جمہوریت کے موسمی نقیب کہاں چلے گئے؟

ہمارے ہاں کالم نگاروں، صحافیوں اور دانش وروں کی ایک پوری کھیپ تھی جس نے دور عمرانی میں جمہوریت کی جنگ لڑی۔ یہ لوگ ان دنوں جالب کی نظمیں پڑھتے تھے اور فیض کی ”ہم دیکھیں ہیں“ پر دھمال ڈالا کرتے ہیں۔ ان میں احراریوں جیسی سرکشی اور خاکساروں جیسی شوریدہ سری امڈ آئی تھی۔ بعض نے تو خاکی لباس بھی پہن لیا تھا۔ جب کچھ سیاست دان خلائی مخلوق کو کوسنے دیا کرتے تھے تو یہ ان کی تائید

Read more

عمران خان کے بعد

خرید و فروخت کا بازار گرم ہے۔ وفاداریاں مال تجارت کی طرح بک رہی ہیں، لوگ قول و قرار سے ایسے پھر رہے ہیں جیسے زبانیں ان کی اپنی نہ ہوں بلکہ کسی نے زبردستی منہ میں ٹھونس دی ہوں۔ وہ حادثہ جو گزشتہ ساڑھے تین برس سے چپکے چپکے پرورش پا رہا تھا اب گبھرو جوان ہو کر دارالخلافہ کے آنگن میں آن کھڑا ہوا ہے۔ دور تک ساتھ چلنے کا وعدہ کرنے والے ہواؤں کے رخ کے ساتھ

Read more

طالبان حکومت اور غامدی صاحب: آتے ہیں غیب سے یہ ”فتاویٰ“ خیال میں

بالآخر افغانستان کے مسئلے پر بیس سال تک خاموش رہنے والی زبان کھل ہی گئی۔ مسلسل اعراض برتنے والی نگاہیں زکٰوۃ التفات دینے کے لیے آمادہ ہو ہی گئیں۔ غامدی صاحب بولے اور ایسے دبنگ، بے دھڑک اور جارحانہ لب و لہجے کے ساتھ کہ ان کی گفتگو میں آج سے پہلے ہمیں اس قدر تلخی اور درشتی کا تجربہ نہیں ہوا۔ یقیناً سانحہ جتنا بڑا ہوتا انسان کو صدمہ بھی اتنا ہی شدید پہنچتا ہے اور صدمے کی شدت

Read more

طیب اردوان! تم اپنی محبت واپس لو

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ طیب اردوان پاکستانی قوم کے ذہنوں میں چھٹے خلیفۂ راشد کا درجہ پا چکے تھے۔ ہم سب کو ان کی شخصیت میں صلاح الدین ایوبی کا پرتو نظر آتا تھا۔ ان کے بارے میں ہمارے تصورات اس دیومالائی شہزادے کے سے تھے جو ایک دن طلسمی اڑن کھٹولے پر آئے گا اور امت مسلمہ کی شہزائی کوہ قاف کو ظالم دیو کے پنجے سے چھڑا کر اپنے ساتھ عالمی قیادت و امامت کی سیج پر لے جائے گا۔ اقصی کا محافظ، شام کا رکھوالا، محمد فاتح کا جانشین اور مسلمانوں کے دلوں کا بے تاج خلیفہ (نہ کہ بادشاہ) اور نہ جانے کیا کیا کچھ۔

Read more

ہمارے شعری ذوق کو زوال کیوں آ رہا ہے؟

میر تقی میر کی زندگی کا آخری دور تھا۔ ان کی عظمت کا ستارہ بام عروج پہ پہنچا ہوا تھا۔ معاصرین انہیں ”خدائے سخن“ تسلیم کر چکے تھے۔ دلی آنے والے ان کی غزلیں بطور سوغات ساتھ لے کر جاتے۔ اگر وہ اپنے منہ سے کسی شاعر کے حق میں تعریف کا ایک جملہ بول دیتے تو یہ اس شاعر کے لیے فضل و کمال کی مستند سند اور زندگی بھر کا طرۂ امتیاز بن جاتا۔ ایک دفعہ شیخ مصحفی سے ان کی غزل کا ایک شعر دوبارہ سنانے کی فرمائش کی تو شیخ مصحفی نے اسے اپنے لیے اتنی بڑی سعادت سمجھا کہ اٹھ کر بار بار میر کو سلام کیا اور کہا: ”دیوان چھپے گا تو اس شعر کے بارے میں لکھوں گا کہ حضرت نے دوبارہ سنا تھا۔“

Read more

ایم ٹی جے کا ناڑا اور قوم کی شلواریں

بند قبا ڈھیلی پڑ چکی ہے اور منہ زور ہوائیں مسلسل چل رہی ہیں۔ بے ستری کا زمانہ عام ہے اور ہر طرف برہنگی کو دور دورہ ہے۔ ایک ناڑے نے آدھی قوم کو ننگا کر کے رکھ دیا۔ مبشر زیدی سے لے کر رعایت اللہ فاروقی اور اسلم تک ”محققین“ کے اخلاقیات کے ستر کھل گئے۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان وہ ملک ہے جہاں فحش مواد سب سے زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ اس تلخ حقیقت کی تائید موجودہ

Read more

گورکن: خلیل جبران کے عربی افسانے کا اردو ترجمہ

سایۂ زیست کی وادی میں جہاں ہر طرف کھوپڑیوں اور ہڈیوں کے ڈھیر لگے تھے میں میلوں تنہا چلتا رہا۔ ہر طرف گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ دھند کے بادلوں نے ستاروں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اور رات کے پر اسرار سکوت میں خوف اور دہشت کے عفریتوں کا خاموش اور بے آواز رقص جاری تھا۔ میں دریائے اشک و لہو کے کنارے پر جا کر کھڑا ہو گیا۔ جس کی لہریں چتکبرے سانپ کی طرح

Read more

کشمیر کا تین سالہ عیاد جہانگیر اور شام کا تیرہ سالہ بچہ محمد

ان دونوں کہانیوں کا پلاٹ ایک دوسرے سے مختلف ہے، جغرافیائی اور زمانی اعتبار سے یہ جدا جدا ہیں۔ لیکن ان کی روح اور باطن ایک ہی ہے۔ ان دونوں کا تعلق ایک ایسی امت سے ہے جس کے فرزند دنیا بھر میں اپنی بقا، اپنی شناخت اور اپنے وطنوں کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ دو معصوم اور مظلوم بچوں کی کہانیاں ہیں۔ جن میں سے ایک کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہے اور اس کی عمر تین برس ہے جب کہ دوسرا ایک شامی مہاجر ہے، جو لبنان میں اپنی والدہ کے ساتھ پناہ گزین ہے اور اس کی عمر تیرہ برس ہے۔

کشمیری بچے کا قصہ دو دن پرانا ہے جب کہ شامی بچے کی کہانی دو سال پرانی ہے۔ لیکن دنیا والوں کو یہ دونوں واقعات ایک ہی وقت یعنی جولائی 2020 ء کے آغاز میں معلوم ہوئے۔ دونوں کی کہانی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز کے ذریعے لوگوں کو پتہ چلی۔ ایک کی ویڈیو نے اردو بولنے والوں کا کلیجہ چھلنی کیا۔ دوسرے کی ویڈیو سے عربی جاننے والوں کا جگر لخت لخت ہوا۔ میری بد نصیبی کہ مجھے دونوں کا کرب اور الم سہنا پڑا۔

Read more

مظلوم مصر محمد مرسی شہید کی یاد میں

24 جون 2012 ء کو قاہرہ کے تحریر چوک میں لاکھوں افراد جمع تھے۔ یہ لوگ مصر کی تاریخ کے پہلے آزادانہ صدارتی انتخابات کے منصفانہ نتائج سننے کے لیے بے تاب تھے۔ تھوڑی ہی دیر بعد نتیجے کا اعلان ہوا کہ ڈاکٹر محمد محمد مرسی عیسی العیاط 51 اعشاریہ 73 فی صد ووٹوں کے ساتھ فاتح قرار پائے ہیں اور مصر کی تاریخ کے پہلے (اور تا حال آخری) منتخب جمہوری صدر کا قرعہ فال ان کے نام نکل

Read more

میں نے صلاحیتوں کو نشے کی بھینٹ چڑھتے دیکھا ہے

اس کا تعلق ایک انتہائی غریب گھرانے سے تھا۔ لیکن سچائی، نیکی اور حسن پر کسی کا اجارہ تو نہیں۔ گدڑیوں کو ٹٹولو تو وہاں سے بھی لعل برآمد ہو جاتے ہیں۔ وہ ایک انتہائی ذہین، قابل، محنتی اور باصلاحیت نوجوان تھا۔ اس کا شمار اپنے علاقے کے چند ہونہار ترین لڑکوں میں ہوتا تھا۔ شہر بھر میں اس کی مثالیں دی جاتی تھیں اور والدین اور اساتذہ اپنے بچوں کو اس جیسا بننے کی تلقین کیا کرتے۔ وہ اپنی

Read more

بے حیائی اور وبائیں ۔۔ یاسر پیر زادہ کے کالم کے جواب میں

29 اپریل 2020 ء کو یاسر پیر زادہ صاحب نے ”بے حیائی، وبائیں اور ہماری سزا“ کے عنوان سے ایک کالم تحریر کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالی کی طرف کی دنیا میں قوموں پر عذاب اس وقت آتا ہے جب وہ کسی پیغمبر کو جھٹلاتی ہے۔ ”اللہ نے آخری مرتبہ اپنا عذاب مشرکین مکہ پر نازل کیا جس کی وعید اللہ کے آخری نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دی،

Read more

مقدس میڈیا اور پاک دامن صحافی

یہ لوگ خود صبح سے لے کر شام تک پوری قوم کو بدعنوان، کاہل، بے کار اور غیر ذمہ دار ہونے کا طعنہ دیتے رہتے ہیں۔ ان کا ہر تیسرا کالم عوام کو کوسنے دینے اور روز افزوں سماجی بگاڑ، معاشی تنزل اور قومی انحطاط کی دہائی پر مشتمل ہوتا ہے، ان کے کالموں کا عنوان اکثر ”ہم دنیا کی سب سے ۔۔۔ قوم ہیں“ کا فقرہ ہوتا ہے جس میں خالی جگہ کو کنایۃً کسی طنزیہ یا صریح کاٹ

Read more

مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا بیان اور خواجہ آصف کا ”تاریخ ساز“ ٹویٹ

18 اپریل کو مفتی تقی عثمانی صاحب نے جیو نیوز کے پروگرام ”نیا پاکستان“ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہءِ صحت کی طرف سے رمضان کے حوالے سے جاری کردہ خصوصی ہدایت نامے میں بھی چونکہ تین فٹ فاصلے کی تجویز دی گئی ہے لہذا حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں بھی ہم نے یہی طے کیا ہے کہ دو نمازیوں کے درمیان تین فٹ کا فاصلہ ہو گا۔ البتہ دو صفوں کے درمیان چھ فٹ کا

Read more

ابنِ صفی کے ناول ”وبائی ہیجان“ سے حقیقی وبائی ہیجان تک

ابنِ صفی اردو جاسوسی ناول نگاری کا ایک زندہ و جاوید نام ہیں۔ انہوں نے جاسوس نگاری کے میدان میں ایک ایسی روایت قائم کی کہ ان کے بعد آنے والے ہر لکھاری نے ان کی تقلید کرنے کو اپنے لیے باعثِ افتخار سمجھا۔ حتی کہ اشتیاق احمد مرحوم جیسے عہد ساز بچوں کے ادیب بھی ابنِ صفی کو اپنا غائبانہ استاد کہا کرتے تھے۔ اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے اپنے استاد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے

Read more

ذہنی، فکری اور اخلاقی وبائیں

حوزے سارا ماگو پرتگال کے ایک ناول نگار تھے۔ 1995 ء میں انہوں نے ”اندھا پن“ کے عنوان سے ایک ناول لکھا۔ یہ ناول بے حد مقبول ہوا۔ دنیا کی متعدد زبانوں میں اس کے تراجم ہوئے۔ فلمیں بنیں۔ 1998 ء میں اسے نوبل انعام سے نوازا گیا اور عالمی ادب کے سو بہترین ناولوں میں جگہ دی گئی۔

یہ ناول ایک شہر میں پھیلنے والی سفید اندھے پن کی وبا کی کہانی سناتا ہے۔ اس شہر کے لوگ اچانک سفیداندھے پن میں مبتلا ہونے لگتے ہیں۔ یکے بعد دیگرے ہر کسی کی بینائی ضائع ہوتی چلی جاتی ہے اور ان کی آنکھوں کے سامنے سفید رنگ کی دیوار حائل ہو جاتی ہے۔

Read more

جمہوریت کے جنازے میں شریک ہو کر ثوابِ دارین حاصل کریں

بل کا مسودہ تیار ہو چکا ہے۔ اب وسیع ترملکی مفاد میں آرمی چیف کی مدت میں کی جانے والی تین سال کی توسیع اور پھر تین سال کی توسیع اور توسیع در توسیع کو کوئی ”ملک دشمن“ کسی عدالت میں چیلنج نہیں کر سکے گا۔ اب کسی ”انڈین ایجنٹ“ کی یہ ہمت نہیں ہو گی کہ وہ آگے بڑھ کر یہ سوال کر سکے کہ ”صاحبو! کیا ہمارے ادارے اتنے بانجھ ہو چکے ہیں کہ ایک سربراہ کی مدتِ

Read more

ہم سب میدان حشر میں کھڑے ہیں۔

عام طور پر جمہوری نظامِ حکومت کا ذکر کرتے ہوئے سقراط اور افلاطون کو یاد کیا جاتا ہے اور افلاطون کی کتاب ”ریاست“ (ریپبلک) کا بکثرت حوالہ دیا جاتا ہے کہ یہ جمہوریت کے موضوع پر لکھی گئی پہلی کتاب ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ”ریپبلک“ ایک دلچسپ اور ”اوریجنل“ قسم کی کتاب ہے جو انسانی تاریخ کے ایک عبقری دماغ کے فلسفیانہ تدبر اور ادیبانہ طرزِ انشا کا شاہکار ہے۔ یہ کتاب تعلیم و تربیت، اخلاقیات اور

Read more

اسلامی ریاست اور سیکولر ازم: وجاہت مسعود صاحب کی خدمت میں

میرے جیسے کندہ ناتراش کے لیے یہ بہت مشکل اور بڑی جسارت کی بات ہے کہ ان کے کالم کے جواب میں تحریر لکھوں کیوں کہ ان کے سامنے میری حیثیت طفل مکتب کی سی بھی نہیں ہے۔ لیکن مجھے پورا یقین ہے کہ وہ اس صداقت کے قائل ہوں گے کہ نظریات و عقائد کی دنیا میں شخصی عظمت اور بلند قامتی سے زیادہ دلیل کی قوت اور صداقت کو دیکھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں عمومی رجحان یہ ہے

Read more

اسلامی ریاست۔ بنیادی خدو خال

ابنِ خلدون کو عمرانیات کا باوا آدم کہا جاتا ہے۔ اپنے شہرہ آفاق ”مقدمہ تاریخ“ میں انہوں نے جہاں تاریخ، معیشت، جغرافیے، سیاست اور دیگر علوم و فنون وغیرہ سے بحث کی ہے وہیں اسلامی ریاست اور خلافت پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ ابنِ خلدون کے بقول ”اسلامی ریاست سے مراد ایک ایسی ریاست ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی جانشینی میں شریعت کے نفاذ اور دنیاوی معاملات کے تحفظ کے لیے قائم کی جائے۔“ ابنِ

Read more

جب بارش آتا ہے

کراچی میں مقیم دو دوستوں کے درمیان اس بات پر جھگڑا ہو گیا کہ پانی مذکر ہے یا مؤنث؟ ایک دوست (جس کا تعلق خیبر پختون خوا سے تھا) اس کا کہنا تھا کہ پانی بہتی ہے جب کہ دوسرا دوست (جس کا تعلق پنجاب سے تھا) اس کا کہنا تھا کہ پانی بہتا ہے۔ بالآخر طے یہ ہوا کہ فیصلے کے لیے کسی اہلِ زبان کی خدمات حاصل کی جائیں۔ وہ جس گلی میں رہائش پذیر تھے اس کی نکڑ پر دلی سے ہجرت کر کے آئے ہوئے ایک بزرگ کا گھر تھا۔ دونوں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:

”بابا جی! پانی بہتی ہے کہ بہتا ہے؟“

Read more

جونؔ ایلیا کے رفیق خاص خالد احمد انصاری سے ایک یادگار ملاقات

خالد احمد انصاری 1991 سے 2002 تک اردو کے مقبول عام شاعر جونؔ ایلیا کے خاص حلقہ احباب میں شامل رہے۔ جونؔ ایلیا کی وفات کے بعد ان کے بکھرے ہوئے کلام اور تحریروں کو جمع کرکے چار شعری مجموعوں ”گمان“، ”لیکن“، ”گویا“ اور ”راموز“ اور نثری مجموعہ ”فرنود“ کی شکل میں خالد احمد انصاری ہی نے شائع کروایا۔ ڈیڑھ سال قبل جنوری 2018 ہمارا کراچی جانا ہوا تو ان سے ملاقات ہوئی۔ ایک گھنٹے کی اس ملاقات میں جونؔ

Read more

پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کا مطالبہ ۔ زمینی حقائق کے تناظر میں

آپ سیکولر ازم کی جو بھی تشریح کرتے ہیں اور جس ڈکشنری کی تعریف کو بھی معتبر مانتے ہیں کم از کم یہ بات طے ہے کہ سیکولر ریاست وہ ہے جہاں مذہب کارِ سرکار میں مداخلت نہ کرے بلکہ اسے لوگوں کا ایک نجی مسئلہ شمار کیا جائے۔ جب ہم پاکستان کو مذہبی ریاست کی بجائے ایک سیکولر ریاست بنانے کی بات کرتے ہیں تو چونکہ ہندو، سکھ یا عیسائی ریاست بننے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

Read more

خطبہ حج کی عالمِ اسلام کے موجودہ حالات سے لاتعلقی

حج کا خطبہ سننے کے بعد میں نے ہیڈ فون کانوں سے نکال کر ٹیبل پر رکھ دیے۔ لیپ ٹاپ بند کردیا اور اس پرچے کو پڑھنا شروع کر دیا جس پر میں نے امام حج الشیخ محمد بن الحسن آل الشیخ کے خطبہءِ حج کے نکات درج کیے تھے۔ آں جناب کا خطبہ فصیح و بلیغ عربی پر مشتمل تھا۔ آواز بڑی یونیک اور خطیبانہ تھی۔ قرآن و حدیث کے موتی پہ در پہ بکھیرتے چلے گئے۔ ساری تقریر

Read more