افغانستان، گلے میں پھنسی ہڈی نہ بن جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخ جب کروٹ بدل رہی ہوتی ہے تو ہر کس وناکس کو اس کا احساس نہیں ہوتا بلکہ جو ہورہا ہوتا ہے اس کو عام افراد ایک معمول کی سرگزشت کے طور پر دیکھ رہے ہوتے ہیں مگر اہل دانش لمحہ لمحہ کی بدلتی صورت حال کے صدیوں تلک موجود رہنے والے اثرات پر نگاہ مرکوذ رکھتے ہیں اور بسا اوقات اہل دانش طالبعلموں سے اس لمحہ لمحہ کی کہانی پر رائے دینی کی فرمائش بھی کر ڈالتے ہیں مجھے بھی کچھ اسی نوعیت کی کیفیت کا سامنا کرنا پڑا، گزشتہ سے پیوستہ ماہ میں چین اور امریکہ کے دوروں میں وقت گزرا اور اب مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ کی جانب سے ان دوروں پر میرے تاثرات بیان کرنے کی مجھے دعوت دی۔

برادر بزرگ رؤف طاہر، پروفیسر شفیق جالندھری، تاثیر مصطفی، ڈاکٹر امجد مگسی، پروفیسر سردار اصغر، کامران الطاف قریشی، اسلامیہ کالج کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ پروفیسر سرفراز علی اور دیگر احباب وہاں موجود تھے۔ اپنی گزارشات کا آغاز میں نے امریکہ اور پاکستان سے تعلقات کی موجودہ نوعیت سے کیا، ماضی کو تو ہم سب ہی جانتے ہیں بلکہ اب تو ٹرمپ کے ثالثی کے شوشے کے بعد سے ہی پلوں کے نیچے سے بہت پانی گزر چکا ہے اور اس شوشے سے جو فائدہ پاکستان کی موجودہ حکومت نے جو اٹھانا تھا وہ اٹھا لیا اور بدقسمتی سے جو فائدہ بھارت نے کشمیر میں اٹھانا تھا اٹھا ڈالا۔

ان دونوں واقعات کو ذہن میں جگہ دیتے ہوئے یہ اس سوال کا جواب پانا بہت آسان ہے کہ کیا عمران خان کا دورہ واشنگٹن کامیاب رہا؟ خاص طور پر کشمیر کے حوالے سے اس بیان کے بعد کے دنیا میں کوئی ہمارا ساتھ دے نہ دے، پاکستان کی سفارتی دنیا میں تنہائی اور امریکہ سے تعلقات کی ہر قلعی کھل کر سامنے آگئی۔ معاشی طور پر انحطاط پذیر پاکستان کی حالت اطمینان بخش قرار نہیں دی جا سکتی ہے۔

ایسی صورت میں امریکہ سے تعلقات ماسوائے اس کے کہ آپ ٹرمپ کو انتخابات میں کامیابی دلانے کی غرض سے اس کی ہر بات پر آمنا و صدقنا کہہ دیں اور جیسے مودی کو ابھی نندن کو فوراً رہا کرکے بھارت میں ایک سٹرانگ مین کے تصور کے ساتھ کامیابی دلائی، کامیابی دلا دی جائے تو اور بات ہے ورنہ پاکستان کی موجودہ حکومت میں یہ صلاحیت موجود نہیں کہ وہ موجودہ کمزور پچ پر عمدہ کارکردگی کا مظاہر کر سکے، اور اسی وجہ سے اس وقت کشمیر اور افغانستان میں ہماری جو ضروریات ہیں اسے صرف نظر کرنے کا موقع ٹرمپ انتظامیہ کو بخوبی حاصل ہوا ہے۔

ہم از خود جشن مناتے رہے تھے افغانستان میں ہم نے بھارت کو پیچھے دھکیل دیا تو اور بات ہے ورنہ حقیقت کا ادراک کرنے کی غرض سے ہمیں اس پر نظر رکھنی چاہیے کہ ہم خود افغانستان میں کہاں کھڑے صرف پاک افغان سرحدوں پر بڑھتے داعش کے اثرات ہی اس کا واضح مگر پریشان کن جواب ہے۔ امریکہ کی افغانستان سے رخصتی کی دیر ہے یہ عفریت سب کچھ کرنے کی غرض سے تیار بیٹھا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جیسے پاکستان سے ڈومور ڈومور کا مطالبہ کیا جاتا ہے اسی طرح پاکستان کم از کم اپنی سرحدوں اور اپنے سے متعلق افغان حالات پر امریکہ سے بھی حقیقی اقدامات پر بات کرے۔

صرف یہ خوش ہونا کہ افغان طالبان کے امریکہ سے مذاکرات شروع ہیں اور دیگر معاملات پر نظر نہ رکھنا حد درجے غیر ذمہ داری ہو گی کہ جس کو پھر کوئی تیس چالیس سال بعد کہے گا کہ میرے پیش روؤں سے اس وقت منصوبہ بندی صریحاً غلط ہو گئی امریکیوں سے بات کی تو محسوس ہوا کہ ان کو بہت خوشی کا احساس ہے کہ وہ پاکستان سے جو منوانا چاہیں گے منوا لیں گے، اور پاکستان کی جس ضرورت کو نظر اندا ز کرنا چاہیں گے کر ڈالیں گے، کشمیر پر کسی ایسی حمایت کی قطعاً توقع نہیں رکھی جانی چاہیے جو چاہے انسانی حقوق کی بنیاد پر ہی نہ ہو۔

تحمل رکھنے کا بھاشن ضرور دیا جارہا ہے اور دیاجاتا رہے گا اور خیال رہے کہ یہ بھاشن کو وہ بھارت کے لیے زیادہ اہم سمجھتے ہیں کیونکہ بدمستی کے عالم میں بھارت سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ آزاد کشمیر پر اس حد تک حالات خراب کر دے کہ معاملہ صرف ایل او سی تک محدود نہ رہے اور اس حد تک خرابی امریکہ کے مفاد میں نہیں سووہ اس حد تک معاملات جانے بھی نہیں دے گا لیکن بس اس حد تک ہی روکے گا۔

چین اور امریکہ دونوں میں بڑھتی باہمی تجارتی جنگ پر ایک بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ جہاں امریکہ تجارتی حوالے سے چین کو محدود رکھنا چاہتا ہے وہیں پر وہ معاملات کو اس حد تک خراب نہیں کرنا چاہتا کہ چین کی معیشت سے وابستہ اس کے اپنے مفادات بھی خطرے کے زون میں چلے جائیں اسی طرح چین اس بڑھتی تجارتی جنگ کو جلد از جلد کسی تصفیے پر لے کر جانا چاہتا ہے اور چین کے بڑھتے تجارتی قدم روکنے کے لیے ہی سی پیک کی راہ میں بھی روڑے اتنے اٹکا دیے گئے ہیں کہ بہت سارے سوالیہ نشان لگ گئے لیکن ایسا بھی نہیں کہ کھیل ختم ہونے کی حتمی سیٹی بج گئی ہو۔

چین بھی اپنے منصوبے سی پیک کو بچانے کے لیے مقابلہ کرنے کے واسطے ڈنڈ بیٹھکیں لگانا شروع کر چکا ہے اور صرف چند ماہ میں ہی اس کے اثرات نظر آنا شروع ہو جائیں گے، سوال وجواب کے مرحلے پر ایک افسوس کا مرحلہ بھی آیا میں نے ایک سوال کے جواب کے طور پر عرض کیا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی مکمل وزیر خارجہ صرف اپنے اقتدار کو آخری تین ماہ میں رکھا اوریہ ان کا حق تھا کہ وہ اپنی کابینہ کی تشکیل جیسے مناسب سمجھتے ویسے کرتے، مگر شعبہ تعلیم سے وابستہ دو افراد جن میں ایک سابق وائس چانسلر اور دوسرے ریٹائرڈ پرنسپل تھے بضد ہو گئے کہ نہیں عزیز احمد ان کے پورے دور میں مکمل وزیر خارجہ رہے حالانکہ عزیز احمد آخری تین ماہ تو مکمل وزیر خارجہ رہے لیکن اس سے قبل ان کے پاس وزیر مملکت برائے خارجہ ودفاع کا عہدہ تھا۔ اور ذوالفقار علی بھٹو کے پاس ہی وزارت خارجہ کا قلمدان بھی تھا۔ اس سطح کے لوگوں کی حقائق سے ناواقفیت دیکھ کر اندازہ ہوا ہے کہ ہمارے طلبہ پیچھے کیوں رہ گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •