امرتسر میں، گاٹن گن میں، پاک پتن میں!


حافظ صاحب تلاوت میں مشغول ہوئے۔ ایک رکوع جب ختم ہو گیا تو ان پر حالت جذب طاری ہوئی اور آنکھیں سرخ ہو گئیں اور چہرہ تمتما گیا۔ \"husnainگردن کی رگیں پھول گئیں اور حالت غیظ و غضب میں بازار کی جانب ہاتھ اٹھا کر فرمانے لگے۔ \”ایلو! ایلو وہ مار ڈالا، وہ مار ڈالا، وہ پھانسی دے دیا، وہ پھانسی دے دیا۔ واہ واہ کیا خوب تماشا ہے۔ ایک ایک کو مارے ڈالتا ہے، ایک ایک کو پھانسی دے رہا ہے اور کوئی کچھ نہیں کہتا اور باربٹن صاحب بیٹھے ہوئے تماشا دیکھ رہے ہیں۔\” یہ الفاظ فرما کر حافظ صاحب خود ہی فرمانے لگے، \”بس خاموش رہو۔ تم کو کس نے اذن دیا ہے کہ تم اسرار الہی کا پردہ فاش کرو۔\” یہ کہہ کر حافظ صاحب نے گردن نیچے جھکا لی اور پھر تلاوت میں مشغول ہو گئے۔\’

یہ دلی کی تباہی کی پیش گوئی تھی۔ ایک ولی اللہ، ایک مجذوب جنگ ہوتے دیکھتا تھا اور اسے دور بھگاتا تھا۔

ظہیر دہلوی کے والد بہادر شاہ ظفر کو خوش نویسی سکھاتے تھے۔ تیرہ برس کی عمر میں وہ شاہی دربار میں ملازم ہوئے۔ اس کے سات آٹھ برس بعد اٹھارہ سو ستاون کی لڑائی ہوئی اور دلی ایسی تباہ ہوئی کہ اگلے پچاس سال دلی کے مرثیے کہے گئے، نثر میں تو ابھی تک رونے والے روتے ہیں۔ اس زمانے میں ظہیر دہلوی نے اپنی سوانح لکھی جس میں انہوں نے داستان غدر کے نام سے جنگ آزادی کے حالات بھی بیان کیے۔ یہ واقعہ اسی کتاب کا ہے۔ اس زمانے میں جنگیں تلواروں اور بندوقوں سے ہوتی تھیں۔ بہت اونچے گئے تو جا کر توپ چلا دی۔ ایٹم بم نہیں تھے لیکن دلی اور لکھنو ایسے اجڑے کہ آج تک کہانیاں سننے میں آتی ہیں۔ سمجھنے والے عبرت پکڑتے ہیں، جو نہ سمجھنا چاہیں وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں۔

سن پینسٹھ کی جنگ شروع ہوئی۔ کون سورما شاعر ایسا ہو گا جس نے ملی نغمے اور قومی ترانے نہ لکھے ہوں۔ مادام نور جہاں، خدا انہیں \"faiz-ahmad-faiz-2\"غریق رحمت کرے، جوش و جذبے سے گاتی تھیں۔ صوفی تبسم صاحب نے لکھا کہ لڑنے والے بیٹے دکانوں پر نہیں بکتے۔ یہ گیت ماؤں کے نام لکھا گیا تھا۔ ہم نے کبھی غور نہیں کیا کہ جنگ کا کھیل ہی دراصل ان زنانیوں کی روحوں کو پامال کر کے کھیلا جاتا ہے جن کے بھائی، بیٹے اور شوہر اس میں کام آتے ہیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے، ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ جناب یہ تو ماؤں کے سونے آنگنوں سے پوچھیے کہ بیٹے کس بھاؤ ملتے ہیں اور کون انہیں بیچنا چاہتا ہے۔ سرحدوں کے دونوں طرف جنگ جنگ کھیلنے کا یہ شوق اپنے عروج پر تھا۔ صفدر میر جیسے سکہ بند دانشور ٹرکوں پر چڑھے ہوتے تھے، مائیکرو فون ہاتھ میں ہوتا تھا، عوام کو گرما رہے ہوتے تھے، چلو واہگے کی سرحد پر، چلو واہگے کی سرحد پر۔ سوال اٹھتا ہے کہ صاحب سرحدوں پر جا کر معصوم لوگ اپنی ڈانگوں اور سوٹوں کے ساتھ کیا کر لیں گے؟ خیر جانے والے پھر بھی گئے۔ شہاب نامہ پڑھیے تو آپ کو سبز پوش بزرگوں کی شہادت ملتی ہے جنہوں نے اپنی جھولیوں میں جہازوں سے پھینکے گئے بم کیچ کیے اور انہیں شاید ڈیفیوز کر کے راوی میں پھینک دیا۔ قوم ان بزرگوں کو اگلی دو جنگوں میں ڈھونڈتی ہی رہ گئی۔ کیا ادیب، کیا صحافی کیا تک بند کیا شاعر، سبھی پورے جذبے سے جنگ کے بارے میں بات کرتے تھے، لڑ مرنے کو تیار تھے، آگ کسی کی دوست نہیں ہوتی، وہ جانتے بوجھتے ہوئے یہ سمجھنا نہیں چاہتے تھے۔

ایسے میں انتظار صاحب ایک دن شاکر علی سے ملنے گئے، پوچھا یا حضرت، فلاں شخص یہ شاعری کر رہا ہے، فلاں آدمی وہ رزمیہ لکھتا  \"Shakir\"ہے، آپ وطن کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ رام پور کے شاکر صاحب بہت اطمینان سے کہنے لگے، \”میں چاند پینٹ کر رہا ہوں۔\” انتظار صاحب نے پوچھا یہ کیا معاملہ ہوا، جنگ چھڑی ہے، ترانے لکھے جا رہے ہیں، آپ یہاں بیٹھے چاند پینٹ کرتے ہیں؟ کہنے لگے، چاند سرحد کے دونوں طرف چمکتا ہے۔ اسے دونوں ملکوں کے لوگ دیکھتے ہیں، وہ ہر جگہ اجالا پھیلاتا ہے۔

لکھنے والا اگر چاند کو سرحد کے دونوں جانب چمکتا دیکھنے کا اہل ہو گا تو وہ فیض احمد فیض بن جائے گا۔ جنگ کے دوران فیض صاحب نے ایک لفظ نہیں کہا۔ قادر الکلام تھے، جو چاہتے کہتے، جب چاہتے کہتے۔ ایک نظم نہیں لکھی، ایک غزل نہیں لکھی۔ تئیس ستمبر کو جنگ ختم ہوتی ہے، تیس ستمبر کو ٹھیک ایک ہفتے بعد فیض صاحب نظم کہتے ہیں، سپاہی کا مرثیہ۔

اٹھو اب ماٹی سے اٹھو /جاگو میرے لال / اب جاگو میرے لال /تمری سیج سجاون کارن /دیکھو آئی رین اندھیارن /نیلے شال دو شالے لے کر /جن میں ان دکھین اکھین نے /ڈھیر کئے ہیں اتنے موتی /اتنے موتی جن کی جیوتی /دان سے تمرا /جگ جگ لاگا /نام چمکنے /اٹھو اب ماٹی سے اٹھو /جاگو /میرے لال /اب جاگو میرے لال /گھر گھر بکھرا بھور کا کندن /گھور اندھیرا اپنا آنگن /جانے کب سے راہ تکے ہیں /بالی دلہنیا ، بانکے ویرن /سونا تمرا راج پڑا ہے /دیکھو کتنا کاج پڑا ہے /بیری براجے راج سنگھاسن /تم ماٹی میں لال /اٹھو اب ماٹی سے اٹھو ، جاگو میرے لال /ہٹ نہ کرو ماٹی سے اٹھو ، جاگو میرے لال

سپاہی کا مرثیہ کے عنوان سے یہ نظم ہندی لغت میں کیوں کہی گئی، ماں کی زبانی کیوں کہی گئی؟ فیض جنگ کے بعد مرنے والوں کے\"img_1203\" اعزازات نہیں دیکھ رہے تھے، وہ موت دیکھتے تھے۔ ان ماؤں کے بچوں کی موت جو سرحد کے دونوں طرف تھیں۔ وہ مائیں جن کی تمام عمر کی کمائی کا بدلہ سرکاری اعزازات تھے اور جوان بچے کی لاش تھی۔ سپاہی اہم ہے، زندگی اہم ہے، اعزازات کی وقعت ایک زندگی کے سامنے کیا ہو گی؟ فیض صاحب اس بات کو جانتے تھے کہ اگر وہ جنگ کے دوران کوئی ترانہ یا ملی نغمہ لکھیں گے تو یہ جنگ کو قبول کرنے کی دلیل ہو گا۔ جنگ مسلط ہو سکتی ہے، جنگ لڑی جا سکتی ہے، اپنا دفاع بھی کیا جا سکتا ہے لیکن ذہنی طور پر جنگ کو ایک لحظے کے لیے بھی قابل تعریف نہیں کہا جا سکتا، یہ فیض صاحب جانتے تھے۔ سوچنے والا ذہن ڈائیلاگ کی بات کرتا ہے، وہ ڈائیلاگ جو جنگ کے بعد بھی اسی میز کے گرد بیٹھ کر ہوتے ہیں جہاں پہلے ہو جاتے تو جنگ نہ چھڑتی۔

فیض نے ایک نظم لکھی تھی، قتل عام کا میلہ، پوچھا گیا صاحب یہ کیسی طرح نکالی آپ نے، قتل عام کا تو سوگ منایا جاتا ہے، غم ہوتا ہے، قتل عام میں میلے کہاں سجتے ہیں؟ کہنے لگے نادر شاہ کے حملے میں جب دلی لٹتی تھی تو باہر والے کہتے تھے ارے چلو ذرا دلی ہو آئیں سنا ہے وہاں قتلام کا میلہ لگا ہوا ہے۔ یہ بہت لطیف طنز تھا۔ قتلام کو میلہ سمجھنے والے ہم ہی سب نہیں تو اور کون ہیں۔ جو جنگ کو تماشا سمجھتے ہوں، تمغوں کو موت کا بدل کہیں، جو بے دریغ ہتھیار چلانے کے شوقین ہوں، ایٹم بم کی تباہی دیکھ کر بھی اسے مذاق سمجھیں، وہ ہمی ہیں!

\"paris\"

ذرا یورپ کا رخ کیجیے۔ ساڑھے پانچ کروڑ افراد کی ہلاکت کا سامان کرنے والی دوسری عالمی جنگ میں فرانس اور جرمنی ایک دوسرے کے حریف تھے۔ عین ایسے ہی ہمسائے تھے جیسے ہم ہیں جیسے بھارت ہے۔ جرمنی نے فرانس پر حملہ کرنے میں پہل کی تھی۔ اتحادی فوجیں فرانس آزاد کروا رہی تھیں، جرمن پیچھے تو ہٹ رہے تھے لیکن جنگ کے جوش میں کیے گئے وحشیانہ عمل کا ادراک انہیں ہو چلا تھا۔ وہ جو اپنے ملک کی عظمت کے گن گاتے تھے، وہ شدید احساس جرم میں تھے اور چاہتے تھے کہ کسی بھی طرح باعزت طریقے سے اس معاملے کو ختم کریں۔

باربرا ایک یہودی لڑکی تھی۔ یہودیوں سے جتنی نفرت ہمیں پڑھائی جاتی ہے جرمنی والے اس سے کئی گنا زیادہ نفرت کرتے تھے۔ جرمن فوجیں جب فرانس میں آئیں تو یہودیوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ وہ غریب گھر سے بے گھر ہوئے، پہلے کیمپوں مین دھکیلے گئے۔ وہاں بھی جان کی امان نہ پائی تو بھاگ کر جنگلوں میں جا چھپے۔  جانوروں کے ساتھ جی لیں گے، گھاس کھائیں گے، کسی کے قدموں کی آہٹ سنیں گے تو خوفزدہ چڑیوں کی طرح بھاگ نکلیں گے۔ یہ نفرت کی آگ تھی اور وحشت کا کھیل تھا۔ ننھی باربرا کو بھی ماں باپ کے ساتھ دس سے بارہ برس کی عمر میں کئی ٹھکانے بدلنے پڑے۔ اس دوران اسے کئی اخلاقی اور جسمانی اذیتیں بھی سہنی پڑیں۔ اس کی روح گھائل تھی، دماغ تکلیف میں تھا۔ جنگ ختم ہوئی تو اس نے موسیقی سیکھنی شروع کر دی۔ اپنے اندر کا تمام درد اس نے اپنے گانوں میں منتقل کر دیا۔ یہ بات کافی فلمی سی لگے گی لیکن اس لڑکی کے معاملے میں ایسا ہی تھا۔ وہ ہمیشہ کالے کپڑوں میں گاتی تھی۔ اس کے گانے گم شدہ محبتوں، کھوئے ہوئی خوشیوں کی یاد میں ہوتے تھے۔

جنگ کو ختم ہوئے بیس برس گزر چکے تھے۔ دونوں ملک قریب آنا چاہتے تھے۔ خیرسگالی وفود کے دورے چل رہے تھے۔ امن کی تاریخ میں یاد رکھی جانے والی تقاریر ہو رہی تھیں۔ وہ ڈیگال جسے جنگ کے دوران جرمنی نے فرانس سے جلا وطن کیا تھا، وہی ڈیگال اب فرانس میں واپس آ چکا تھا۔ وہ بھی امن کی بات کرتا تھا۔ وہ بھی دوستی کی بات کرتا تھا۔ باربرا فرانس کی حد تک ایک جانی پہچانی گلوکارہ تھی۔ باربرہ بھی جرمنی کے ظلم و ستم اور نفرت کا شکار رہی تھی۔ باربرہ اسی برس، 1967 میں جرمنی آئی، ایک گانا گانے کے لیے۔ وہ گانا دوستی کا بڑھا ہوا ایک ہاتھ تھا۔ وہ گانا جنرل ڈیگال کی تقریر پر بھی بازی لے گیا۔ وہ گانا امن کا گانا تھا۔ اس تناؤ بھرے ماحول میں وہ گانا بلبل کی چہکار بن کر ابھرا اور باربرا کو امر گیا۔  (یہاں1967 میں گایا گیا ریکارڈ سن سکتے ہیں )

یہ گیت جرمنی کے شہر گاٹن گن میں گایا گیا۔ فرانسیسی اور جرمن دونوں زبانوں میں باربرا نے اسے گایا اور اسے سننے والوں میں دونوں \"barbra\"ممالک کے موجودہ اور آئندہ لیڈر شامل تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ گانا اس قدر پراثر تھا کہ دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات میں اس ایک گانے نے بہت بڑا کردار ادا کیا۔ تو پھر فرانس کی اس یہودی لڑکی کو جرمنوں نے بہت پیار دیا، بہت عزت دی۔ اس کے نام سے ایوارڈ جاری کیے گئے۔ فرانس میں کئی سڑکیں اس کے نام سے منسوب کی گئیں، 1997 میں اس کی موت پر اس کے نام کا ایک یادگاری ٹکٹ چھاپا گیا اور ڈھائی تین لاکھ افراد اس کے جنازے میں موجود تھے۔ وہ لڑکی شاید انسانی تاریخ کا سب سے زیادہ پر اثر گانا گا گئی۔ گانے کا ترجمہ دیکھیے؛

مان لیا یہ فرانس کا دریا سین نہیں ہے

فرانس کا جنگل واں شاں بھی یہ ہو نہیں سکتا

مگر یہ خوب صورت ہے بہت ہی خوب صورت ہے

یہ کتنا خوب صورت ہے

گاٹن گن میں، یہاں گاٹن گن میں

یہاں دریاؤں کے گھاٹ نہیں ہیں اتنے چوڑے

یہاں گیتوں کے سب سر بھی کچھ انجانے سے ہیں

یہاں برہا کی وہ کوک نہیں ہے ہردے میں

جو بھیتر میں کہیں دور ہی دور ڈوب چلی ہو

پیار کا پھول تو پھر بھی دیکھو کھل جاتا ہے

گاٹن گن میں، اسی گاٹن گن میں

جانتے بھی ہم سب کچھ ہیں اور دیکھ رکھا ہے\"barbara2\"

شاہوں کی تاریخ بھی ہم نے پڑھ رکھی ہے

میرے ہرمن نے، میرے پیٹر نے

میری ہیلگا نے، میرے ہانز نے

گاٹن گن میں، یہاں گاٹن گن میں

بات یہ اتنی بری نہیں ہے سنتے جائیں

بچپن میں جتنے بھی قصے ہم نے سنے تھے

دادی اماں شروع میں بس یہ ہی کہتی تھیں

ایک دفعہ کا ذکر ہے بچو

گاٹن گن میں، اسی گاٹن گن میں

مانتے ہیں بھئی فرانس کو دریا سین ملا ہے

فرانس کا جنگل واں شاں بھی بے طرح گھنا ہے

میرے خدایا گلاب تو لیکن یہیں کھلے ہیں

گاٹن گن میں، یہاں گاٹن گن میں

ان کی بھاشا ان کی بولی میں نہ سمجھوں

مگر یہ جب مجھ کو کچھ بھی سمجھا نہیں سکتے

بھورے بالوں والے یہ پیارے سے بچے

تو ننھی سی معصوم ہنسی یہ ہنس دیتے ہیں

گاٹن گن میں، اسی گاٹن گن میں

بات یہ کہنی مجھ کو مشکل سی لگتی ہے

کوئی بہت ہی چھپا ہوا سا اک دشمن ہے

جسے نہیں معلوم کہ بچے سانجھ ہیں سب کی

پیرس میں بھی یارو اور گاٹن گن میں

اسی گاٹن گن میں

ہاتھ اٹھائیں اور ذرا یہ بینتی کر لیں

آگ کے شعلے اب نہ سلگیں اب نہ بھڑکیں

لہو کا دریا ان گلیوں سے دور رہے

جن گلیوں میں ساجن ہمرے رہتے ہیں

گاٹن گن میں، میرے گاٹن گن میں

اب کوک نہ اٹھے برہا کی سب دعا کرو

اب ہم بندوق اٹھائیں نہ یہ دعا کرو

اب ہم ہتھیارے نہ کہلائیں، دعا کرو

میرے دل میں پیت بسی ہے لوگو

گاٹن گن کی، اسی گاٹن گن کی

\"masood

دیکھو یہاں سب کتنا سندر کتنا موہن ہے

گاٹن گن میں، یہاں گاٹن گن میں

امن کا یہ لازوال گیت پڑھتے ہوئے شاعر بے مثل مسعود منور کا ایک شعر دیکھیے اور سر دھنیے؛

پاک پتن سے راکھی جائے امرتسر میں بھائی کو

میں مسعود چناب کا بیٹا گنگا تٹ پہ گیت لکھوں

Facebook Comments HS

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 502 posts and counting.See all posts by husnain