ میں ) اس کو دیکھ کر بعض مرتبہ تو یوں لگتا ہے، ”وہ مخلوق جس کا نام اس محاورہ میں آتا ہے، اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے گی۔“

کہنے کو ہم اسلامی جمہوری پاکستان کے معزز شہری ہیں۔ اسلام، جو بول چال رہن سہن اور میل ملاپ میں عاجزی، انکساری، تدبر اور اخلاقیات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ جمہوریت، جس کی ابتدائی شکل کے بارے میں سقراط کہتا ہے کہ ”ایتھنز میں جمہوریت کے بانی سولون اور کلائس تھینز کے ادوار میں ان لوگوں نے ایک اعلیٰ سیاسی نظام تیار کیا تھا۔“ اس کے باسی ایسے نہیں تھے کہ وہ گستاخی کو جمہوریت، لاقانونیت کو آزادی، بدتمیزانہ گفتگو کو آزادی اظہار اور اپنی خواہشات کے مطابق کام کرنے کو اچھا کہتے ہوں۔ بلکہ اس ریاست میں ایسے لوگوں سے نفرت کی جاتی تھی۔ ان کوایسے کاموں کی سزا بھی دی جاتی تھی۔ اور یہ کرنے سے ان کے تمام شہری بہتر اور سمجھدار ہو گئے۔

کہنے کو ہمارے ملک میں جمہوریت ہے۔ جمہوریت کی بنیادقانون کی حکمرانی ہے۔ اس قانون کی دھجیاں ہمارے ہاں تھانوں اور شاہراہوں پر پولیس اور قانون نافذکرنے والے اداروں کے ہاتھوں بہیمانہ قتلوں سے اڑائی جا رہی ہیں۔ لاقانونیت ایسی ہے کہ جب مخالف طاقتور ہو تو پولیس بھی زیر عتاب آجاتی ہے۔ ایس پی کو ڈی چوک میں سڑکوں پر مارا پیٹا جاتا ہے۔ طاقتور اپنی طاقت کے زعم میں اپنے سامنے آنے والے ہر فرد کے ساتھ بدتمیزی کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ کانسٹیبل کو صرف خاتون ہونے کی وجہ سے تھپڑ مارے جاتے ہیں اور ڈی پی او کو ننگی گالیاں سننا پڑتی ہیں۔

منتخب وزرائے اعظم کو عدالت میں بلا کررسوا کیا جاتا ہے۔ شکائیت کرنے والا اور انصاف مانگنے والا جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں کے ساتھ جو سلوک ہورہا ہے وہ قانون کومزید بے بس کر رہا ہے۔ قانون کا قتل قانون کے ہاتھوں سے کروایا جارہا ہے اورجمہوریت کو جمہوریت کے ہاتھوں سے مروایا جارہا ہے۔ یاد رکھیں جب کبھی بھی لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں تو ہمیشہ قانون کا نقصان ہوتا ہے۔ جب قانون ہارتا ہے تو آزادی ختم ہو جاتی ہے، جس سے جمہوریت کمزور پڑجاتی ہے۔ اس کمزوری کو دیکھ کر حکمران ننگی جارحیت پر اتر آتے ہیں اور ان کا ایک ہی مقصد رہ جاتا ہے کہ اپنے ارد گرد ہر دوسری طاقت کو ختم کر دیا جائے۔

لا قانونیت اور بری کمزور حکومتوں کے ادوار میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عام ہو جاتی ہیں۔

محسوس ہو رہا ہے کہ ہم پھر الٹا چلنا شروع ہو گئے ہیں۔ لا قانونیت، انتشار اوربدنظمی بڑھتی جا رہی ہے۔ اور اس کو ہی طوائف الملوکی کہتے ہیں جو اقوام کے زوال کا باعث بنتی ہے۔ ہم بھی اس کے قریب قریب پہنچ رہے ہیں۔

یاد رکھنے والی بات وہی ہے جو ڈھائی ہزار سال پہلے جمہوریت کے بانیوں نے کہہ دی تھی کہ گستاخی کو جمہوریت، لاقانونیت کو آزادی، بدتمیزانہ گفتگو کو آزادی اظہار اور اپنی ذاتی خواہشات کے مطابق کام کرنے کو اچھا نہیں کہا جاسکتا۔

اور یہ بھی یاد رکھیں کہ تاریخ ان لوگوں کے برے انجام سے بھری پڑی ہے جو خود کو قانون سے بالا سمجھتے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •