یار! دیکھو کیا کمال کا پیس ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”یار دیکھو کیا کمال کا پیس ہے۔“

میں پارک میں پتھر کی بنچ پر بیٹھا دنیا کی بے ثباتی پر غور و فکر کر رہا تھا جب اس جملے نے میری سماعت تک رسائی حاصل کی۔ دو نوجوان مجھ سے محض چند فٹ کے فاصلے پر براجمان تھے اور آس پاس سے یکسر بے خبر دکھائی دیتے تھے۔ وہ وضع قطع اور چہرے مہرے سے کالج کے سٹوڈنٹس لگ رہے تھے۔ ایک اپنے موبائل میں موجود تصویر دوسرے کو دکھا رہا تھا۔ دوسرے نے سر ہلاتے ہوئے اس کے انتخاب کی داد دی۔

”تو پھر کیا ارداہ ہے؟ کیا یہی ہماری بھابی بنے گی؟“
”ابے نہیں یار! کچھ دن عیش کریں گے پھر دوسری ڈھونڈ لیں گے۔“
اس کے بعد وہ دونوں ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے زور سے ہنسنے لگے۔

میں اس لڑکی کی تصویر تو نہیں دیکھ سکا لیکن چشم تصور سے میں نے ایک ٹین ایجر لڑکی کو گھٹنوں میں سر دیے روتے ہوئے دیکھا جس کے لمبے بال اس کے چہرے کو چھپائے ہوئے تھے اور جسم ہچکیوں سے لرز رہا تھا۔ میں سوچنے لگا کہ اس لڑکی کا قصور کیا ہے؟ عہدِ شباب میں قدم رکھنے کے بعد صنفِ مخالف میں کشش محسوس کرنا ایک فطری عمل ہے۔ یقیناً اس لڑکے نے اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر جال پھینکا ہو گا۔ وہ اس فریب کو محبت سمجھی ہو گی اور اس مکھی کی طرح پھنس گئی ہو گی جسے ایک مکڑے نے اپنی چکنی چپڑی باتوں سے بہلا پھسلا کر شکار کیا تھا۔

اس لڑکے کے چہرے پر ایسے مذموم خیالات پر نہ کوئی شرمندگی تھی، نہ پشیمانی اور نہ ہی ندامت کا کوئی پہلو۔ ہمارے سماج میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ گلیوں، محلوں، چھتوں اور چوباروں پر ایسی جعلی محبتیں ہر روز جنم لیتی ہیں۔ ثقہ بزرگوں سے اس موضوع پر بات کی جائے تو وہ انٹر نیٹ، میڈیا اور موبائل فون کو ذمہ دار ٹھہرا کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔

کیا واقعی آپ اس مفروضے کو درست مانتے ہیں۔ تو پھر آپ کیا چاہتے ہیں؟ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہم سفرِ معکوس کر کے پتھر کے عہد میں چلے جائیں؟ اخبارات، ٹی وی، سینما اور کمپیوٹر کو اپنی زندگیوں سے بے دخل کر دیں؟ سمارٹ فون اور انٹر نیٹ سے کنارہ کشی اختیار کر لیں؟ لڑکیوں کو گھروں میں قید کر دیں اور ان پر تعلیم کے دروازے بھی بند کر دیں کہ حصول علم کے لیے بھی گھر سے نکلنا پڑتا ہے۔

اگر اس کے باوجود ایسے واقعات رونما ہوں تو پھر کس پر الزام دھریے گا؟

اول تو ایسی پست ذہنیت پر رسماً ماتم ضروری ہے جو عورت کو ”سیکس ڈول“ سے بڑھ کر کچھ بھی سمجھنے کو تیار نہیں ہے۔ سوچ، خیالات اور نظریات کسی عمل کو بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ اگر خیالات ہی پرا گندہ ہوں تو کسی پوتر عمل کی توقع رکھنا عبث ہے۔

اگر کسی فرد کے دل میں اپنے بھڑکتے ہوئے جذبات کے جوالا مکھی کو سرد کرنے کی تمنا مچل رہی ہو یا اس کی جنسی اشتہا بے قابو ہو رہی ہو تو چند سکوں کے عوض کسی پیشہ ور کی خدمات لینا کہیں بہتر ہے جو بہ رضا و رغبت یہ کام سر انجام دے سکتی ہے۔ اس کے بجائے کسی کم سن لڑکی کے احساسات اور جذبات سے کھیلتے ہوئے، اسے دھوکا دے کر اپنے مذموم مقاصد پورے کرنا گھٹیا پن، بد اخلاقی اور قابلِ تعزیر جرم ہے۔

جس طرح وہ نوجوان ایک لڑکی کو اپنی جھوٹی محبت کے جال میں پھانس کر اپنے نام نہاد دوست سے داد طلب کر رہا تھا اسی طرح اپنے مقصد میں کامیابی کے بعد وہ یقیناً اتراتے ہوئے اپنے کارنامے پر کسی تمغے کا طلبگار ہو گا۔ اس کے بعد ایک ماہر شکاری کی طرح داستانیں سنائے گا کہ یہ میرا پانچواں شکار ہے اور چھٹا بس جال میں آنے والا ہے۔

ٹیکنالوجی سے خائف لوگ اسی ٹیکنالوجی کو اپنی طاقت بھی تو بنا سکتے ہیں۔ اگر بے راہرو نوجوان اس ٹیکنالوجی سے واردات کرتے ہیں تو اسی ٹیکنالوجی سے انہیں پکڑا بھی جا سکتا ہے۔ مگر اس سے کہیں زیادہ اہم ہے ایسے مسائل کو پیدا ہونے سے روکنا۔

یہ وہ پہلو ہے جس پر سب سے کم دھیان دیا جاتا ہے۔ بچے کی تربیت کو اہمیت دینا از بس ضروری ہے۔ ایک طبقہ بچوں کو ملازمین کے حوالے کر کے مطمئن ہو جاتا ہے اور دوسرے طبقے کو محض تعداد بڑھانے سے غرض ہوتی ہے۔ وہ ہر بچے کی پیدائش پر مٹھائیاں تقسیم کرنے کے بعد آنے والے بچے کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔

وہ کبھی یہ دیکھنے کی زحمت نہیں کرتے کہ ان کے بڑھتے ہوئے بچے کس ڈگر پر چل رہے ہیں، ان کے دوست کیسے ہیں؟ ان کی دلچسپیاں کیا ہیں؟ تربیت کے نام پر ان کے پاس ایک ہی ہتھیار ہوتا ہے؛ پابندی۔ لڑکیوں پر اظہار کی پابندی، باہر نکلنے پر پابندی، سوال کرنے پر پابندی، ہنسنے پر پابندی، حتیٰ کہ سوچنے پر پابندی اورلڑکوں پر رقص، موسیقی، مصوری، رسائل، تھیٹر، سینما، انٹر نیٹ بند کر کے یہ تصور کیا جاتا ہے کہ وہ نیک اور صالح بن جائیں گے۔

ایسے اقدامات بغاوت کو جنم دیتے ہیں۔ فرسٹریشن اور گھٹن کا شکار نوجوان پاکباز کیسے بن سکتا ہے۔ ایسا نوجوان کسی دن کسی پارک میں اپنے جیسے ہی کسی دوست کو کسی لڑکی کی تصویر دکھا کر کہتا ہے، ”دیکھو یار! کیا کمال کا پیس ہے۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •