اسلامی ریاست۔ بنیادی خدو خال

ابنِ خلدون کو عمرانیات کا باوا آدم کہا جاتا ہے۔ اپنے شہرہ آفاق ”مقدمہ تاریخ“ میں انہوں نے جہاں تاریخ، معیشت، جغرافیے، سیاست اور دیگر علوم و فنون وغیرہ سے بحث کی ہے وہیں اسلامی ریاست اور خلافت پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ ابنِ خلدون کے بقول ”اسلامی ریاست سے مراد ایک ایسی ریاست ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی جانشینی میں شریعت کے نفاذ اور دنیاوی معاملات کے تحفظ کے لیے قائم کی جائے۔“ ابنِ خلدون لکھتے ہیں :

”فھی فی الحقیقۃ خلافۃ عن صاحب الشرع فی حراسۃ الدین و سیاسۃ الدنیا بہ۔“ (مقدمہ ابنِ خلدون، باب: 3، فصل: 25 فی معنی الخلافۃ و الامامۃ)

سیکولر ریاست کا جو تصور آج مغربی دنیا اور اس کے توسط سے دنیا بھر میں پایا جاتا ہے یہ دیگر تمام مذاہب کے لیے قابلِ قبول ہے۔ اس لیے کہ یہ مذاہب مکمل ضابطہ حیات نہیں بلکہ پند و موعظت اور چند عبادات و اخلاق کے مجموعے کا نام ہیں۔ ان کا تجارت و معیشت سے لے کر سیاست و حکومت تک زندگی کے اکثر شعبوں سے عملاً کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسی وجہ سے ان مذاہب کے پیرو کار جب اپنے مذہب کو سیاسی معاملات میں دخیل کرتے ہیں تو یورپی تھیوکریسی، برما اور ہندوستان جیسی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔

لیکن اسلام کا معاملہ یکسر مختلف ہے۔ یہاں حکومت اور مذہب کی دوئی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ معیشت اور دین کی راہیں جدا جدا نہیں ہیں۔ عدالتی قوانین اور شریعت ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں۔ اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے ایک ہاتھ میں جامِ شریعت اور دوسرے ہاتھ میں سندانِ عشق تھام کر دین اور دنیا کے حسین امتزاج کو عالمِ بشریت کے سامنے پیش کیا۔

ڈاکٹر محمود احمد غازی کے بقول ”دنیا میں ہر جگہ پہلے ریاست بنائی گئی پھر اس کو چلانے کے لیے قانون مرتب کیا گیا لیکن اسلام نے اس کے برعکس منظر نامہ پیش کیا۔ یہاں کتاب و سنت کا قانون پہلے سے موجود ہے۔ اسے لاگو کرنے کے لیے ریاست قائم کی جائے گی۔ یہاں ’قانون برائے ریاست‘ کی بجائے ’ریاست برائے قانون‘ کا اصول کار فرما ہے۔“

دنیاوی معاملات سے وابستہ قوانین کو اسلام نے محض ایک انتظامی مصلحت اور مشورے کے طور پر ہر گز پیش نہیں کیا کہ چاہو تو اختیار کر لو، چاہو تو چھوڑ دو۔ بلکہ اسلامی تعلیمات کی رو سے ایک اسلامی ریاست کا قیام اور شرعی قوانین کا نفاذ ایک اہم ترین دینی ذمہ داری اور فرض عبادت ہے۔ جس کی ادائیگی کے متعلق ہم اللہ کی بارگاہ میں جواب دہ ہیں۔

مثلاً قرآن مجید ایک مسلمان حکومت سے جن قوانین کے نفاذ کا مطالبہ کرتا ہے ان میں سے دو مندجہ ذیل ہیں :

(1) ”اور جو مرد چوری کرے اور جو عورت چوری کرے، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو تاکہ انہیں اپنے کیے کا بدلہ ملے اور اللہ کی طرف سے عبرت ناک سزا ہو۔ “ (المائدۃ۔ 37 )

(2) ”زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد، دونوں کو سو سو کوڑے مارو۔ اور اگر تم اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اللہ کے دین کے معاملے میں اِن پر ترس کھانے کا کوئی جذبہ تم پر غالب نہ ہو۔“ (النور۔ 2 )

ان شرعی حدود کے نفاذ کا مطالبہ کس قدر تاکید کے ساتھ اور پر زور الفاظ میں کیا جارہا ہے وہ مذکورہ بالا آیات سے بالکل واضح ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ قوانین اتنے عزیز تھے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ” اللہ کی قائم کردہ حدود (شرعی سزاؤں ) میں سے کسی ایک حد کا نافذ کرنا اللہ کی زمین پر چالیس رات بارش برسنے سے بہتر ہے۔“ (ابن ماجہ)

لیکن اگر اس کے باوجود بھی ہم چوری اور بد کاری کی متبادل سزائیں تجویز کرتے ہیں تو ہمیں قرآنِ مجید کی مندرجہ ذیل آیات کی روشنی میں اپنے مقام کا تعین کر لینا چاہیے: ”اور جو لوگ اللہ کے اتارے گئے احکامات کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے تو یہی لوگ کافر ہیں۔ “ ”اور جو لوگ اللہ کے اتارے گئے احکامات کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے تو یہی لوگ فاسق ہیں۔ “ ”اور جو لوگ اللہ کے اتارے گئے احکامات کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے تو یہی لوگ ظالم ہیں۔“ (المائدۃ۔ 44، 45، 47 )

اسی طرح اگر ایک مسلمان اپنی انفرادی تجارت یا حکومت اپنی قومی معیشت کو سود سے پاک نہیں کرتی تو قرآن ان الفاظ میں ان سے خطاب کرتا ہے: ”اور اگر تم پھر بھی (سود سے ) باز نہ آئے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ سن لو۔“

لہذا جن لوگوں کا خیال ہے کہ 95 فی صد مسلم اکثریتی ملک میں رہ کر بھی ہم شرعی قوانین کے نفاذ کے بغیر سیکولر ازم کے سائے میں رہ کر تمام دینی فرائض کو بخوبی ادا کر سکتے ہیں اور اسی میں مسلمانوں کی ”فلاح کا راز“ مضمر ہے، وہ غالباً بہت سے قرآنی احکامات اور دینی حقائق سے نابلد ہیں۔

اسلام کے نزدیک اقتدارِ اعلی کا مالک اللہ تعالی ہے۔ حاکمِ وقت کی حیثیت ایک خلیفہ، نائب اور وائسرائے کی سی ہے۔ اسے اللہ کے کسی حکم کی خلاف وزی کرنے کا کوئی حق نہیں۔ ہاں شریعت کی حدود میں رہ کر وہ ترقی اور بہتری کی ہر ممکن کوشش کر سکتا ہے (اور یہ حدو قطعاً تنگ نہیں ہیں )۔ یہیں سے جدید سیکولر جمہوریت اور قدیم کلیسیائی تھیوکریسی کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ تھیو کریسی پوپ کو پورے پورے خدائی اور پیغمبرانہ اختیار دیتی ہے اور اسے بندے اور خدا کے درمیان ناگزیر واسطے کے طور پر پیش کرتی ہے جب کہ اسلام میں اہلِ علم کی حیثیت صرف اور صرف کتاب و سنت اور جمہور امتِ مسلمہ کی دینی تعبیر و تشریح کے ترجمان کی سی ہے۔ اصل اتھارٹی اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہیں۔ ترجمانی کے اس منصب کے حصول کے لیے صرف علم و عمل شرط ہیں۔ باقی مرد و زن کی کوئی قید ہے، نہ پاپائے اعظم کے اجازت نامے کی ضرورت۔

دوسری طرف مغربی جمہوریت نے طاقت کا سرچشمہ عوام اور صرف اور صرف عوام کو قرار دیا ہے۔ اسلام جمہوری جذبات کا قطعاً منکر نہیں بلکہ بقول قائدِ اعظم ”مسلمان تو اپنے مذہب میں بھی جمہوری طرزِ عمل کے خوگر ہیں۔“ وہی دینی تشریح و تعبیر معتبر ہے جسے جمہور کی تائید حاصل ہو۔ لیکن مغربی جمہوریت کے برعکس یہاں ان الحکم الا للہ کا نظریہ بھی کار فرما ہے۔ غازی صاحب کے بقول ”وہاں 100 میں 51 لوگ جس قانون کی حمایت یا مخالفت کردیں، تو اس کا نفاذ یا خاتمہ یقینی ہے۔ جب کہ اسلام کے نزدیک حق بات حق ہے خواہ پوری دنیا اس کی مخالفت کرے اور باطل بہر صورت باطل ہے اگرچہ اس کے قصیدے گلی گلی کوچہ کوچہ، زبان زد عام ہو جائیں۔ اسلام کسی نام نہاد غیر جانب داری کا قائل نہیں۔“

اکثریت ہو یا اقلیت ان کے جائز مطالبات کو ضرور مانا جائے گا لیکن خدائی احکامات کے مقابلے میں اکثریت کے مطالبے کو قانون کا درجہ دینے کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس روش پر قرآن یوں تبصرہ کرتا ہے : ”اور اگر حق ان کی خواہشات کے تابع ہو جائے تو زمین و آسمان اور ان میں بسنے والے سب برباد ہو جائیں۔“ (المومنون۔ 71 )

لیکن اس بربادی کو محسوس کرنے والے دل کہاں سے آ ئیں۔ قرآن کے آئینہءِ حقیقت نما کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی باطنی بیماریوں کی طبی تفصیلات کو جاننے کی مشقت کون اٹھائے۔ اس سے کہیں زیادہ آسان کام یہ ہے کہ تکفیری، متشدد اور قدامت پسند کا شور مچایا جائے اور معاشی پالیسی کی شرعی حیثیت پر گفتگو کرنے والے ممبر قومی اسمبلی عبد الاکبر چترالی کی تقریر کے عین درمیان شازیہ مری کو دعوتِ خطاب دے دی جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words