ان دونوں کہانیوں کا پلاٹ ایک دوسرے سے مختلف ہے، جغرافیائی اور زمانی اعتبار سے یہ جدا جدا ہیں۔ لیکن ان کی روح اور باطن ایک ہی ہے۔ ان دونوں کا تعلق ایک ایسی امت سے ہے جس کے فرزند دنیا بھر میں اپنی بقا، اپنی شناخت اور اپنے وطنوں کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ دو معصوم اور مظلوم بچوں کی کہانیاں ہیں۔ جن میں سے ایک کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہے اور اس کی عمر تین برس ہے جب کہ دوسرا ایک شامی مہاجر ہے، جو لبنان میں اپنی والدہ کے ساتھ پناہ گزین ہے اور اس کی عمر تیرہ برس ہے۔
کشمیری بچے کا قصہ دو دن پرانا ہے جب کہ شامی بچے کی کہانی دو سال پرانی ہے۔ لیکن دنیا والوں کو یہ دونوں واقعات ایک ہی وقت یعنی جولائی 2020 ء کے آغاز میں معلوم ہوئے۔ دونوں کی کہانی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز کے ذریعے لوگوں کو پتہ چلی۔ ایک کی ویڈیو نے اردو بولنے والوں کا کلیجہ چھلنی کیا۔ دوسرے کی ویڈیو سے عربی جاننے والوں کا جگر لخت لخت ہوا۔ میری بد نصیبی کہ مجھے دونوں کا کرب اور الم سہنا پڑا۔
Read more