شہباز گل کو عہدے سے ہٹائے جانے کی چار وجوہات سامنے آ گئیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعلیٰ پنجاب کے سابق ترجمان ڈاکٹر شہباز گل کے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے سے خود استعفیٰ نہیں دیا بلکہ انہیں عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے آج دوپہر کو عمرہ پر روانگی سے قبل اپنے سیکرٹری کو حکم دے دیا تھا کہ شہباز گل کو عہدے سے ہٹا دیا جائے۔ شہباز گل کو جیسے ہی یہ بات پتا چلی تو انہوں نے ٹائم مانگا اور کہا کہ انہیں عہدے سے ہٹایا نہ جائے بلکہ اتنا ٹائم دیا جائے کہ وہ استعفیٰ دے کر باعزت طریقے سے رخصت ہوں۔

اول: ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے ڈاکٹر شہباز گل کو ہٹانے کا فیصلہ ضرورت سے زیادہ خود نمائی کرنے اور وزیر اعلیٰ سے زیادہ اپنی ذات کو نمایاں کرنے پر ہٹایا ہے۔ شہباز گل کو بیورو کریسی اور صوبائی وزرا کی مخالفت کا بھی سامنا تھا اور فیاض الحسن چوہان سمیت متعدد صوبائی وزرا کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو بار ہا کہا گیا تھا کہ ڈاکٹر شہباز گل ان کی وزارت میں مداخلت کر رہے ہیں۔

دوم: 11 ستمبر کو محکمہ تعلقات عامہ میں اپنی پریس کانفرنس میں شہباز گل نے پی ٹی آئی کے رہنماﺅں کے بارے میں جو باتیں کہیں اس کے بعد صوبائی وزرا نے سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا ۔ خیال رہے کہ ڈاکٹر شہباز گل نے اپنی اس پریس کانفرنس میں یہ کہا تھا کہ جنہیں عثمان بزدار کی شکل پسند نہیں ہے وہ پی ٹی آئی چھوڑ کر جا سکتے ہیں۔

سوم: ڈاکٹر شہباز گل کو عہدے سے ہٹائے جانے کی ایک وجہ وزیر اعلیٰ کی مرضی کے بغیر سرکاری محکموں میں چھاپوں کے اختیارات غیر قانونی طریقے سے حاصل کرنا تھا۔ ڈاکٹر شہباز گل نے وزیر اعلیٰ کے علم میں لائے بغیر سرکاری محکموں پر چھاپوں کا اختیار حاصل کیا جس پر وزیر اعلیٰ کے سیکرٹری ڈاکٹر راحیل کو پہلے ہی عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

چہارم: ڈاکٹر شہباز نجی محفلوں میں اپنا سیاسی کردار بڑھانے کی باتیں بھی کیا کرتے تھے ۔ بعض نجی محفلوں میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ مجھے موقع ملا ہے تو میں اپنا سیاسی کیریئر بنا رہا ہوں۔‘ ان کے اس بیان کی وزیر اعلیٰ کو بھنک پڑ گئی تھی جس کی وجہ سے انہیں عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔

دوسری طرف ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ ان کے استعفیٰ دینے کے بعد وجوہات کے بارے میں طرح طرح کی چہ میگوئیاں اور پراپیگنڈا کیا جارہا ہے۔ ’دوستوں سے گزارش ہے کہ افواہوں پر دھیان نہ دیں، میں نے اپنی پارٹی اور لیڈرشپ کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا، میں پہلے بھی اپنے لیڈر اور پارٹی ڈسپلن کا پابند تھا، اب بھی ہوں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •